تہلکہ خیز انکشاف : کورونا وائرس کا الزام چین پر مگر دراصل امریکہ میں یہ جان لیوا وائرس کیسے پھیلا ؟ بی بی سی نے اصل کہانی دنیا کے سامنے رکھ دی

واشنگٹن (ویب ڈیسک) نامور خاتون صحافی جیسکا لیسن ہوپ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی اتنی بڑی تعداد ساؤتھ ڈکوٹا کے ایک چھوٹے سے کونے سے کیسے سامنے آئی؟ پورک (خنزیر) پراسیسنگ فیکٹری میں انفیکشن کیسے پھیلی اور ایسے کئی سوالات کے جواب

ابھی ملنا باقی ہیں جیسا کہ کمپنی نے عملے کے تحفظ کے لیے کیا کیا؟25 مارچ کی دوپہر، جولیا نےاپنا لیپ ٹاپ کھولا اورایک جعلی فیس بک اکاؤنٹ پر لاگ اِن ہو گئیں۔ انھوں نے یہ اکاؤنٹ مڈل سکول میں بنایا تھا تاکہ خفیہ طور پر اپنے پسندیدہ لڑکوں پر نظر رکھ سکیں۔لیکن اب اتنے سال بعد یہ اکاؤنٹ ایک بہت سنجیدہ مقصد کی تکمیل میں ان کی مدد کرنے والا تھا۔جولیا نے مقامی اخبار ’ارگس لیڈر‘ کے فیس بک اکاؤنٹ ’ارگس 911‘ کو اپنے اکاؤنٹ سے یہ پیغام بھیجا ’براہ مہربانی کیا آپ پتہ کر سکتے ہیں کہ سمتھ فیلڈ میں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں ایک شخص میں کووِڈ 19 کی تصدیق ہوئی ہے لیکن وہ پھر بھی سمتھ فیلڈ کو کھلا رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘’سمتھ فیلڈ‘ سے جولیا کا مطلب سمتھ فیلڈ فوڈز کا پورک پروسیسنگ پلانٹ تھا جو ان کے قصبے سُو فالز (جنوبی ڈکوٹا) میں واقع ہے۔بگ سُو دریا کے کنارے ایک وسیع و عریض آٹھ منزلہ سفید عمارت میں بنی یہ فیکٹری امریکہ میں نویں سب سے بڑی ایسی سہولت ہے جہاں خنزیر کے گوشت سے مختلف اشیا بنائی جاتی ہیں۔ عام دنوں میں یہاں روزانہ 19500 خنزیروں کو ٹکڑوں میں کاٹ کر ان کا قیمہ، ہاٹ ڈاگز، بیکن اور ہیم بنائے جاتے ہیں۔اس فیکٹری میں 3700 ملازمین کام کرتے ہیں اور یہ شہر میں روزگار فراہم کرنے والا چوتھا بڑا مرکز ہے۔آرگس 19 اکاؤنٹ نے جواب میں جولیا کو لکھا ’ٹِپ کے لیے آپ کا شکریہ۔ جس ملازم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا، وہ کیا کام کرتے ہیں؟‘جولیا نے لکھا ’مجھے معلوم نہیں ہے۔

‘آرگس نے جواب دیا ’اچھا، شکریہ۔ ہم آپ سے پھر رابطہ کریں گے۔‘اگلے دن صبح 7:35 پر ارگس لیڈر نے اپنی ویب سائٹ پر یہ کہانی شائع کی ’سمتھ فیلڈ فوڈز کے ملازم میں کورونا وائرس کی تصدیق۔‘رپورٹر نے کمپنی کے ترجمان کے ذریعے تصدیق کی کہ واقعتاً ایک ملازم میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی تھی اور انھیں 14 دن کے قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔کمپنی کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ اس ملازم کے کام کی جگہ اور دیگر جگہوں کو ’اچھی طرح سے جراثیم سے پاک کر دیا گیا تھا‘، لیکن یہ پلانٹ جسے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ’انفراسٹرکچر انڈسٹری کا اہم حصہ‘ سمجھا جاتا ہے، مکمل طور پر چلتا رہے گا۔فیکٹری کو کھلا رکھنے کے فیصلے کی وضاحت کے لیے 19 مارچ کو جاری کردہ ایک آن لائن ویڈیو بیان میں سمتھ فیلڈ کے سی ای او کینتھ سلیون کا کہنا تھا کہ ’کھانا ہماری زندگی کا ایک لازمی جزو ہے اور 40 ہزار افراد پر مشتمل ہماری امریکی ٹیم کے اراکین، ہزاروں امریکی کسان خاندان اور ہماری سپلائی چین کے بہت سارے دوسرے شراکت دار۔۔۔ یہ سب کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے ہماری قوم کے ردعمل کا ایک اہم حصہ ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا ’ہم اپنے ملازمین اور خریداروں کی صحت و تندرستی کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔‘لیکن جولیا گھبرا گئیں۔یہ بات یاد کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ ’اس سے پہلے بھی افواہیں آتی رہی ہیں۔ میں نے خاص طور پر سمتھ فیلڈ کے لوگوں کے ہسپتال داخل ہونے کے بارے میں سنا ہے۔

‘جولیا فیکٹری میں کام نہیں کرتیں۔ ان کی عمر 20 اور 30 سال کے درمیان ہے اور یونیورسٹی جاتی ہیں۔ کووڈ 19 کے کی وجہ سے یونیورسٹی بند ہونے کے سبب وہ گھر پر ہیں۔ ان کے والدین طویل عرصے سے سمتھ فیلڈ میں ملازمت کرتے ہیں اور وہ اپنے والدین کے بہت قریب ہیں۔ جولیا کے والدین نے انھیں بتایا کہ ان دنوں فیکٹری میں کیا ہو رہا ہے۔جولیا فیکٹری ملازمین کے بالغ بچوں میں سے ایک ہیں۔ ان میں سے بہت سے تارکین وطن افراد کی پہلی نسل ہیں اور کئی خود کو سمتھ فیلڈ کے بچے کہتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے اس وبا کے پھیلاؤ پر بات کرنے کی ٹھانی ہے۔جولیا بتاتی ہیں ’میرے والدین انگریزی نہیں جانتے۔ وہ اپنی وکالت نہیں کر سکتے ہیں۔ کسی کو ان کے لیے آواز اٹھانا ہو گی۔‘سو فالز میں موجود کئی دوسرے خاندانوں کی طرح جولیا کے خاندان نے بھی خود کو بیماری سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ سال کی جتنی چھٹیاں رہتی تھیں وہ انھوں نے گھر رہنے کے لیے استعمال کیں۔ کام سے آنے کے بعد وہ اپنے جوتے باہر اتارتے اور سیدھے نہانے کے لیے جاتے، سر اور ناک ڈھانپنے کے لیے جولیا ان کے لیے والمارٹ سٹور سے حفاظتی سامان خرید کر لائی تھیں۔سب کو صحتمند رکھنے کے لیے جولیا نے میڈیا کو آگاہ کرنے کا سوچا تاکہ عوامی دباؤ کے ذریعے وہ پلانٹ کو بند کروا کے والدین کو گھر پر رکھ سکیں۔لیکن اس سب کے برعکس اگلے تین ہفتے انتہائی پریشانی اور اضطراب کی کیفیت میں گزرے۔

ان کی والدہ اور والد نوکری کھونے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ اس لیے وہ دونوں مسلسل تین ہفتوں تک ایک ایسی فیکٹری جا کر کام کرتے رہے جس کے بارے میں انھیں علم تھا کہ یہاں وائرس موجود ہو سکتا ہے۔وہ پروڈکشن لائنوں پر اپنے ساتھیوں سے ایک فٹ سے بھی کم فاصلے پر کھڑے ہو کر کام کرتے تھے۔ ملازمین سے بھرے لاکر روم، چلنے کی جگہوں اور کیفیٹیریا وغیرہ ہر جگہ سے ان کا گزر ہوتا۔اس دوران سمتھ فیلڈ کے ملازمین میں کوورنا وائرس سے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 80 سے 190 اور پھر 238 تک جا پہنچی۔15 اپریل کو جب سمتھ فیلڈ بالآخر ساؤتھ ڈکوٹا کے گورنر آفس کے دباؤ پر بند ہوا اس وقت تک یہ پلانٹ امریکہ میں کوورنا وائرس کا نمبر ون ہاٹ سپاٹ بن چکا تھا۔ سمتھ فیلڈ کے ملازمین اور ان کے ذریعے کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کی تعداد 644 تک جا پہنچی تھی۔مجموعی طور پر ریاست میں سمتھ فیلڈ سے وابستہ انفیکشن 55 فیصد ہیں اور یہ تعداد زیادہ آبادی والی پڑوسی ریاستوں سے کہیں زیادہ ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق سمتھ فیلڈ فوڈز کیسز کی تعداد یو ایس ایس تھیوڈور روز ویلٹ بحری جہاز اور الیونائس کے شکاگو میں کوک کاؤنٹی جیل سے آگے نکل گئی ہے۔یہ اعدادوشمار ہسپتال میں سمتھ فیلڈ کے پہلے ملازم کی وفات کے ایک دن بعد جاری کیے گئے تھے۔ اس ملازم کی اہلیہ انجیلیٹا نے بی بی سی کو ہسپانوی زبان میں بتایا ’انھیں وہیں سے یہ وائرس لگا تھا۔ اس سے قبل وہ بہت صحتمند تھے۔‘انجیلیٹا کا یہ بھی کہنا تھا ’

مرنے والوں میں صرف میرے شوہر ہی نہیں اور بھی کئی لوگ ہوں گے۔‘ریپبلکن لیڈر شپ کے زیر قیادت یہ ریاست ان پانچ امریکی ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں کسی طرح کی پناہ گاہ تعمیر کرنے کا حکم نہیں جاری کیا گیا۔کورونا وائرس کی عالمی وبا نے اس ریاست میں موجود معاشرتی تفریق کا پردہ چاک کر دیا ہے۔جہاں ملک بھر میں بہت سارے سفید پوش تنخواہ دار ملازمین محفوظ پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں اور گھروں سے کام کر رہے ہیں وہیں سمتھ فیلڈ جیسی فوڈ انڈسٹری سے وابستہ ملازمین کو لازمی طور پر خطرناک ماحول میں رہ کر کام کرتے رہنا ہے۔بروکنگز انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ایڈی ٹومر کہتے ہیں ’یہ ملازمتیں پورے امریکہ میں اوسط ملازمت سے کم ادائیگی کرتی ہیں۔لہذا گھرو ں میں مددگار عملہ، کیشیئر وغیرہ ان سب افراد کو بذاتِ خود جا کر کام کرنا پڑتا ہے اور ان ملازمین میں سے زیادہ تر افریقی امریکن یا ہسپانوی نژاد افراد ہیں۔‘سمتھ فیلڈ کے ملازمین کی بڑی تعداد تارکین وطن اور مہاجرین پر مشتمل ہے جو میانمار، ایتھوپیا ،نیپال، کانگو اور ایل سلواڈور جیسے مقامات سے تعلق رکھتے ہیں۔اس پلانٹ میں 80 مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اوسط فی گھنٹہ اجرت کا تخمینہ 14 سے 16 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ یہ گھنٹے لمبے ہیں، کام سخت محنت طلب ہے اور اکثر ایک پروڈکشن لائن پر کھڑے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ دونوں اطراف سے اپنے ساتھی کارکنوں سے ایک فٹ سے بھی کم فاصلے پر ہیں۔بی بی سی نے سمتھ فیلڈ کے نصف درجن سے زیادہ موجودہ اور سابقہ ملازمین سے بات کی جن کا کہنا ہے

کہ وہ ملازمت پر جانے سے ڈرتے تھے اور ملازمت اور صحت میں سے کسی ایک کو چننا ایک ناممکن انتخاب رہا ہے۔ایک 25 سالہ ملازم نے، جن کی اہلیہ آٹھ ماہ کی حاملہ ہیں، بتایا ’مجھے بہت سی ادائیگیاں کرنی ہوتی ہیں۔ میرا بچہ پیدا ہونے والا ہے اس لیے مجھے کام کرنا ہے۔ میں بہت پریشان ہوں کیونکہ اگر میرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو میں اپنی بیوی کو نہیں بچا پاؤں گا۔‘ملک بھر کے فوڈ پروسیسنگ پلانٹس میں کورونا وائرس پھیلنے کی اطلاعات ہیں جس سے امریکہ کی فوڈ سپلائی چین درہم برہم ہو سکتی ہے۔ کولوراڈو میں واقع جے بی ایس کے میٹ پیکنگ پلانٹ کو پانچ ملازمین کی ہلاکت اور 103 تصدیق شدہ کیسز کے بعد بند کرنا پڑا۔ آئیووا میں ٹائسن فوڈز پلانٹ کے دو ملازمین بھی ہلاک ہو گئے جبکہ 148 بیمار ہیں۔سو فالز جیسی گوشت پروسیسنگ کی بڑی سہولت کی بندش، سپلائی چین میں بڑے پیمانے پر خلل ڈالنے کا باعث بنتی ہے۔ سو فالز پلانٹ کو خنزیر فروخت کرنے والے 550 کسانوں کے پاس اب مویشی فروخت کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی۔فیکٹری کی بندش کا اعلان کرتے ہوئے سمتھ فیلڈ کے سی ای او نے گوشت کی فراہمی کے سلسلے میں ’شدید‘ تباہ کن نتائج سے خبردار کیا تھا۔لیکن سمتھ فیلڈ کے ملازمین، ان کی یونین کے نمائندوں اور سو فالز میں تارکین وطن کی برادری کے حامیوں کے مطابق اس پلانٹ کو بند ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔ان کا الزام ہے کہ ابتدائی طور پر حفاظتی سامان کی درخواستوں کو نظرانداز کیا گیا، بیمار کارکنوں کو کام جاری رکھنے کا کہا گیا اور وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق معلومات کو ان تک پہنچنے سے روکا گیا، یہ سب جاننے کے باوجود کہ ان افراد کے خاندان اور دوسرے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔ہسپانوی زبان کے خبر رساں ذرائع کے مطابق کیو پاسا سو فالز کی بانی، نینسی رینزا کا کہنا تھا کہ وہ ہفتہ بھر سے سمتھ فیلڈ کے پریشان حال ملازمین کے متلعق سن رہی ہیں۔ نینسی پوچھتی ہیں ’اگر وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ کمپنی کام کرتی رہے تو پھر یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ یہ کمپنیاں وہ سب کچھ کر رہی ہیں جو انھیں ملازمین کی حفاظت کے لیے کرنا چاہیے؟‘بی بی سی نے اپنے سوالات اور کارکنوں کے الزامات کی ایک تفصیلی فہرست سمتھ فیلڈ کو پیش کی لیکن کمپنی نے انھیں انفرادی معاملات کہتے ہوئے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Comments are closed.