تہلکہ خیز حقائق سامنے آگئے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزیراعظم کے قریبی حلقوں اور کابینہ میں سے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی جب اتوار کی شب وزیراعظم نے انہیں بغیر پارٹی مشاورت کے فارغ کر دیا واقفان حال کا کہنا ہے کہ ان کی صحت خراب تھی انہیں

کرونا ہو چکا تھا جب آدھی رات کو انہیں فون پر اطلاع دی گئی وہ اب ہم میں نہیں ہیں پارٹی قیادت کو اگلے دن میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ حفیظ شیخ کو ہٹا کر ان کی جگہ حماد اظہر کو لایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کو حفیظ شیخ پر دو وجہ سے اعتراض تھا پہلی وجہ تو یہ تھی کہ مہنگائی کا خاتمہ کرنے کی بجائے ان کے دور میں مہنگائی میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔ ٹیکسوں میں جو اضافہ کیا گیا تھا تاجروں نے وہ سارا عوام پر مسلط کر دیا۔ دوسری اہم ترین وجہ سٹیٹ بینک کی خود مختاری میں آئی ایم ایف کی من مانی شرائط کے آگے سرنڈر کرنے کا سارا ملبہ حفیظ شیخ پر ڈال دیا گیا حالانکہ سٹیٹ بینک کی خود مختاری کی حتمی منظوری پارلیمنٹ نے دینی ہے اور اس مرحلے پر بھی اس میں حکومت کے پاس ردو بدل کا موقع موجود ہے۔ میانوالی کے لوگوں میں مرغ بازی بڑا دلچسپ مشغلہ ہے یہ لوگ شوق سے مرغ پالتے ہیں مرغوں کی لڑائی ایک روایت ہے۔ لڑائی کے لیے مرغ پالنے والے کو کوکڑی کہا جاتا ہے ۔ کچھ کوکڑی ایسے ہیں کہ جب میدان میں ان کا مرغ شکست کھا جائے تو اسے اسی میدان میں حلال کر دیا جاتا ہے اور شکست کا غم بھلانے کے لیے اسی مرغ کو پکا کر دعوت کا اہتمام کر لیا جاتا ہے۔ حفیظ شیخ کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ عمران خان نے 22 سال کی جدوجہد کے بعد اقتدار حاصل کیا

اور پاکستان کے 22 ویں وزیر بنے اور ان کے دور میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو 22 واں امدادی پیکیج دیا 22 کے ہند سے کی اہمیت اپنی جگہ مگر انگریزی میں Catch-22 اس صورت حال کو کہتے ہیں کہ بندہ ایسے حالات میں پھنس جائے کہ جہاں سے نہ تو پیچھے ہٹ سکے اور نہ ہی آگے جانے کا کوئی راستہ ہو گویا آگے آگ پیچھے پانی پاکستانی معیشت اس وقت کیچ 22 کی حالت میں ہے۔ اب اصلاح احوال کے لیے شوکت ترین کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے یہ حسن اتفاق ہے کہ وہ بھی پیپلزپارٹی کے دور کے سابق وزیر خزانہ ہیں۔ تحریک انصاف کا سارا پارٹی میٹریل یا تو پیپلزپارٹی سے لایا گیا ہے یا باہر سے امپورٹ کیا گیا ہے جن کی ساری مہارت simulation کے ذریعے ہے جو وہ کمپیوٹر پر دکھا کر بہادری کے جوہر دکھاتے ہیں معیشت کی بہتری کے لیے ہمیں simulation نہیں زمینی تبدیلی دکھانا ہو گی یہ 23 کروڑ زندگیوں کا سوال ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شوکت ترین یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں رہے ہیں اور نیب میں ان پر رینٹل پاور پراجیکٹ میں بدعنوانی کا الزام ہے۔ شوکت ترین نے حکومت کو کہہ دیا ہے کہ جب تک نیب اس مقدمے میں انہیں کلین چٹ نہیں دے گی۔ وہ یہ عہدہ قبول نہیں کریں گے۔ اب اگر آنے والے دنوں میں نیب واقعی ان کی بری کر دیتی ہے تو نیب کی غیر جانبداری کا جواب کون دے گا پہلے ہی اپوزیشن

کے تابڑ توڑ انتقام کے الزامات کی زد میں ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر نیب سے کلیئر ہو کر وہ وزیر خزانہ بن بھی جاتے ہیں تو ان کے پاس کون سا جادو کا چراغ ہے۔ ایف بی آر میں شبر زیدی کی بطور چیئرمین تقرری اور کچھ عرصے بعد رخصتی کو سب جانتے ہیں کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا ۔ حکومت اپنی مدت کا آدھے سے زیادہ حصہ گزار چکی ہے۔ نہ تو ٹیکس اصلاحات نافذ کی گئیں اور نہ ہی ٹیکس Base میں اضافہ ہوا۔ حفیظ شیخ کی رخصتی سے آئی ایم ایف کو شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ وہ عالمی مالیاتی فنڈ کے سب سے بڑے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کے پاس مالیات یا معیشت کا کوئی ماہر نہیں جو بیمار معیشت کا علاج کر سکے۔ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی گود خالی ہے البتہ ن لیگ اقتدار میں آتی ہے تو ان کے پاس اسحاق ڈار ایک in house وزیرخزانہ موجود ہوتا ہے۔ شوکت ترین اپنی آمد میں تاخیر اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ معاملات کا جائزہ لے سکیں۔ حکومت Google کی شرائط وضوابط کی طرح پہلے تو ان کی ہر بات مان لے گی پتہ بعد میں چلے گا کہ جب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔ جہاں تک حفیظ شیخ صاحب کی رخصتی کی بات ہے تو اس کا افسوس آئی ایم ایف کو زیادہ ہے۔ ایک پنجابی لوک گیت یاد آ رہا ہے:نی ماپے تینوں گھٹ رون گے۔بوہے رون گے دلاں دے جانی

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *