جاوید چوہدری نے اپنی کامیابی کے راز سے پردہ اٹھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) خدا گواہ ہے یہ واقعات اگر میرے اپنے ساتھ پیش نہ آئے ہوتے تو میں ان پر کبھی یقین نہ کرتا مثلاً پہلا واقعہ آج سے 20 سال پہلے راول ٹائون میں پیش آیا تھا‘ میری بیوی انتہائی مذہبی‘ عبادت گزار اور خدمت پرست ہے‘ یہ دوسروں کو کھانا کھلا کر بہت خوش ہوتی ہے‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ میں ان دنوں اخبار میں سب ایڈیٹر تھا‘ میرے پاس پرانا موٹر سائیکل تھااور ہم ڈیڑھ مرلے کے مکان میں رہتے تھے‘ ایک کمرہ‘ ایک لائونج‘چھوٹا سا باتھ روم او ر پانچ سات فٹ کا صحن تھا اور بس ہمارا مکان ختم‘ میں ایک دن گھر واپس آیا تو میں نے صحن میں دو جوگی ٹائپ بابے دیکھے‘ یہ زمین پر بیٹھے تھے‘ ان کے سامنے کھانے کی پلیٹیں رکھی تھیں اور یہ مزے سے کھانا کھا رہے تھے۔میں نے حیرت کے عالم میں بیوی کی طرف دیکھا‘ اس نے ڈرتے ڈرتے بتایا‘ یہ گلی سے گزر رہے تھے‘ بھوکے تھے‘ کھانا مانگ رہے تھے‘ میں نے انھیں صحن میں بٹھا کر کھانا دے دیا‘ مجھے بڑا غصہ آیا‘ میں اسے ہمیشہ کہتا رہتا تھا تم کسی کے لیے دروازہ نہ کھولا کرو لیکن یہ ہرگزرتے فقیر کو خیرات دینا اپنا مذہبی فرض سمجھتی تھی‘ میں ناراض ہو کر بیٹھ گیا اور جوگیوں کو کھانا کھاتے دیکھنے لگا‘ وہ مزے سے کھانا کھا رہے تھے اور مجھے دیکھ رہے تھے‘ کھانا کھانے کے بعد بزرگ جوگی نے لمبا ڈکار مارا اور میری بیوی سے کہا ’’کیا تمہارے گھر میں کوئی سکہ ہے‘‘ میں نے غصے سے جوگی کی طرف دیکھا‘ میں اس ہتھکنڈے سے اچھی طرح واقف تھا۔نوسر باز عموماً پہلے سکہ مانگتے ہیں اور اس کے بعد نوٹ یا زیورات منگواتے ہیں اور پھر یہ سب کچھ سمیٹ کر رفو چکر ہو جاتے ہیں‘ میں نے بیوی کو آنکھوں سے منع کر دیا اور جوگیوں کو کہا ’’آپ نے کھانا کھا لیا ہے‘ اب آپ ہمیں معاف کردیں اور اللہ حافظ‘‘

لیکن جوگیوں نے سکہ لیے بغیر جانے سے انکار کر دیا‘ میں نے جیب سے پچاس پیسے کا سکہ نکال کر انھیں دے دیا‘ بڑے جوگی نے قہقہہ لگا کر کہا ’’نہیں تم نہیں‘ یہ سکہ میری بیٹی دے گی‘‘ میں نے وہ سکہ غصے سے بیوی کو پکڑا دیا اور اس نے جوگی کے ہاتھ پر رکھ دیا۔بڑے جوگی نے سکہ منہ میں ڈالا‘ دانت سے اسے دبایا‘ سکہ منہ سے نکالا اور میری بیوی کے حوالے کر دیا‘ وہ دونوں جوگی اس کے بعد اٹھے‘ میری بیوی کے سر پر ہاتھ رکھا‘ مسکرا کر میری طرف دیکھا اور گھر سے باہر نکل گئے‘ میں نے گلی سے ان کی آخری آواز سنی ’’رزق کبھی ختم نہیں ہو گا‘ خوشیاں کبھی کم نہیں ہوں گی اور رکاوٹیں ساری دور ہوتی رہیں گی‘‘ میں نے غصے سے دروازہ بند کر دیا لیکن حیران کن حد تک اس واقعے سے اگلے دن میری زندگی 180 درجے پر تبدیل ہونے لگی۔میں اس واقعے کو محض اتفاق سمجھ سکتا تھا لیکن دس سال بعد میری سید پور میں ایک درویش سے ملاقات ہوئی‘ یہ سید پور سے اوپر پہاڑ پر رہتا تھا‘ میں اسلامک یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے ساتھ اسے ملنے گیا تھا‘ میں بار بارکہہ رہا تھا‘ آپ لوگ اتفاقی واقعات کو روحانیت میں تبدیل کر کے لوگوں کو گمراہ کرتے رہتے ہیں‘ بابا ہر بار ہنس کر میری بات ٹال دیتا تھا۔میں نے جب چوتھی مرتبہ یہ کہا تو وہ غصے میں آگیا اور کہا ’’تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو‘ تم نے دو بندوں کو کھانا کھلایا‘ ایک اٹھنی دی‘ غصے سے دروازہ بند کیا اور بس‘ تمہاری کوئی نیکی کام آ گئی تھی‘ تم اگر اس دن ان دونوں کو اٹھا دیتے تو تم آج اپنی ٹانگوں پر نہ ہوتے‘ لنگڑے ہو کر زندگی گزارتے‘ جائو دفع ہو جائو اور اپنی بیوی کا شکریہ ادا کرو‘ اس نے تمہیں بچا لیا‘‘ میں سر سے لے کر ٹانگوں تک پسینے میں بھیگ گیا‘ میری زبان گنگ ہو گئی‘ وہ درویش تھوڑی دیر سرخ آنکھوں سے مجھے دیکھتے رہے‘ پھر گھسٹ کر میرے پاس آئے‘ مجھے تھپکی دی اور کہا ’’جا اب اس تھپکی کا نتیجہ بھی دیکھ لیکن خبردار جو تم دوبارہ ادھر آئے‘ دفع ہو جائو‘‘ آپ یقین کریں میں گھبرا گیا‘ میں اٹھا اور اس کے بعد دوبارہ کبھی سید پور گائوں نہیں گیا‘ پیچھے رہ گئی تھپکی تو اس نے واقعی کمال کر دیا‘ مجھے اس کے بعد آج تک کبھی تھکاوٹ نہیں ہوئی اور مجھے کبھی بھوک نہیں لگی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *