تین عورتوں نے ملکہ کو کیا اشارہ دیا تھا جو بعد میں سچ ثابت ہوا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔یہ انسانی فطرت یا کم سے کم اس کہانی کے کرداروں کی فطرت کے خلاف تھا۔ ایک بار پھر اس باب کو بھی استعارتاً ایک کہانی کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے جس میں سوال یہ ہے کہ اخلاقی طور پر

کمزور انسان کو اقتدار منتقل کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے؟کہا جاتا ہے کہ جس رات زبیدہ اپنے بیٹے امین کے ساتھ امید سے ہوئیں انھوں نے خواب دیکھا جس میں تین عورتیں اُن کے پاس آ کر بیٹھ جاتی ہیں اور ان کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بتاتی ہیں کہ ان کا بیٹا کیسا ہو گا۔ ان عورتوں نے بتایا کہ وہ بیکار، دغاباز اور بیوقوف ہو گا۔جس رات امین کی پیدائش ہوئی وہی تینوں خواتین دوبارہ اُن کے خواب میں آئیں اور اپنی پیشینگوئی دہرائی۔ جس رات انھوں نے امین کا دودھ چھڑوایا یہی خواتین آخری بار ان کے خواب میں آئیں اور کہا کہ اس کے عیب اس کے زوال اور موت کا باعث بنیں گے۔نجومیوں کے تمام تر خوش کُن زائچوں اور امین کی اعلیٰ تریبت کے باوجود وہ پیشینگوئیاں درست ثابت ہوئیں۔ اس کہانی کا سبق بتایا جاتا ہے کہ انسانی کردار اس کا نصیب ہوتا ہے۔ لیکن اس کا اس سے الٹ مطلب بھی نکالا جا سکتا ہے کہ اپنے نصیب کا علم انسان کا کردار بنا یا بگاڑ سکتا ہے۔یہ عہد کہ وہ اقتدار اپنے بھائی کو منتقل کریں گے پہلی بار امین سے پانچ برس کی عمر میں لیا گیا تھا، پھر 15 سال کی عمر میں۔ جب 20 برس کی عمر کے کچھ عرصے بعد انھیں اقتدار ملا تو اس عہد کو توڑنے کی منصوبہ بندی کرنے کا انھیں بہت وقت مل چکا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں طاقت حلف کی پابند نہیں تھی۔ قانون کا عمل دخل تو اس سے بھی کم تھا۔ ہر خلیفہ خود طاقت حاصل کرتا اور اسے شکل دیتا تھا۔ تو ہارون نے خود بارمکید کی موجودگی میں اور ان کے بعد طاقت سے کیسے نمٹا؟ ان کے حاصل کرنے کے لیے طاقت تھی کتنی؟انھوں نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے بارمکید خاندان کو ریاست کے معاملات چلانے دیے۔ یعنی انھوں نے اپنے والد سے ورثے میں ملی طاقتور بیوروکریسی کو اپنا کام جاری رکھنے دیا۔لیکن انھوں نے کچھ نئی چیزیں بھی متعارف کروائیں۔ انھوں نے اس خیال کو فروغ دیا کہ خلافت کو اپنے آپ کو ایک مذہبی منصب کے طور پر ثابت کرنا ہے اور انھوں نے اس خیال کو مقبول کرنے کے لیے کام کیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *