جاوید چوہدری نے وارننگ جاری کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔قومیں اور ملک اس طرح سوچتے ہیں‘ یہ گھی نکالنے کے لیے بعض اوقات اپنی ساری انگلیاں بھی ٹیڑھی کر لیتے ہیں‘آپ اس مثال کو سامنے رکھیں اور پھر صرف ایک سوال کا جواب دیں‘ ملک کے معاشی حالات خراب ہیں‘

اس میں عمران خان کا کوئی قصور نہیں‘ معیشت کبھی عمران خان کا سبجیکٹ ہی نہیں رہا‘ وزیراعظم نے آج تک کوئی بجٹ بنایا اور نہ معیشت پڑھی‘ ملک میں مہنگائی کنٹرول نہیں ہو رہی‘ اس میں بھی عمران خان کا کوئی قصور نہیں‘ عمران خان نے آج تک اپنی جیب سے کوئی چیز نہیں خریدی‘ لوگ پچاس سال سے ان کی خدمت کر رہے ہیں۔ان کا گھر ہو‘ اسپتال ہو یا پھرپارٹی ہو یہ لوگ چلاتے ہیں چناں چہ انھیں آٹے دال کا بھاؤ کیسے معلوم ہو سکتا ہے؟ عمران خان سے پارٹی کنٹرول نہیں ہو رہی‘ اس میں بھی ان کا کوئی قصور نہیں‘ یہ کپتان رہے ہیں اور کپتان صرف ایک میچ یا ایک سیریز کے لیے ٹیم بناتا ہے اور جوں ہی سیریز یا میچ ختم ہوتا ہے تو ٹیم تتر بتر ہو جاتی ہے‘میچ کے دوران بھی کھلاڑی ایک دوسرے سے لڑتے اور الجھتے رہتے ہیں‘ کپتان کو ان کی لڑائی کا بھی فائدہ ہوتا ہے‘ یہ ان کی لڑائیوں کی پرواہ نہیں کرتا لہٰذا میں پارٹی کے کم زور سٹرکچر کے سلسلے میں بھی عمران خان کو بے قصور سمجھتا ہوں۔عمران خان بار بار کا بینہ ری شفل کرتے رہتے ہیں‘ یہ فواد چوہدری کو ہٹاتے ہیں اور پھر لگا دیتے ہیں‘ یہ تین سال میں چار وزیر خزانہ بھی بدل دیتے ہیں‘یہ بالآخر مونس الٰہی کو بھی وزیر بنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یہ آج کل میں جی ڈی اے کو بھی مزید وزارت دے دیں گے اور ایم کیو ایم کے مطالبات بھی مان لیں گے‘

یہ اس معاملے میں بھی بے قصور ہیں‘ کپتان ہمیشہ ایک ایک اوور سامنے رکھ کرکھیلا کرتا ہے‘ باؤلر اگر پرفارم نہیں کر رہا‘ یا بیٹس مین نے گند کر دیا تو یہ اسے اگلی بار نہیں کھلائے گا یا پھر اس کو پہلے یا آخر میں لے جائے گا اور عمران خان سفارت کاری میں بھی مار کھا رہے ہیں‘ یہ کبھی امریکا سے پاکستان کے تعلقات خراب کر دیتے ہیں۔کبھی سعودی عرب سے‘ کبھی ترکی اور ملائیشیا سے اور کبھی اپنے بیانات کے ذریعے چین کو پریشان کر دیتے ہیں‘ یہ اس میں بھی بے قصور ہیں کیوں کہ یہ سفارت کاری کے طالب علم رہے ہیں اور نہ انھوں نے کبھی سفارت کاری کی چناں چہ یہ اس معاملے میں بھی بے گناہ ہیں لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے‘ کرکٹ تو ان کا اوڑھنا بچھونا تھی‘ یہ ان کے خون میں دوڑتی تھی اور ان کا بیٹ اور بال سے 21سال تعلق رہا‘ یہ دنیا میں اگر کسی چیز کے ایکسپرٹ ہو سکتے ہیں تو وہ کرکٹ ہے لیکن ورلڈ چیمپیئن وزیراعظم کے دور میں کرکٹ کا کیا حال ہے؟ پوری دنیا حیرت سے دیکھ رہی ہے۔خدا کی پناہ عمران خان جیسا ورلڈ چیمپیئن وزیراعظم ہو اور ہماری ٹیم انگلینڈ کی دوسرے درجے کی ٹیم سے بھی وائیٹ واش ہو جائے‘ وزیراعظم کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟یعنی آپ جس شعبے کے ایکسپرٹ ہیں آپ اس میں بھی پرفارم نہیں کر پا رہے‘آپ نے کرکٹ کو بھی پاک اسٹیل مل‘ ریلوے اور پی آئی اے بنا دیا‘

آپ نے اس کو بھی میاں شہباز شریف کا اسٹیٹس دے دیا‘کیا یہ بھی پچھلی حکومتوں کا گناہ ہے؟ہمارے سینئر بتاتے ہیں صدر ایوب خان کے زمانے میں پاکستان دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے ملکوں میں شامل تھا‘ دنیا ہماری ترقی کی مثالیں دیا کرتی تھی‘ درمیان میں جنرل یحییٰ خان کا دور آیا‘ جنگ ہوئی اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا لیکن خوش حالی اور ترقی کا دور چلتا رہا‘ ملک میں مہنگائی‘ لاقانونیت‘ افراتفری یا معاشی بدحالی نہیں آئی مگر جب ذوالفقار علی بھٹو آئے تو انھوں نے صنعتوں کو قومیا کر خوف ناک معاشی بحران پیدا کر دیا‘ ملک میں ہڑتالیں بھی شروع ہو گئیں اور مہنگائی اور افراتفری بھی آ گئی‘ بھٹو صاحب عالمی لیڈر تھے‘ ان جیسا ذہین سیاست دان پاکستان نے آج تک پیدا نہیں کیا۔ان کو چاہیے تھا وہ صورت حال کا تجزیہ کرتے اور اپنی حکمت عملی بدل دیتے لیکن وہ اپنی غلطیوں کے ادراک کی بجائے اپوزیشن‘ میڈیا‘ بیوروکریسی اور پارٹی کے سچے اور کھرے لوگوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے‘ جو بھی بولتا تھا وہ سیدھا قید میں جاتا تھا‘ تمام بڑے صحافی شاہی قلعے پہنچا دیے گئے‘ سیاست دان دلائی کیمپ میں ڈال دیے گئے‘ بیورو کریٹس کو جبری ریٹائر کر دیا گیا اور پارٹی میں جس نے بھی سمجھانے کی کوشش کی اسے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا نتیجتاً ملک میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا‘ معیشت پہلے ہی سے خراب تھی‘ اوپر سےخوف بھی آگیا لہٰذاملک بیٹھتا چلا گیا‘ بھٹو صاحب نے حالات کی نزاکت سمجھنے اور پرفارمنس پر توجہ کی بجائے تقریروں میں پناہ لے لی‘

وہ بلا کے مقرر تھے‘ وہ جب بولتے تھے تو ان کے لفظ لوگوں کے دلوں میں اتر جاتے تھے۔بھٹو صاحب نے اپنے اس آرٹ کو سیاسی سہارا بنالیا‘ وہ تقریریں کرتے رہے اور ملک دلدل میں دھنستا رہا یہاں تک کہ فوج نے ایک رات ایشیا کے سب سے بڑے لیڈر کو خواب گاہ سے نکال کر حراست میں لے لیا‘ ذوالفقار علی بھٹو کا خیال تھا وہ گرفتار ہوں گے تو ہمالیہ روئے گا لیکن ہمالیہ نے رونے سے انکار کر دیا‘ مزید المیہ یہ تھا کابینہ کا ایک وزیر بھی اپنے لیڈر کے لیے باہر نہیں نکلا‘ جیالے بھی گھروں میں بیٹھے رہے ‘یہ حالات دیکھ کر جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر پہنچا دیا ‘ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی المیہ تھا مگر المیے کے اس دن بھی کوئی سڑک بند ہوئی اور نہ ہی کسی دکان کا شٹر گرا‘ کاروبار حیات اپنی رفتار سے چلتا رہا‘ اس دورکے لوگ آج کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں عمران خان بھی ذوالفقار علی بھٹو بنتے جا رہے ہیں۔یہ پرفارمنس پر توجہ دینے اور ’’رائیٹ پرسن فار دی رائیٹ جاب‘‘ کی بجائے تقریر سازی پر لگ گئے ہیں‘ ان کے پاس بھی ہر مسئلے کا ایک ہی حل ہے‘ تقریر‘ آپ تقریر سنیں تو لگتا ہے پاکستان قرضے دینے والا ملک بن چکا ہے لیکن بیلنس شیٹ دیکھیں تو حکومت نے اڑھائی سال میں ساڑھے تیرہ ہزار ارب روپے کے قرضے لے لیے ہیں‘ مہنگائی 13فیصد ہو چکی ہے‘بدامنی اور لڑائی سرحدوں پر چڑھ کر بیٹھی ہے‘ بجلی بھی اضافی ہے اور لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے۔پنجاب میں عثمان بزدار بیٹھے ہیں اور کے پی کے میںمحمود خان اور یہ کیوں بیٹھے ہیں کسی کو معلوم نہیں اور آپ ملک چھوڑیں چیمپیئن وزیراعظم کرکٹ بھی ٹھیک نہیں کر سکے اور آپ اس کے ساتھ ساتھ وزراء کی گردنوں کی اکڑ اور لہجوں کا تکبر بھی دیکھ لیں‘ اللہ معاف کرے ہم واقعی کسی خوف ناک بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔کاش ہم چین ہی سے کچھ سیکھ لیتے‘ یہ ضرورت پڑنے پر سیاست دانوں کو سفیر بنا دیتا ہے جب کہ ہم انا کے مینار سے نیچے نہیں جھانک رہے‘ ہم بات بھی آسمان کو دیکھ کر کرتے ہیں‘یہ کیا ہو رہا ہے اور یہ لوگ ملک کو کہاں لے جا رہے ہیں؟کیا اس ملک میں کسی کو بھی احساس نہیں؟ اللہ ہی رحم کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *