جان بوجھ کر چھیڑ چھاڑ : عاصمہ شیرازی کا تہلکہ خیز تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار عاصمہ شیرازی اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نومبر سنہ 2017 کے فیض آباد دھرنے نے تحریک لبیک کو نہ صرف نام بلکہ مقام بھی عطا کر دیا۔ اس دھرنے کے بعد مقام فیض پر کوئی اور مقام جچا ہی نہیں۔۔۔معاہدوں پر معاہدوں اور ضمانتوں پر ضمانتوں

نے تحریک لبیک کو ایک ایسی سیاسی قوت بنا دیا کہ اب سے صرف چند ہفتے قبل تک تحریک انصاف انتخابات کی صف بندی کے لیے اُسے سنجیدہ آپشن کے طور پر دیکھ رہی تھی اور اب کے بعد تو اس امکان کا بے حد اضافہ ہو چکا ہے۔بہرحال فیض آباد دھرنے کے بعد نیکٹا نے ایک رپورٹ جاری کی اور بے حد تفصیل کے ساتھ اس جماعت کے سیاسی عمل، اثر اور انتہاپسندی سے خبردار کیا مگر وہ ہم ہی کیا جو سیکھ جائیں۔فیض آباد دھرنے کا آج بھی ’فیض‘ اٹھانے والے قاضی فائز عیسی نے اس تاریخی فیصلے میں کئی ایک شخصیات، اداروں، میڈیا اور عوامل کو بیان کر دیا مگر جب شخصیات، اداروں سے بڑی اور مفادات طویل المدتی ہوں تو کون دوڑ کے گھوڑوں کو باندھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔سوال یہ ہے کہ نومبر سنہ 2020 کے دھرنے میں حکومت نے لبیک کے ساتھ سفارتی اور قانونی نوعیت کا معاہدہ کیوں کیا؟ اور اگر کیا تو یہ کیوں نہیں سوچا کہ اس پر عملدرآمد کیسے ممکن ہو گا؟پابندی کا فیصلہ کیوں اور کس نے کیا؟ طاقت کا بے جا استعمال اور میڈیا پر مکمل پابندی کا اظہار کیوں؟افراتفری کا ماحول کیوں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور پنجاب کے دل لاہور میں حالات کیوں بے قابو ہوئے؟ حکومت چُپ کیوں تھی اور بولی تو بہت دیر سے کیوں بولی؟تحریک لبیک کے ساتھ موجودہ سلوک بھی سیاسی صف بندی کا اشارہ تو نہیں کیونکہ پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں انتخابات کی جانب دیکھ رہی ہیں ایسے میں یہ سب کچھ بے جا تو نہیں؟دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک ایک سیاسی قوت بن رہی ہے تو اس جماعت کو سیاسی مقاصد میں بدامنی سے گریز کرنا ہو گا مگر یہ سب تب ہو گا جب ملک میں آئین کی عملداری ہو مگر آئین کی عملداری کے لیے قاضی فائز عیسی کے فیصلے کو ذاتی مفاد کی بجائے آئینی عینک سے پڑھنا ہو گا۔۔۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *