جاوید چوہدری کا عمران خان کو زبردست مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) میں جس عمران خان کو جانتا ہوں وہ مر جائے گا لیکن این آر او نہیں دے گا‘‘ وہ جذباتی ہو کر میز پر مکے رسید کرنے لگے اورمیں حیرت سے انھیں دیکھتا رہا‘ وہ بولے ’’آپ بس سینیٹ کے الیکشن ہو جانے دیں‘آپ کو ایک بدلا ہوا عمران خان نظر آئے گا

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ عمران خان ان لوگوں کو سڑکوں پر لٹا کر جوتے رسید کرے گا‘ یہ کسی کو نہیں چھوڑے گا‘ بیورو کریسی سے لے کر سیاست دانوں تک سب کو تیر کی طرح سیدھا کر دے گا‘ آپ اس کے بعد کوئی سڑک بند کر کے دکھایے گا‘ کوئی افسر‘ کوئی ڈاکٹر اور کوئی استاد ذرا چھٹی کر کے دکھا دے اسٹیٹ اسے کارپٹ بنا دے گی‘‘۔ وہ جذباتی ہو رہے تھے اور میں حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا‘ یہ بولے ’’آپ لوگ روز لفظ چبا چبا کر کہتے ہیں عمران خان کے پاس جب کسی کو این آر او دینے کا اختیار ہی نہیں تو یہ کیسے رعایت دے سکتے ہیں لیکن میں آپ کو یہ بتا دوں اگر کسی اور نے بھی ان لوگوں کو این آر او دینے کی کوشش کی تو عمران خان اسے بھی نہیں چھوڑے گا‘‘ وہ خاموش ہو گئے۔ میں یہاں ہنسا اور آہستہ سے پوچھا ’’جناب آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے یہ این آر او دیں گے کس کو؟ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے عرض کیا ’’جناب آپ کی نظر میں میاں نواز شریف‘ آصف علی زرداری‘ میاں شہباز شریف‘ یوسف رضا گیلانی‘ راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی بڑے ملزم ہیں لیکن یہ لوگ اس وقت کہاں ہیں؟ میاں نواز شریف کو ایک کیس میں 10سال اوردوسرے میں سات سال سزا ہوئی تھی لیکن یہ قید سے نکلے‘ چارٹر جہاز پر بیٹھے اور ریاست کے پروٹوکول میں لندن پہنچ گئے‘

یہ 13ماہ سے وہاں ہیں‘ روز واک کر کے حسن نواز کے دفتر جاتے ہیں‘ کافی پیتے ہیں‘ اخبار پڑھتے ہیں‘ ٹیلی ویژن شوز دیکھتے ہیں اور جلسوں سے خطاب کرتے ہیں‘ آپ انھیں مزید کیا این آر او دیںگے؟ آصف علی زرداری کراچی میں پرائیویٹ اسپتال میں زیر علاج ہیں‘ یہ گھر اور اسپتال دو جگہوں پر رہتے ہیں‘ ان پر فرد جرم بھی آن لائن لگتی ہے اور یہ آن لائن اسے ’’ری جیکٹ‘‘ بھی کر دیتے ہیں‘ یہ بھی پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں تقریریں کرتے ہیں‘ آپ انھیں بھی مزید کیا این آر او دیں گے؟ میاں شہباز شریف کو نیب نے چارماہ حراست میں رکھا‘ یہ قید سے نکلے‘ لندن گئے‘ واپس آئے‘ یہ اب دوسری بار قید میں ہیں اور  قید خانے کے ساتھ ایڈجسٹ کر چکے ہیں‘ آپ انھیں مزید کتنے سال قید میں رکھ لیں گے؟ نیب ان پر پچھلے الزامات ثابت نہیں کر سکا‘ یہ مزید کیا تیر مار لے گا لہٰذا یہ بھی اگلے ماہ تک باہر ہوں گے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے تقریر کر رہے ہوں گے‘ حمزہ شہباز 18ماہ سے نیب کی حراست میں ہیں‘نیب ان کی حراست کو بھی جسٹی فائی نہیں کر پا رہا‘ یہ اب کسی بھی وقت باہر آ جائیں گے‘ اسحاق ڈار بھی لندن بیٹھے ہیں‘ مریم نواز جلسوں اور پریس کانفرنسوں سے خطاب کر رہی ہیں‘ حکومت میں مولانا فضل الرحمن کوگرفتار کرنے کی ہمت نہیں۔ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی ریفرنسز بھگت کر گھروں میں بیٹھے ہیں‘

یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں پر نو ہزارکلوگرام ایفی ڈرین کا الزام تھا‘ یہ بھی گھرمیں بیٹھے ہیں‘ شاہد خاقان عباسی سات ماہ قید میں رہ کر باہر آ گئے‘ خواجہ سعد رفیق 15ماہ قید میں رہے‘ یہ اب 9ماہ سے گھر میں ہیں‘ رانا ثناء اللہ 6 ماہ بعد گھر آ گئے‘ احسن اقبال دوماہ اندر رہے‘ خواجہ آصف کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہو رہے۔نیب بلاول بھٹو اور سید مراد علی شاہ کو بھی آج تک گرفتار نہیں کر سکا‘ فواد حسن فواد19ماہ قید میں رہے‘ یہ قید کے دوران نوکری سے ریٹائر ہو گئے‘ احد چیمہ کی سزا طویل ہو گئی‘ یہ بے چارہ دو سال 10ماہ سے اہلیت اور ڈیلیوری کی سزا بھگت رہا ہے‘ اس کی ضمانت بھی ہو چکی ہے بس آخری آرڈر آنے کی دیر ہے اور یہ بھی گھر بیٹھا ہو گا چناں چہ سوال یہ ہے پیچھے کون بچا ہے اور آپ کس کو این آر او دیں گے اور کیسے دیں گے‘‘۔ میری گفتگو طویل ہو گئی‘ وہ اس دوران کرسی پر کروٹیں بدلتے رہے‘ میں جوں ہی خاموش ہوا وہ لپک کر بولے ’’یہ سب گروہ ہیں‘ یہ پورے سسٹم کو خراب کر چکے ہیں‘بیورو کریٹس ان کے خلاف ثبوت جمع نہیں کرتے‘ پولیس انھیں گرفتار نہیں کرتی‘ نیب ان کے خلاف ریفرنس نہیں بناتا‘ سرکاری وکیل ان کے خلاف دلائل نہیں دیتے اور عدالتیں انھیں ضمانت دے دیتی ہیں‘ یہ عوام کو بھی سڑکوں پر لے آتے ہیں‘ یہ سسلین جیسے ہیں‘ پورے سسٹم میں ان کی جڑیں ہیں اور ان جڑوں نے پورا سسٹم کھوکھلا کر دیا ہے۔

عمران خان کے پاس اب دو آپشن ہیں‘ یہ حالات کو جوں کا توں چلنے دیں یا پھر یہ سعودی عرب کی طرح ان سب کو پکڑیں‘ قید میں پھینکیں‘ ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس کرائیں اور انھیں ٹھڈا مار کر ملک سے باہر پھینک دیں‘ یہ ملک تب ٹھیک ہو گا اور آپ کو مارچ میں یہ ہوتا ہوا نظر آئے گا‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’یہ لوگ یقیناً چور ہوں گے لیکن آپ ایک سوال کا جواب دیں‘یہ چور لوگ کس کی پیداوار ہیں‘ شیخ رشید بار بار کہتے ہیں یہ سب گیٹ نمبر چار سے نکلے ہیں یا یہ اسٹیبلشمنٹ کے گملے میں پیدا ہوئے تھے وغیرہ وغیرہ۔ ہم اگر یہ مان لیں یہ لوگ جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء الحق کے گملے میں پیدا ہوئے تھے یا گیٹ نمبر چار سے نکلے تھے تو اس کا کیا مطلب ہو گا؟ اس کا مطلب ہو گا یہ لوگ انھی لوگوں نے پیدا کیے جو آج انھیں پکڑ رہے ہیں اور ان کی ناک رگڑنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ آپ ان میں سے کوئی ایک شخص یا پارٹی دکھا دیں جو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار نہ ہو لہٰذا پھر اصل ذمے دار کون ہے؟دوسرا جو لوگ اس وقت آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں یہ کون لوگ ہیں؟ کیا چوہدری صاحبان پاکستان مسلم لیگ ن سے نہیں نکلے‘ کیا شیخ رشید 14سال میاں صاحبان کے ساتھ نہیں رہے اور کیا یہ اس جنرل پرویز مشرف کی کابینہ کا حصہ نہیں رہے جس کے خلاف عمران خان سڑکوں پر تحریک چلاتے رہے اور شیخ رشید انھیں ’’معمولی کھلاڑی‘‘

کہتے تھے‘کیا جی ڈی اے کے لوگ بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے نہیں آئے اور کیا یہ ماضی میں اقتدار کا حصہ نہیں رہے۔ کیا ایم کیو ایم ماضی کے ہر بدعنوان دور کی سیاسی حلیف نہیں رہی اور کیا پی ٹی آئی کے اسی فیصد ایم این ایز اور ایم پی ایز ماضی میں اسی سسلین کا بازو اور ٹانگیں نہیں تھے؟ کیا یہ کل تک میاں دے نعرے وجن دے اور زرداری سب پر بھاری کے نعرے نہیں لگاتے تھے؟‘‘ میں نے لمبی سانس لی اور عرض کیا ’’آپ بھی بڑے دل چسپ لوگ ہیں‘ آپ اپنے ساتھ ملنے والے ’’سب سے بڑے لٹیروں کو این آر او کے بغیر سینے سے لگا لیتے ہیں اور جو لوگ مقدمے بھگت کر یا جہازوں پر بیٹھ کر باہر چلے گئے انھیں دیکھ دیکھ کر ’’میں این آر او نہیں دوں گا‘‘ کے نعرے لگاتے رہتے ہیں‘ آپ آخر کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں‘ آپ آخر کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟‘‘۔وہ غصے میں آگئے اور مجھے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگے‘میں ڈر گیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا لیکن میرے اندر کا پاگل ابھی زندہ تھا چناں چہ میں نے ان سے عرض کیا ’’جناب آپ جب تک ماضی کو ماضی نہیں سمجھیں گے آپ اس وقت تک حال میں قدم نہیں رکھیں گے اور آپ جب تک حال کی حقیقتوں کو نہیں مانیں گے آپ اس وقت تک مستقبل میں نہیں جائیں گے لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے آپ صرف 1971 جیسا ماضی دیکھ لیں۔ہم بنگالیوں سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے

لیکن پھر ہم نے بنگلہ دیش کو تسلیم بھی کیا اور شیخ مجیب الرحمن جیسے ڈکلیئرڈ غداروں کو سلامی بھی دی‘ ہمیں کیا فائدہ ہوا؟ ہم اگر بنگالیوں سے بات کر لیتے‘ ہم اگر انھیں پاکستانی مان لیتے اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کر لیتے تو کیا آج پاکستان کی تاریخ مختلف نہ ہوتی؟ ہم نے ان سے بات کی لیکن اس وقت کی جب ڈھاکا سے پاکستان کا پرچم اتر چکا تھا ‘ آج بھی ہمارے پاس وقت ہے‘ حکومت اور اپوزیشن دونوں پاکستانی ہیں‘ اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دان دونوں اسی ملک کے باشندے ہیں۔ آپ سب اکٹھے بیٹھیں‘ ایک دوسرے کی سنیں‘ درمیان کا راستہ نکالیں اور ایشوز سیٹل کریں‘یہ ملک کھائی سے باہر آ جائے گا‘ آپ بے شک چوری اور لوٹ مار پر کوئی کمپرومائز نہ کریں لیکن کارروائی ’’اکراس دی بورڈ‘‘ ہونی چاہیے‘ملک میں میرے چور اور تیرے چور اور مقدس چور اور غیر مقدس چور کی تفریق نہیں ہونی چاہیے‘ عمران خان اڑھائی سال گزار چکے ہیں‘ آپ مل کر اگلے اڑھائی سال کا کوئی فارمولا بنا لیں تاکہ یہ روز روز کی بک بک ختم ہو۔ آپ یہ یاد رکھیں آپ نے اگر یہ مذاکرات نہ کیے‘ آپ اگر اکٹھے نہ بیٹھے تو پھر آپ کو تین ملکوں سے مذاکرات کرنا پڑیں گے اور آپ کے پاس میز سے اٹھنے کا آپشن بھی نہیں ہو گا‘‘ میں خاموش ہو گیا‘ وہ میری گفتگو کے دوران تلملا رہے تھے‘ میں خاموش ہوا تو وہ کرسی پر ہاتھ مار کر بولے ’’اوور مائی باڈی‘‘۔میں نے سلام کیا اور چپ چاپ باہر آگیا‘ باہر کا موسم اندر کے موسم سے بہتر تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.