جاتے ہوئے اوریا مقبول جان کو کیا سچی بات کہہ گئے ۔۔۔۔؟

لاہور (ویب ڈیسک) جب کبھی اپنے ملک میں غیر معمولی حالات و واقعات اور پھر اچانک رونما ہونے والے سانحات پر حکمرانوں، دانشوروں، مذہبی سکالروں، صحافیوں اور کالم نگاروں کو دہرے معیار کے ساتھ بولتے اور لکھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث اور سارتر کا قول

بار بار میرے ذہن سے ٹکراتے ہیں۔ نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منافقت اور دوغلے پَن کی جتنی بہتات میرے ملک میں آپ کو ملے گی شاید ہی کسی اور ملک میں آپ کو نظر آئے۔ گذشتہ بیس سالوں میں یوں لگتا ہے پاکستان میں منافقت اور دوغلا پَن ایک ایسا تناور درخت بن چکا ہے، جس کے خطرناک پھل نے پورے ملک کے ماحول کو متاثر کر دیا ہے۔ سانحہ سیالکوٹ اس کی بدترین مثال ہے جس میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا نام ان نوجوانوں نے استعمال کیا جن کی اپنی زندگیوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار و افکار کی ننھی سی جھلک بھی نظر نہیں آتی تھی۔ کہا جاتا ہے انہیں اس حال پر ان لوگوں نے پہنچایا ہے جنہوں نے ان میں یہ تصور کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا کہ اب اس ملک میں تمہیں حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خود ہی کرنا ہے۔ اس تصور کے پیچھے دلیل یہ دی جاتی تھی کہ اس ملک میں حکمران ہوں یا انتظامیہ، کوئی بھی اس مقدس فریضے کو انجام دینے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ سادہ لوح عام آدمی اس دلیل کو اس وقت مزید سچ سمجھنے لگتا ہے، جب وہ گذشتہ بیس سالوں سے شام کو ٹیلی ویژن چینلوں پر بیٹھے ہوئے عظیم دانشور، اینکر پرسنوں کو صرف اور صرف توہینِ رسالت کے ہی قانون کے خلاف زور شور سے دلائل دیتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ ان دانشوروں اور انسانی حقوق کے ترجمانوں کے نزدیک پاکستان میں صرف یہی ایک قانون ہے

جو سارے بگاڑ کی اصل وجہ ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ٹیلی ویژن پر اسے یہ سبق پڑھایا جاتا ہے کہ دیکھو قانون ہاتھ میں لینا بہت بڑا جُرم ہے۔ ماورائے عدالت جرم تو معاشرے میں بدامنی کا آغاز ہے۔ وہ اس تصور پر کامل یقین کرنے ہی لگتا ہے، مگر اس کے سامنے ایک ضلع کی پولیس کا سربراہ ایک ملزم کو جس پر سنگین جرم کا الزام ہوتا ہے، ماورائے عدالت زندگی سے محروم کرواتا ہے تو جی ٹی روڈ پر اس پولیس آفیسر کی تصاویر والے بینر آویزاں ہوتے ہیں۔ اسے ٹاک شوز میں بلایا جاتا ہے، اسے ایک کامیاب آفیسر قرار دیا جاتا ہے۔ اسے مزید حیرت اسوقت ہوتی ہے جب امن و امان کے قیام کے بہترین تصور کے طور پر ایوب دَور کے ایک گورنر اور نواز شریف دَور کے چہیتے وزیر اعلیٰ کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ انہوں نے کیسے پولیس مقابلوں کے ذریعے لٹیروں اور جرائم پیشہ افراد کو زندگی سے محروم کروا کر ملک میں امن و امان قائم کیا تھا۔ عام آدمی کے نزدیک ابھی تک بات اتنی بگڑی نہیں ہوتی۔ وہ اپنے دل کو تسلی دے لیتا ہے کہ، چلو یہ تو حکومت کے لوگ ہیں، یہ جانیںاور عدالتیں جانیں۔ لیکن اس کی آنکھیں اس وقت حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں جب پاکستان کے چند بڑے شہروں میں ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ لوگوں کے ہاتھ کوئی لٹیرا یا موبائل چھیننے والا ملزم آ جاتا ہے تو لوگ اسے خود ہی سر عام زندگی سے محروم کر دیتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، جب پولیس والے آتے ہیں تو شکار ان کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

وہ جیسے ہی شام کو ٹیلی ویژن کھولتا ہے تو وہی دانشور، اینکر پرسن جو ماورائے عدالت واقعات پر لیکچر دیتے تھے، وہ ان کو بالکل مختلف انداز میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ کوئی کہتا ہے، جب حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو جائے گی تو پھر ایسا ہی ہو گا۔ کوئی اسے ملک میں انقلاب کا آغاز قرار دیتا ہے، کوئی حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کہتا ہے لیکن سب کے سب دانشور یا اینکر پرسنوں کے نزدیک ہجوم کسی بھی صورت قصور وار نہیں ہوتا بلکہ وہ تو اسے ’’عوامی انصاف‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ آج سے بتیس سال قبل 1989ء میں میَں سرحدی شہر پشین میں اسسٹنٹ کمشنر تھا۔ وہاں سے ایک اہم شاہراہ گزرتی ہے جو زیارت، لورالائی اور ژوب کو ملاتی ہے۔ ایک رات شاہراہ پر واقع ایک گائوں میں لٹیرے آئے، سامان لوٹ کر فرار ہوتے ہوئے انہوں نے ایک لیویز کے سپاہی کو نشانہ بنا دیا۔ پوری رات پہاڑوں میں ان کا محاصرہ کیا گیا، صبح بارہ بجے کے قریب جب ان کے ہتھیار خالی ہو گئے تو انہوں نے گرفتاری دے دی۔ میں انہیں گرفتار کر کے خانوزئی لے آیا اور انہیں وہاں تھانے میں بند کر دیا۔ اچانک عوام کا بہت بڑا ہجوم غصے میں بپھرا ہوا تھانے میں داخل ہوا۔ پہلے انہوں نے سامنے حوالات میں بند ان دونوں ملزموں پر تھوکا اور پھر آتشین ہتھیار سے انہیں وہیں زندگی سے محروم کر دیا گیا ۔اس قدر بڑے ہجوم کے سامنے چند سپاہی اتنے بے بس تھے کہ چُپ چاپ دیکھتے رہ گئے۔ ہجوم میں چند افراد واپس جاتے ہوئے میری طرف اشارہ کر کے کہتے رہے، جب آپ نے جان ہتھیلی پر رکھ کر پیچھا کر کے تحصیلدار پنجپائی کے مجرم پکڑے تھے تو دو سال بعد وہ عدالت سے بری نہیں ہو گئے تھے، کل یہ بھی بری ہو جائینگے۔ آج سے بتیس سال پہلے بھی میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا اور آج تو میں حیرت میں گم، اس بگڑتے ہوئے معاشرے کو دیکھتا ہوں، جہاں دوغلے پَن اور منافقت کے اندھیرے میں سچائی کی کرن تک نظر نہیں آتی۔

Comments are closed.