جاوید چوہدری کی تازہ ترین تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) اقبال احمد پاکستان کے حقیقی دانشور تھے‘ یہ بہار میں گیا کے مضافات میں چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے‘ والد زمین کے جھگڑے میں ان کی آنکھوں کے سامنےزندگی سے محروم ہو گئے‘ 1947میں اپنے بھائی کے ساتھ بہار سے پیدل لاہور پہنچے‘ ایف سی کالج میں داخلہ لیا‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اکنامکس میں ڈگری لی اور اسکالرشپ پر کیلی فورنیا امریکا کے ایکسیڈنٹل (Occidental) کالج میں داخل ہو گئے اور سیاست اور مڈل ایسٹ ہسٹری پڑھنا شروع کر دی۔اقبال احمد اس زمانے میں پہلے دانشور اور لکھاری تھے جنھوں نے دعویٰ کیا وہ وقت دور نہیں جب یہ شخص امریکا اور اسلامی دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہو جائے گا‘ انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا تھا‘ یہ پاکستان کا بھی دشمن نمبر ون ہو گا‘یہ باتیں دنیا کو اس وقت حیران کن بلکہ گپ لگی تھیں‘ اقبال احمد پاکستان میں ڈان میں کالم بھی لکھتے تھے اور پوری دنیا میں پاکستان کی دانشورانہ پہچان بھی تھے۔میاں نواز شریف اقبال احمد سے متاثر تھے‘یہ انھیں امریکا سے پاکستان لے آئے‘ مجھے آج تک ایک سوال کا جواب نہیں مل سکا‘ لوگ نواز شریف کو کند ذہن کہتے ہیں لیکن ملک کے تمام غیرمعمولی کام نواز شریف کے دور میں ہوئے‘ آپ موٹروے سے لے کر سی پیک تک پاکستان کے تیس برسوں کے بڑے منصوبوں اور واقعات کی فہرست بنا لیں‘ آپ کو ہر جگہ نواز شریف نظر آئے گا‘یہ اگر نالائق یا کند ذہن ہیں تو یہ پھرایسے حیران کن کام کیسے کرتے رہے‘ حمیداللہ خان ہوں یا پھر اقبال احمد یہ ان کے دور میں پاکستان کیوں آئے اور انھیں میاں نواز شریف ہی یہاں کیوں لے کر آئے؟ دوسرا نواز شریف کو ہر اچھے اور بڑے کام کے بعد مغلطات کیوں پڑی؟(مجھے یہ بھی یقین ہے۔

ان چند سطروں پر مجھے اور میری برکت سے نواز شریف کو ایک بار پھر مغلطات سے نوازا جائے گا ) جب کہ ان کے مقابلے میں جن لوگوں کے ادوار میں کچھ بھی نہیں ہوا‘ جن کی غلطیوں سے پورے ملک میں نفرتوں کی سرنگیں بچھ گئیں اور لوڈ شیڈنگ اور بدامنی عوام کی زندگی کا حصہ بنے‘ وہ ہمیشہ معزز بھی سمجھے جاتے ہیں اور معصوم بھی‘ کیوں؟ مجھے کبھی اس سوال کا جواب نہیں مل سکا۔ میں اقبال احمد کی طرف واپس آتا ہوں‘ میاں نواز شریف 1997 میں اقبال احمد کو پاکستان لے آئے اور انھیں ٹیکسٹائل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کا سربراہ بنا دیا‘ نواز شریف نے انھیں اسلام آباد میں پرائیویٹ اور خود مختار یونیورسٹی بنانے کے لیے زمین بھی الاٹ کر دی‘ یہ ابن خلدون کے نام پر پاکستان میں خلدونیہ یونیورسٹی بنانا چاہتے تھے۔حکومت نے انھیں چارٹر دے دیا‘ اقبال احمد نے کام شروع کر دیا لیکن یہ بدقسمتی سے بڑی آنت کے کینسر میں مبتلا ہوئے‘ ان کا آپریشن ہوا اور یہ آپریشن کے دوران 11 مئی 1999 کو ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے‘ یہ کتنے بڑے اسکالر اور نامور انسان تھے آپ اس کا اندازہ صرف ایک بات سے لگا لیجیے‘ ان کے انتقال پر ہیمپشائر کالج نے تعزیتی تقریب منعقد کی‘ اس تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان‘ ایڈورڈ سعید‘ نوم چومسکی اور ارون دتی رائے جیسے لوگ شریک ہوئے اور کھل کر ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔میں نے اقبال احمد کا یہ سارا بیک گراؤنڈ صرف ایک واقعہ سنانے کے لیے لکھا‘ کیوں؟ کیوں کہ مجھے یقین ہے ملک کے ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد لوگ اقبال احمد سے واقف نہیں ہوں گے چناں چہ اس کالم کے ذریعے چند ہزار ہی سہی لیکن کم از کم لوگ اقبال احمد سے متعارف تو ہو جائیں گے۔اقبال صاحب 40سال بعد پاکستان واپس آئے اور یہ اسلام آباد میں رہائش پذیر ہو گئے تو ایک دن ان کے ایک دوست نے ان سے پوچھا ’’آپ پاکستان میں رہتے ہوئے امریکا‘ یورپ اور مڈل ایسٹ کی کون سی چیز مس کرتے ہیں‘‘ یہ مسکرا کر بولے ’’اچھی گفتگو‘‘ پوچھنے والے نے حیرت سے عرض کیا ’’کیا مطلب‘‘ یہ بولے ’’دنیا جہاں میں پڑھے لکھے لوگوں کے پاس گفتگو کے بے شمار موضوعات ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ان کے پاس سیاست اور سکینڈلز کے علاوہ کوئی موضوع نہیں ہوتا‘ آپ جس بھی محفل میں بیٹھ جائیں اور کوئی بھی موضوع چھیڑ دیں وہ محفل چند منٹوں میں سیاست اور سیاست دانوں کے سکینڈلز میں تبدیل ہو جائے گی اور لوگ اس پر گھنٹوں گفتگو کرتے رہیں گے‘ دنیا بھر میں لوگ آئیڈیاز پر بات کرتے ہیں لیکن پاکستان میں ہر جگہ‘ ہر محفل میں شخصیات آئیڈیاز کی جگہ لے لیتی ہیں چناں چہ میں پاکستان میں اچھی گفتگو کومس کرتا ہوں‘‘۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *