جاوید میانداد کے بھانجے کی وجہ سے عبدالقادر کے بیٹوں کا مستقبل کیسے تاریک ہوا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار امجد اسلام امجد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔حاضرین کی سیلفیوں اور منتظمین کی فرمائشوں سے جتنا وقت بھی مل سکا ہم نے اُن پرانی یادوں کے درمیان گزارا جن کا آغاز کھیل کے میدانوں سے ہوا کہ اُس وقت میں اپنے مختصر اور معمولی کرکٹ کیریئر کے آخری مراحل میں تھا

اور وہ ایک شاندار اور بے مثال کھلاڑی بننے کے آغاز میں تھا۔ کرکٹ سے اپنی فطری وابستگی کے باعث اس کھیل سے میری دلچسپی آج بھی قائم ہے اور یوں میں نے عبدالقادر کے پورے کیریئر کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور اس دوران میں اُ س سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی کبھی کم اور کبھی زیادہ مگر مسلسل قائم رہا ہے۔ وہ ایک سادہ مزاج، کُھلا ڈُلا اور محبتی انسان تھا۔ کھیل کے علاوہ اخلاقیات، نماز روزے اور شعر و ادب سے بھی گہری دلچسپی رکھتا تھا اور اُن لوگوں میں سے تھا جو اپنی رائے کے اظہار میں ’’سچائی‘‘ کوسب سے اوپر کے درجے پر رکھتے ہیں۔ بے تکلفانہ سچ بولنے کی اسی عادت کی وجہ سے پاکستانی کرکٹ کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں سے ہونے کے باوجود اُسے کرکٹ بورڈ، میڈیا اور اہلِ منصب کے ساتھ ڈیلنگ میں زندگی بھر کچھ ایسے مسائل درپیش رہے کہ اُسے اُس کے ٹیلنٹ اور کارکردگی کے مقابلے میں وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کا وہ صحیح معنوں میں حقدار تھا۔ اس کا زیادہ، ناخوشگوار، اثر اُس کے بیٹوں کے کرکٹ کیریئر پر پڑا کہ ان بچوں کو باصلاحیت ہونے کے باوجود آگے بڑھنے کے وہ مواقعے نہ مل سکے جو ان کا حق بنتے تھے اور ان کے ساتھ کم و بیش وہی سلوک ہوا جو جاوید میانداد کے بھانجے فیصل اقبال کو برداشت کرنا پڑا کہ بدقسمتی سے ہمارے بہت سے کھلاڑی جو آگے چل کر انتظامی عہدوں پر فائز ہوئے وہ اپنے ذاتی اختلافات کا غصہ اسی طرح کے منفی حربوں سے نکالتے رہتے ہیں۔ یہ بات اس لیے درمیان میں آگئی کہ یہ رویہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری و ساری ہے اور دیکھا جائے تو عالمی رینکنگ میں پاکستان کی تنزلی اور کھلاڑیوں کی معمولی پرفارمنس کے کچھ ڈانڈے اس سے بھی جا ملتے ہیں۔عبدالقادر ہر اعتبار سے ایک غیر معمولی طور پر کامیاب سیلف میڈ انسان تھا۔ اُس نے عوامی گلوکار عطا اللہ عیسی خیلوی کی طرح میری نظم ’’سیلف میڈ لوگوں کا المیہ‘‘ اپنے دفتر میں تو نہیں لگا رکھی تھی مگر وہ اسے پسند بہت کرتا تھا اور اکثر کہا کرتا تھا کہ یہ مجھے اپنی ہی کہانی لگتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *