تہلکہ خیز حقائق سامنے رکھ دیے گئے

لاہور(ویب ڈیسک) میاں نواز شریف کی واپسی اور عدالت میں سرنڈر کرنے کی خبریں خوب گرم ہیں۔ جھوٹی پیش گوئیاں کرنے والے راولپنڈی کے شیخ نے اپنی کتاب میں اتنے بڑے بڑے جھوٹ بولے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ ساری زندگی مسلم لیگ کی کھٹی کھا کر اقتدار کی راہداریوں میں

گولاٹیاں مارنے والے شیخ نے نئی در فنطنی چھوڑ دی ہےکہ اگر میاں محمد نواز شریف واپس نہ آئے تو مسلم لیگ ن ٹوٹ جائیگی۔نامور خاتون سیاستدان حنا پرویز بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ شیخ صاحب مسلم لیگ ن ٹوٹنا ہوتی تو دو برسوں میں ٹوٹ چکی ہوتی لیکن ایسا نہ ہو سکا لیکن کیا کریں آپ جیسے شیخ ہی اسے توڑنے کے خواب دن میں دیکھ رہے ہیں۔ شیخ صاحب نوٹ کرلیں آج میں دو پیش گوئیاں کررہی ہوں۔ پہلی یہ کہ خدا کے فضل سے مسلم لیگ ن ہرگز نہیں ٹوٹے گی بلکہ میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد پہلے سے زیادہ قوت اور مقبولیت پالے گی یعنی میاں دے نعرے وجنے ای وجنے نیں۔ دوسری پیش گوئی آپ کے بارے میں ہے کہ ان شاء اللہ یہ آپ کا آخری دور ہے، آپ کوئی اور کام دھندا یا کوئی حجرہ ڈھونڈ لیں جہاں بیٹھ کر آپ کو اللہ توبہ کرنی ہے۔ ویسے آپ کو بتاتی چلوں کہ میاں محمد نواز شریف کا نام لیکر آپ روزانہ خبروں میں رہنے کی جو ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں اس پر ایک ہی محاورہ منطبق ہوتا ہے کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی۔ سب کے مشوروں اور نصیحتوں کے باوجود میاں محمد نواز شریف نےبیٹی سمیت ملک میں واپس آنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ تاریخ میں رقم ہو چکا ہےکہ ایک سولین وزیراعظم نے بیوی کو بسترِ مرگ پر چھوڑا اور خود کو قانون کے اس فیصلے کے سامنے سرنگوں کیا جبکہ خود کو طاقتور ترین کہنے والا

دوسروں کو مکے دکھانے والا کمر کی درد کا بہانہ کرکے بھاگ گیا اور کبھی عدالت کے سامنے پیش نہ ہوا۔ کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ میاں محمد نواز شریف سے حکومت چھیننے والوں کیلئے مکافاتِ عمل جلد شروع ہو جائیگا۔ ان دو برسوں میں عوام پر ظلم برپا کرنے پر انہوں نے ظالموں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ عوام پر یہ راسخ ہو گیا ہے کہ یہ مکمل طور پر نااہل ہیں۔ شاید نہیں یقیناً اس کے پیچھے کارفرما میاں محمد نواز شریف کا وہ بیان تھا جو انہوں نے جج کی طرف دیکھ کر دیا۔ دبائو کے تحت فیصلہ سنانے والا جج برطرف ہو چکا ہے لیکن اس جج کا فیصلہ ابھی تک کالعدم قرار نہیں دیا گیا جس سے عوام میں زبردست غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ سیاستدانوں نے بھی ایوان انصاف کے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ جلد ازجلد اس فیصلے پہ نظر ثانی کی جائے۔ جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے میاں محمد نواز شریف کی عوامی مقبولیت کا گراف اوپر جارہا ہے جبکہ عبوری حکمرانوں کا گراف گرتا جارہا ہے، انکے جھوٹوں کا ایسا ریکارڈ بن گیا ہے جسے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا جائیگا اور یہ ریکارڈ کبھی بھی ٹوٹ نہ پائے گا۔ میاں حمزہ شہباز کو بغیر مقدمہ چلائے ڈیڑھ سال سے پابند سلاسل کرکے مسلم لیگ کو کمزور کرنے کی انصافی خواہش تو نہ تو پوری ہو سکی اور نہ ہی شریف خاندان میں اختلافات کی خبریں سچ ثابت ہو سکیں۔ پس منظر میں پنجاب اسپیڈ میاں

شہباز شریف کی سنجیدگی اور زیرک مریم نواز شریف کی عقلمندی ہی کارفرما رہی۔ فن تقریر میں تاک ہونے، باڈی لینگوئج انتہائی پُرکشش اور جملوں کے درست انتخاب میں ملکہ حاصل ہونے کی وجہ عوامی جلسوں میں ان کا خطاب سننے والا ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ مریم نواز شریف عوام میں بڑی تیزی سے مقبول ہورہی ہیں جس کا اندازہ سب کو ہو چکا ہے۔ جھوٹے احتساب کا نعرہ دم توڑ رہا ہے اور اس ادارہ کی جانبداری کا پول کھل گیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ کوئی ثبوت نہ ملنے پر نیب لاہور نے ایل ڈی اے سٹی کیس میں بیورو کریٹ احد چیمہ، ندیم ضیاء سمیت دیگر کیخلاف تمام انکوائریاں بند کرنے کے بعد احد چیمہ کی رہائی کے لئے احتساب عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ نیب نے عدالت کو بتایا کہ احد چیمہ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے۔ سابق ڈی جی ایل ڈی اے اور سابق ڈی سی احد چیمہ کو 21فروری 2018کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد احد چیمہ پر مزید انکوائریاں کھولی گئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ڈھائی سال قید میں رکھنے اور قید و بند کی اذیت کا ازالہ کون کرے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ احتساب کے نعرے اور اس ادارہ کی جانبداری کا پول کھل گیا ہے۔ ماضی میں جب سیلاب، زلزلہ جیسی کوئی قدرتی آفت آجایا کرتی تھی تو بلا امتیاز صوبہ رنگ و نسل پنجاب بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے سب کو راغب کیا کرتا تھا کہ مل کر متاثرین کی امداد کریں پھرعوام پر ایسی نامراد تبدیلی مسلط کی گئی کہ مصیبت میں مدد کرنے کے بجائے چھپ کر بیٹھ گئے اور دوسروں پر تنقید کے اتنے نشتر چلائے کہ یزید بھی شرما جائے۔ کورونا ہو یا سیلاب، مجال ہے کہ ٹائیگر فورس کہیں نظر آئی ہو ہاں البتہ بازاروں میں رشوت مانگتے، وصولتے اور دھمکیاں دیتے پائی گئی۔ یہ اعلان مزید سونے پہ سہاگہ تھا کہ مہنگائی اور آٹے چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے یہ ملوں کو بھی چیک کریں گے۔ جو کام متعلقہ انسپکٹرز اور مجسٹریٹس نہ کروا سکے وہ یہ غیرتربیت یافتہ، غیرتہذیب یافتہ اور پرلے درجے کے بدقماش افراد کروائیں گے۔ فلور ملوں نے تو اعلان کردیا کہ کسی کی بدمعاشی کو نہیں چلنے دیں گے ریکارڈ دکھانا تو دور انہیں ملوں کے اند ر ہی گھسنے نہیں دیں گے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.