تین قانون پاس کروا لو ، تمہارا نیا پاکستان بھی بن جائے گا اور ہمارا معاشرہ بھی امن کا گہوارہ بن جائے گا ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔انسان کی دس ہزار سال کی ریکارڈڈ ہسٹری بتاتی ہے جہالت انسانی معاشرے کی سب سے بڑی بیماری ہوتی ہے اور یہ بیماری پہلے انسان‘ پھر خاندان اور پھر پورے معاشرے کو نگل جاتی ہے‘ معاشرے کی دوسری بڑی بیماری غربت ہوتی ہے

اور تیسری اور آخری بیماری نااہلی ہوتی ہے اور یہ تینوں بیماریاں جب کسی ایک جگہ جمع ہو جاتی ہیں تو پھر انسان بچتے ہیں‘ خاندان اور نہ معاشرے اور ہم بدقسمتی سے من حیث القوم ان تینوں بیماریوں کا شکار ہیں۔آپ صدر پاکستان سے لے کر چپڑاسی پاکستان تک کسی شخص سے پوچھ لیں ’’آپ کون سا کام آنکھیں بند کر کے کر سکتے ہیں؟‘‘ میرا دعویٰ ہے ملک کے 98 فیصد لوگوں کو ٹھیک طریقے سے آنکھیں بھی بند کرنا نہیں آتی ہوں گی‘ ملک کے 21 کروڑ لوگوں میں سے صرف ایک کروڑ لوگ کام کرتے ہیں اور انھیں بھی وہ کام نہیں آتا جس کا یہ دعویٰ کرتے ہیں‘ہمارے پروفیشنل ازم کی یہ حالت ہے ہمارے ہر اصلی پولیس مقابلے میں پولیس کے لوگ جانوں سے محروم ہوتے ہیں اور ہر ایکشن میں سینئر ترین لوگ ان ٹرینڈ شرپسندوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ہمارے ہر ادارے کے باہر ہزاروں تصویریں لگی ہیں اور یہ تصویریں کیا ثابت کرتی ہیں؟ یہ ہماری اہلیت اور ٹریننگ کا اسٹینڈرڈثابت کرتی ہیں لیکن ہم اسٹینڈر بہتر بنانے کے بجائے اس پرملک و قوم اور دین کی خاطر قربانی کا ٹھپہ لگا کر قوم کو لولی پاپ دے دیتے ہیں‘ دوسرا ہماری آدھی آبادی خط غربت سے نیچے ہے اور جو خط غربت سے اوپر ہیں وہ بری طرح ذہنی غربت کا شکار ہیں۔آپ نے اگر ان ذہنی غریبوںکا مشاہدہ کرنا ہو تو آپ کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں چلے جائیں آپ کو وہاں سیکڑہوں ذہنی غریب ملیں گے‘ آپ اسی طرح ملک کی کسی گلی‘ کسی سڑک پر نکل جائیں

آپ کو وہاں ہر طرف غربت کے ڈھیر ملیں گے گویا ہم سماجی اور ذہنی دونوں سطحوں پر غربت کے شکار ہیں اور ہماری پہلی اور انتہائی خوف ناک بیماری جہالت ہے‘ ہمارے پروفیسر تک کتابیں نہیں پڑھتے‘ یونیورسٹی میں ہم تین اسٹوڈنٹس کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اور پوری یونیورسٹی پروفیسروں سمیت ہمارا مذاق اڑاتی تھی اور یہ 30 سال پرانی بات ہے۔آپ آج کا اندازہ خود لگا لیجیے‘ اسلام آباد شہر میں کتابوں کی صرف دو دکانیں اور ایک لائبریری ہے اور آپ کو وہاں بھی دس پندرہ سے زیادہ لوگ نہیں ملتے‘ پیچھے رہ گیا ہمارا مذہبی طبقہ‘ یہ لوگ ہزار سال پرانی کتابیں پڑھتے ہیں ‘ مسلک سے باہر نکل کر پڑھنا ان کے لیے گناہ ہوتاہے‘ یہ ہر جدید کتاب کو یہودونصاریٰ کی سازش بھی سمجھتے ہیں لہٰذاآپ معاشرے کا مستقبل خود دیکھ لیجیے۔ہم جب تک ان تین بیماریوں کا علاج نہیں کریں گے آپ یاد رکھیں ہم اس معاشرے سے اس وقت تک بلاوجہ نفرت ختم نہیں کر سکیں گے اور یہ کام ہو گا کیسے؟ یہ انتہائی آسان ہے‘ ریاست صرف تین قانون پاس کر دے‘ یہ کتابیں لازم قرار دے دے‘ اسکول سے یونیورسٹی تک1000 کتابوں کا سلیبس بنایا جائے اور یہ لازم قرار دے دی جائیں‘ اساتذہ کو ڈیوٹی کے بعد ان پڑھ لوگوں کو کتابیں سنانے کا کام دے دیا جائے اور ان کو اس کام کا باقاعدہ معاوضہ دیا جائے‘ سوشل میڈیا کے بعد علم کی ترسیل بہت آسان ہو چکی ہے‘ حکومت آڈیو بکس بنا کر بھی پورے ملک میں عام کر سکتی ہے۔یہ یوٹیوبر بھی اس کام کے لیے ہائر کرسکتی ہے‘ اس سے ہم جہالت کی بیماری سے نکل آئیں گے‘ دوسرا اٹھارہ سال کے بعد ہر شخص کے لیے کام لازم کر دیا جائے‘ صدر کا بچہ ہو یا مزدور کا وہ کام کرے گا اور اپنا بوجھ خود اٹھائے گا اور تیسرا جرمنی کی طرح ہم میں سے ہر شخص کے لیے کوئی نہ کوئی ہنر لازمی کر دیا جائے‘یہ یاد رکھیں ہم ہنر مند ہوں گے تو کام کریں گے۔کام کریں گے تو غربت سے نکلیں گے‘ غربت سے نکلیں گے تو کتاب پڑھیں گے اور کتاب پڑھیں گے توہمارا دماغ کھلے گاپھر ہم اپنی نفرتوں کا جواب تلاش کریں گے اور اس سے معاشرہ ‘ معاشرہ بنے گا ورنہ ہم بلاوجہ نفرت کی اس آگ میں جل جل کرختم ہو جائیں گے‘ ہم ایک دوسرے کا اسلام ٹٹول ٹٹول کر ختم ہو جائیں گے لہٰذا ریاست کو بہرحال سامنے آنا ہوگا‘ اس سے پہلے کہ ریاست ہی نہ رہے۔