جاوید چوہدری نے سچے اور کڑوے حقائق بیان کر دیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک پیج پر ہیں لیکن نریندر مودی نے 23 مارچ 2021 کو عمران خان کو ایک خط لکھا اور اس کے بعد ملک میں جو کچھ ہوا وہ اب ڈھکی چھپی بات نہیں‘

وزیراعظم نے وزیر تجارت کی حیثیت سے 31 مارچ کو ای سی سی میں بھارت سے چینی‘ کپاس اور دھاگا امپورٹ کرنے کی اجازت دی اور اگلے دن بطور وزیراعظم یہ اجازت واپس لے لی‘ کیوں؟ کیوں کہ وزیراعظم کے پاس دوسرا آپشن نہیں تھامگر اس کے باوجود اب ان کی جان نہیں چھوٹے گی‘ جہانگیر ترین کی شکل میں تلوار ان کے سر پر لٹکا دی گئی ہے‘ یہ ہلے نہیں اور تلوار گری نہیں۔میں اپنے اس تھیسس پر زور نہیں دیتا لیکن سوچنے اور غور کرنے میں کیا حرج ہے؟ یہ عین ممکن ہے ہم جب بھی ایک ہو جاتے ہوں‘ سول اور ملٹری تقسیم جب بھی کم ہو جاتی ہو اور ہم ترقی کی شاہراہ پر پہنچنے لگتے ہوں‘ ملک میں خوش حالی اور استحکام آنے لگتا ہو اور بھارت شرارتاً ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیتا ہو اور ہم ایک دوسرے سے برسرپیکار ہو جاتے ہوں اور اس لڑائی کے نتیجے میں دودھ کی بھری بالٹی الٹ جاتی ہو‘ ہم دوبارہ زیرو پر آ جاتے ہوں۔آپ ایک بار اس نقطے پر بھی سوچ لیں‘ ہو سکتا ہے یہ بھارت کی سفارتی حکمت عملی ہو‘ ہمیں جب بھی کوئی ایسا لیڈر ملتا ہو جو ملک کے مسائل حل کر سکتا ہو‘ جو سیاسی پولرائزیشن ختم کر سکتا ہو تو بھارت اپنے وزیراعظم کو آگے بڑھا دیتا ہو اور اس کے بعد ملک میں اوئے اوئے ہو جاتی ہو‘ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہیں لیکن آج اگر نریندر مودی عمران خان کو فون کر لے یا یہ کسی انٹرنیشنل فورم پر عمران خان کی طرف ہاتھ بڑھا دے یا ان کی تعریف کر دے تو کل یہ حکومت گر جائے گی

اور عمران خان کا انجام بھی میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسا ہو گا۔آپ اندازہ کر لیجیے ہم‘ ہماری حکومتیں اور ہمارا سول ملٹری ریلیشن شپ کتنا کم زور ہے‘ بھارت کا وزیراعظم صرف ایک بیان‘ ایک سلام‘ ایک ٹیلی فون اور ایک ملاقات سے یہ تعلق ختم کر سکتا ہے لہٰذا ہمیں اس نقطے کو بھی ذہن میں رکھ کر اپنی حکمت عملی بنانا ہوگی۔ہمیں آج ایک دوسری حقیقت بھی ماننا ہو گی‘ ہم 73 برسوں میں اپنی پالیسی فکس نہیں کر سکے‘ ملک میں تین یا چھ سال بعد تقرری ہوتی ہے اور ہماری پوری سفارتی پالیسی تبدیلی ہو جاتی ہے‘ آپ جنرل ضیاء الحق سے لے کر آج تک اپنی سفارتی پالیسیوں کا اتار چڑھائو دیکھ لیں‘ ہم 180 کے زاویے پر شفٹ ہو تے چلے آ رہے ہیں‘ ہم نے امریکا کے ساتھ بھی لَواینڈ ہیٹ ریلیشن شپ میں بہت وقت ضایع کر دیا اور ہم بھارت کے ساتھ تعلقات میں بھی کلیئر نہیں ہیں‘ ہمیں کم از کم اب اپنی پالیسی واضح کر لینی چاہیے‘ بھارت اگر ہمارا دشمن ہے تو پھر یہ ہے‘ ہمیں پھر اس کے ساتھ دشمن جیسے تعلقات رکھنے ہوں گے اور ہم اگر اس کے اچھے ہمسائے بننا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ایک ہی بار ہتھیار نیچے رکھنا ہو گا‘ ہم آخر کب تک ہتھیار اٹھاتے اور نیچے رکھتے رہیں گے۔ آپ یہ یاد رکھیں شیطان یا مومن دونوں کسی نہ کسی مقام پر پہنچ جاتے ہیں لیکن کنفیوز قوم ہو یا شخص یہ رائونڈ ابائوٹ پر چکر لگا لگا کر ختم ہو جاتا ہے اور ہم تاریخ کے رائونڈ ابائوٹ پر چکر لگاتے چلے جا رہے ہیں‘ ہمارے ٹائرز گھس چکے ہیں مگر ہم اس کے باوجود باز نہیں آ رہے‘ ہمیں اپنے آپ کو کلیئر بھی کرنا ہوگا اور یہ بھی ماننا ہو گا اہل مغرب بھی کسی اسلامی ملک کو ترقی یافتہ نہیں دیکھنا چاہتے۔یہ ترکی اور ملائیشیا کو ہضم نہیں کر سکے جب کہ ہم تو ایٹمی طاقت بھی ہیں‘ یہ ہمیں کیسے برداشت کریں گے چناں چہ میری درخواست ہے حالات کو دیکھیں اور آنکھیں کھولیں‘ تاریخ کے رائونڈابائوٹ سے آگے نکلیں‘ اس سے پہلے کہ ہم پیچھے جانے کے قابل بھی نہ رہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *