جاوید چوہدری نے حیران کن حقائق بیان کردیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دلیپ صاحب بول چال کے دوران حیرت کا اظہار نہیں کرتے تھے‘ آپ انھیں کچھ بھی سنا دیں کچھ بھی بتا دیں وہ ہائے‘ اف یا ارے نہیں کہتے تھے‘ بڑی سے بڑی بات کو نارمل سمجھ کر سنتے تھے‘

آپ انھیں کوئی بھی لطیفہ سنا دیں کیا اس لطیفے پر ہنسنا چاہیے یہ فیصلہ دلیپ صاحب کرتے تھے لطیفہ سنانے والا نہیں‘ ضد کے پکے تھے‘ مغل اعظم کی ریکارڈنگ کے دوران ہندوستان کے مشہور ڈائریکٹر اور مغل اعظم کے پروڈیوسر کے آصف ان کے گھر آنے جانے لگے‘ وہ دلیپ صاحب کے دوست بھی تھے‘ اس آمدورفت کے دوران کے آصف کا دلیپ صاحب کی سب سے چھوٹی بہن اختر کے ساتھ رابطہ ہو گیا اور اس نے گھر سے بھاگ کر کے آصف سے شادی کر لی۔دلیپ صاحب کو بہن اخترسے بہت پیار تھا لیکن وہ اس کے بعد کبھی اپنی بہن سے نہیں ملے‘ مدھوبالا ہندی سینما کی خوبصورت ترین اداکارہ تھی‘ یہ دونوں ایک دوسرے کے عاشق بھی تھے‘ چھوٹی سی بات پر ناراضگی ہوئی اور دلیپ صاحب نے پھر کبھی مڑ کر اس کی طرف نہیں دیکھا‘ وہ بے انتہا ذمے دار انسان بھی تھے‘ اپنے گیارہ بہن بھائیوں کی پرورش کی اور انھیں پوری زندگی سپورٹ بھی کرتے رہے‘ والد فروٹ کے بیوپاری تھے‘ یہ خودبھی فروٹ کا کاروبار کرتے رہے‘ عملی زندگی کا آغاز انڈین ائیرفورس کے میس میں سرونگ بوائے سے کیاتھا‘ پوری زندگی فروٹ کاٹنے اور سجانے کا شوق رہا‘ والد سخت مزاج تھے‘ وہ فلموں اور گانے بجانے کے خلاف تھے‘ یہ ان سے چھپ کر فلموں میں کام کرتے رہے۔ایک دن والد نے اخبار میں ان کی تصویر دیکھ لی تو ٹھیک ٹھاک چھترول کر دی‘ راج کپور کے والد پرتھوی راج پشاور سے ان کے فیملی فرینڈ تھے‘ وہ آئے اور بڑی مشکل سے ان کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت لے کر دی‘

والد نے ایک دن دلیپ صاحب کی فلم دیکھی‘ نرگس فلم میںمرکزی اداکارہ تھی‘ رات کو واپس آئے تو والد نے انھیں کہا‘تم مجھے نرگس کے گھر لے چلو‘ میں تمہاری اس کے ساتھ شادی کرانا چاہتا ہوں‘ دلیپ صاحب نے بڑی مشکل سے انھیں روکا‘ والد کو پشاوری کھانوں کی عادت تھی‘ یہ انھیں خود پشاوری ریستورانوں میں لے کر جاتے تھے اور اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے تھے۔والد آخر میں ان سے بہت خوش تھے‘ خاندان اور سائرہ بانو کے درمیان اختلافات تھے‘ سائرہ ان کے خاندان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھیں‘ دلیپ صاحب نے نیاگھر بنایا اور سائرہ بانو کے ساتھ اس میں شفٹ ہو گئے‘ آپ ان کی وضع داری دیکھیں‘ انھوں نے اپنی فیملی کو نئے گھر میں منتقل نہیں کیا تھا‘ یہ خود شفٹ ہوگئے تھے‘ واجپائی کے ساتھ ان کا بہت گہرا تعلق تھا‘ امریکا نے 2001 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ڈائیلاگ شروع کراناچاہا تو واجپائی نے دلیپ کمار سے مشورہ کیا۔اپنا ایک خصوصی ایلچی جدہ میں میاں نواز شریف کے پاس بھجوایا اور پیغام دیا ’’ہمیں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ڈائیلاگ کی پیشکش آئی ہے‘ آپ اگر اجازت دیں تو ہم پراسیس شروع کر دیں‘‘ میاں نواز شریف کا جواب تھا ’’ ملکوں کے درمیان تعلقات شخصیات سے بالاتر ہوتے ہیں‘ آپ ضرور ڈائیلاگ شروع کریں‘‘ آپ دونوں کی وضع داری دیکھیں۔دلیپ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اداکاری کی بے تحاشا صلاحیت سے نواز رکھا تھا‘میں نے کسی جگہ پڑھا تھا دلیپ صاحب دنیا کے ان چند اداکاروں میں شامل ہیں جو ایک ہی وقت میں اپنی ایک آنکھ کو رُلا سکتے ہیں اور دوسری آنکھ کو ہنسا سکتے ہیں‘ میں جس مہربان کے ساتھ ملاقات کے لیے ان کے پاس گیا تھا‘ انھوں نے اٹھتے اٹھتے دلیپ صاحب سے عرض کیا ’’خان صاحب یہ لڑکا آپکی آنکھوں کا جادو دیکھنا چاہتا ہے‘‘۔دلیپ صاحب کو یہ فرمائش بری لگی لیکن اس کے باوجود انھوں نے ہمارا دل رکھنے کے لیے اپنا ہاتھ اپنے آدھے چہرے پر رکھااور ہماری طرف دیکھنے لگے‘ چند سیکنڈ بعد ان کی آنکھ میں آنسو تیرنے لگا‘وہ اس وقت دنیا کی اداس ترین آنکھ تھی‘ انھوں نے اس کے ساتھ ہی اپنا ہاتھ دوسری آنکھ سے اٹھا دیا‘ وہ آنکھ ہنس رہی تھی‘ ہمارا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔یہ تھے دلیپ کمار‘ دنیا کے ’’ون اینڈ اونلی‘‘ دلیپ کمار‘ دلیپ صاحب دنیا کے ان چند لوگوںمیں شامل تھے جن کے جانے کے بعد خلا بھی خود کو خالی محسوس کر رہا ہے اور یہ ہمیشہ کرتا رہے گا۔

Comments are closed.