تو مانگنے والا ہے ، تیرے ساتھ شادی کیسے کرلوں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کی بیگم بلقیس ایدھی کو ان سے ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ وہ گھر کو وقت نہیں دیتے تھے۔دو سال قبل جب تھر میں قحط سالی کی وجہ سے مور مرنے لگے تھے تو ایدھی ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ ننگرپارکر پہنچ گئے تھے اور تب بلقیس ایدھی نے

نامور صحافی ریاض سہیل بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک ملاقات میں کہا تھا کہ ’ کمزوری کی وجہ سے اپنی ٹانگوں پر کھڑے نہیں ہو سکتے لیکن موروں کو بچانے چل دیے۔‘ جب ایدھی نے نومولود بچوں کے لیے ایدھی سینٹرز میں جھولے لگائے تو ان بچوں کی ذمہ داری بلقیس ایدھی نے ہی سنبھالی تھی۔بلقیس ایدھی بتاتی ہیں کہ ایدھی کی شادی ان کی ہم عمر خاتون سے طے ہوئی تھی، وہ بھی ان کے ساتھ کام کرتی تھیں لیکن عین وقت پر انھوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ’تو فقیر ہے میں تیرے سے شادی نہیں کروں گی۔‘بلقیس کے مطابق اس کے بعد انھوں نے ایدھی کا رشتہ مانگا ’اس طرح دو فقیر مل گئے تو خدا نے بادشاہ بنا دیا۔‘بلقیس ایدھی کے مطابق ایدھی جب ناراض ہوتے تو کھانا نہیں کھاتے تھے اور بڑے ضدی تھے وہ بڑی مشکل سے انھیں مناتی تھیں۔ ’والدہ نے نصیحت کی تھی کہ یا تو کسی کے بن جاؤ یا کسی تو کو اپنالو۔یہ بننے والا بندہ تو تھا نہیں ، اس لیے میں نے ہی اپنا لو اور اس کی تین باتوں معاف کرو، درگذر کرو اور اللہ پر بھروسہ کرو نے جوڑے رکھا۔‘بلقیس ایدھی کے مطابق اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے ایدھی گھر کو بہت کم وقت دیتے تھے، ’ایک مرتبہ وہ اندرون سندھ میت چھوڑنے گئے ہم بھی ایمبولینس میں سوار ہوگئے میت چھوڑنے کے بعد ایک جگہ رکے جہاں نہر تھی وہاں لوگوں نے کھانا کھلایا اور ہم نے پکنک منائی۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *