جاوید چوہدری نے تہلکہ خیز بریکنگ نیوز دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) چوہدری صاحبان بہرحال حکومت سے ناراض ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں وزیراعظم سے انھیں اتنی عزت نہیں ملتی جتنی انھیں ملنی چاہیے‘ یہ بھی سمجھتے ہیں ہمیں حکومت کسی بھی مشاورتی عمل میں شامل نہیں کرتی‘ ہمیں اکتوبر 2019میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مذاکرات کے لیے کہا گیا تھا‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے مولانا سے بات چیت شروع کر دی لیکن وزیراعظم نے 17 اکتوبر 2019 کو مولانا کو ڈیزل کہہ دیا اور یوں مذاکرات کا عمل رک گیا‘ ہمیں اس دوران بھی وزیراعظم سے رابطے کے لیے بڑی کوششیں کرنی پڑتی تھیں۔ہمارے وزیروں کے پاس بھی صرف پورٹ فولیوز ہیں‘ اختیارات نہیں اور ہمیں حلقوں میں فنڈز بھی نہیں دیے جاتے اور ہماری اسکیمیں بھی پاس نہیں کی جاتیں چناں چہ ہم اب حکومت کی کسی اتحادی نشست میں شامل نہیں ہوں گے‘ چوہدری صاحبان نے اس فیصلے کے بعد وزیراعظم کے پانچ نومبر کے ظہرانے کا بائیکاٹ کر دیا جس کے بعد وزیراعظم کے ذاتی دوست یوسف صلاح الدین نے اپنے ذاتی فون سے چوہدری شجاعت کے صاحبزادے شافع حسین کی عمران خان سے بات کرائی‘ وزیراعظم نے چوہدری شجاعت کی عیادت کی‘ چوہدری صاحب کا خیال تھا وزیراعظم 7نومبرکو حافظ آباد جانے کے لیے لاہور آئیں گے تو یہ چوہدری صاحب کی عیادت کے لیے اسپتال آئیں گے لیکن وزیراعظم حافظ آباد سے واپس چلے گئے یوں دراڑ مزید بڑھ گئی۔یہ اختلافات کہاں تک جاتے ہیں سردست یہ نہیں کہا جا سکتا لیکن حکومت بہرحال گرداب میں پھنستی چلی جا رہی ہے‘ پی ڈی ایم فائنل راؤنڈ کی تیاری کر رہی ہے‘ یہ دسمبر میں دباؤ بڑھائے گی اور جنوری میں حکومت پر بھرپور اٹیک کرے گی‘ یہ تجربہ کار کھلاڑی ہیں‘ یہ اب تک اپنے کارڈز بڑی سمجھ داری سے کھیل رہے ہیں‘ یہ بلاول کے بیان کے ذریعے حکومت کو خوش فہمیوں میں مبتلا کر دیتے ہیں‘ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کر دیتی ہے اور اس کے بعد آصف علی زرداری آگے آ جاتے ہیں۔یہ زرداری صاحب کے ساتھ ڈیل فائنل کرنے لگتے ہیں تو بلاول اور مریم نواز کے ایک جیسے بیانات آ جاتے ہیں اور حکومت ان دونوں کے درمیان ٹھک ٹھک ٹکراتی رہتی ہے‘ یہ کھیل کہاں تک چلتا ہے؟ یہ فیصلہ ق لیگ اور ایم کیو ایم کریں گی۔یہ جس دن حکومت سے الگ ہو گئیں حکومت اس دن فارغ ہو جائے گی ۔جہانگیر ترین واپس آ چکے ہیں‘ یہ اس بار کس طرف کھیلیں گے سردست کسی کو کچھ معلوم نہیں تاہم یہ امکانات صاف دکھائی دے رہے ہیں عمران خان حکومت کو بچانے کی کوشش نہیں کریں گے‘ جس دن ق لیگ اور ایم کیو ایم نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا یہ اسمبلیاں توڑ کر سارا میچ خراب کر دیں گے‘فائنل راؤنڈ کی تیاری دونوں سائیڈز سے ہو چکی ہے‘ اپوزیشن اور حکومت دونوں تیار بیٹھی ہیں‘ پہلا اٹیک کون کرتا ہے بس یہ فیصلہ باقی ہے اور اس فیصلے میں بھی اب زیادہ وقت باقی نہیں‘ یہ سال جاتے جاتے بہت کچھ لے جائے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *