جاندار سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) ناقدین کہتے ہیں کہ اس بار میاں نواز شریف کو لندن جانے کیلئے بس اتنا کرنا پڑاکہ کچھ دیر کیلئے ”ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ صندوق میں بند کیا، آرمی ترمیمی ایکٹ کیلئے حکومت کے کہے بغیر تعاون پیش کیا گیا‘ اور پھر دو بجٹ پاس کرانے میں شہباز شریف صاحب نے خاموش حمایت کی۔

نامور کالم نگار عمران یعقوب خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ حال ہی میں منی لانڈرنگ بل کی منظوری میں متحدہ اپوزیشن کی پسپائی اور حکومت کی کامیابی کو بھی کسی اشارے کا شاخسانہ کہا جا رہے‘ لیکن اے پی سی میں ایک بار پھر میاں نواز شریف ”ووٹ کو عزت دو‘‘کا نعرہ بلند کر چکے ہیں بلکہ اس بار انہوں نے مخالفین کو جس طرح آڑے ہاتھوں لیا‘ اس کی ماضی میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ تو کیا وہ یہ سب کرکے اپنی سیاست بندگلی میں دھکیل دیں گے؟ ہرگز ایسا نہیں بلکہ معاملہ یہ ہے کہ اب یہ باہر سے زیادہ اندر کی لڑائی ہے کیونکہ یہ شیر اب بوڑھا ہو چکا ہے، اسے اپنا جانشین مقرر کرنا ہے۔ اب سے کچھ عرصہ قبل تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ نواز شریف کے بیٹوں کی سیاست میں عدم دلچسپی کے باعث یہ سیاسی وراثت شہباز فیملی میں منتقل ہو جائے گی۔ خود میاں نوازشریف، حمزہ شہباز کو اپنا سیاسی جانشین قرار دے چکے تھے۔ شہباز شریف نے میاں شریف کے بعد باؤجی کو اپنے والد کی طرح ہی سمجھا ہے۔ بظاہر دونوں بھائیوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہ شہباز شریف کی سیاسی حکمت ہی ہے جس کی وجہ سے نواز شریف لندن سے تقریر کرنے کے قابل ہوئے‘ لیکن ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ انہوں نے یہ تقریر کیوں کی؟ دراصل جس وقت یہ سمجھا جا رہا تھاکہ نواز شریف کے سیاسی وارث حمزہ شہباز ہوں گے، اس وقت بیگم کلثوم نواز مرحومہ، مریم نواز کو اس منصب کیلئے لندن میں تیار کرتی رہیں، اور پھر مریم نواز

نے حلقہ این اے 125 (موجودہ این اے 120) کے ضمنی الیکشن میں اپنی والدہ کی کامیاب کمپین چلا کر اس اہلیت کو ثابت کیا اور اپنے والد کی وزارت عظمیٰ کے دوران اور بے دخلی کے بعد جس طرح انہوں نے پارٹی کے اندر اور ووٹرز میں اپنی جگہ بنائی ہے‘ اس نے میاں نواز شریف کے فیصلے کو مشکل بنا دیا۔ واقفان حال کے مطابق میاں شہباز شریف اور مرحومہ کلثوم نواز کے مابین تعلقات میں کبھی دیور بھابھی والی گرمجوشی نہیں رہی اور مریم نواز اسی خاندانی اور سیاسی وراثت کی امین ہیں جبکہ شہباز شریف جہاندیدہ اور طاقتوں سے مفاہمت کے کھیل کو سمجھنے والے کھلاڑی ہیں۔ پنجاب ہمیشہ سے مسلم لیگ (ن) کا بیس کیمپ رہا ہے، اور حمزہ شہباز اس کے سب سے سمجھدار اور کامیاب کھلاڑی ہیں۔ 2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات کے ساتھ ساتھ مختلف حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں حمزہ شہباز نے جس طرح سے اپنی سیاسی صلاحیتوں کو ثابت کیا‘ اس نے میاں نوازشریف کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے روکے رکھا ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ بوڑھے شیر نے اپنا وزن کسی ایک پلڑے میں ڈالنا ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ نواز شریف اور شہباز شریف میں کوئی اختلاف نہیں‘ لیکن آثار یہی ہیں کہ ن لیگ کی مستقبل کی لیڈر کے طور پر نواز شریف اپنا ویٹو ووٹ شاید مریم نواز کے حق میں دینے کی طرف مائل ہو چکے ہیں اور اس حالیہ تقریر کے ذریعے بھی اصل میں نواز شریف نے طاقتور حلقوں کو یہ تاثر دیا ہے کہ ان کی پارٹی کو بذریعہ شہباز شریف راہ سے ہٹانے کی کو شش کی گئی تو وہ چی گویرا بھی بن سکتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا مریم نواز اپنے چچا اور چچازاد بھائی کے بغیر کامیابی سمیٹ پائیں گی؟ آنے والے دنوں میں میاں شہباز شریف کی سیاست طے کرے گی کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا گو کہ اس میں تھوڑا وقت بھی لگ سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *