تہلکہ خیز انکشاف : تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اوگرا نے کیا اور نہ اس نے سمری بھیجی ۔۔راتوں رات کا یہ کارنامہ کن دانشوڑوں کا نکلا ؟ اوریا مقبول جان نے اصلیت بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اسی پٹرول کی کمیابی اور نایابی کو بنیاد بنا کر پاکستان کے ’’مغرب پلٹ‘‘ عظیم معاشی ماہرین جنہیں عمران خان نے دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں سے درآمد کیا ہے، انہوں نے پاکستانی ’’اعلیٰ دماغ‘‘ بیوروکریٹس سے مل کر راتوں رات ایک سمری

کے ذریعے عمران خان صاحب وزیرِاعظم پاکستان سے تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کروایا اور اتنا بھی انتظار نہ کیا کہ اوگرا جو قانونی طور پر سمری بھیجنے کا مجاز ہے اسی سے ہی سمری منگوالی جائے۔ خان صاحب کو ان عالی دماغ ’’بیرونی معیشت دانوں‘‘ اور ’’شاطر بیوروکریٹس‘‘ نے یہ منطق دی کہ چونکہ حکومت نے کچھ عرصہ پہلے لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کردی تھیں لیکن ہمارے برعکس افغانستان اور بھارت میں پٹرول کی قیمتیں ہم سے زیادہ ہیں، اس لئیے منافع خورسمگلر پاکستان سے دھڑادھڑ سستا تیل خرید کر افغانستان اور بھارت سمگل کر رہے ہیں جس سے ملک میں پیٹرول کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس مسئلے کا فوری حل یہ ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھادی جائیں۔ جب سمگلنگ میں منافع ہی نہیں ہو گا تو کون پاگل سمگلنگ کرے گا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ ان لوگوں نے باقاعدہ اعدادوشمار پیش کئے کہ دیکھو پشاور میں مئی اور جون میں پٹرول کی ڈیمانڈ کتنی بڑھ گئی ہے۔ یہ سارا تیل افغانستان سمگل ہو رہا ہے۔ اسلئے فوراً قیمتیں بڑھادو تاکہ سمگلنگ بھی رک جائے اور ملک میں پٹرول کی کمی بھی ختم ہو جائے۔ ایک تیر دو شکار۔ عمران خان صاحب کو اپنے ’’مغرب پلٹ‘‘ ’’مشیروں‘‘ اور ’’بیوروکریٹ‘‘ سے پلٹ کر یہ سوال کرنا چاہئے تھا کہ یہ جو پاکستان میں درجن بھر ایجنسیاں سمگلنگ کی روک تھام کے لئیے ہیں، کسٹم، رینجرز، ایف سی، ملشیا، لیویز اور ایف آئی اے وغیرہ یہ سب کیا کر رہی ہیں، ان سب کو فارغ کر دیتے ہیں۔ اگر سمگلنگ روکنے کا حل قیمتیں بڑھانا ہے تو پھر کل سے ملک میں گندم، چاول، کھاد، کپڑا، چینی سب کی قیمتیں دوگنی چوگنی کر دیتے ہیں، سمگلنگ خودبخود رک جائے گی اور مال بھی ملک میں رہے گا۔ ایسی منطق اور ایسی دلیل کس بلا کی جہالت کی آئینہ دار ہے لیکن اس کے ماننے والوں کی نا اہلی کا بھی جواب نہیں۔ جس زمانے میںہم یونیورسٹی میں سوشل پالیسی اور پلاننگ پڑھا کرتے تھے تو کتابیں ہمیں ایک بنیادی سبق سکھاتی تھیں کہ ملکوں کی تقدیربدلنے کے لئیے کرشماتی (Chrismatic) لیڈر پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ ایسے لیڈر اپنے آپ کو اسقدر پسند کرتے ہیں کہ کانوں سے بہرے اور آنکھوں سے اندھے ہو چکے ہوتے ہیں۔ ان کی ایک جیب میں مسائل کی فہرست ہوتی ہے اور دوسری جیب میں ان کے حل کی فہرست۔ جو کوئی ان کی فہرست کے مطابق مسائل بتائے گا اور ان کے دماغ میں پہلے سے موجود حل ہی تجویز کرے گا تو وہی انہیں اچھا لگے گا، وہی ان کی آنکھ کا تارا ہو گا، ان کا مشیر ہو گا۔ کرشماتی لیڈر کی جہالت اور نا اہلی اس لئیے بھی خطرناک ہوتی ہے کہ وہ اپنی جہالت کو علم اور اپنی نا اہلی کو مہارت سمجھتا ہے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.