جاوید چوہدری کی خوفناک پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں حفیظ شیخ کا ناقد تھا اور ناقد ہوں‘ یہ آئی ایم ایف کے ملازم ہیں‘ یہ بریف کیس کے ساتھ پاکستان آتے ہیں اور بریف کیس لے کر واپس چلے جاتے ہیں‘ یہ اب بھی واپس جا رہے ہیں

لہٰذا میں کبھی ان کے حق میں نہیں تھا لیکن انھیں جس طریقے سے ہٹایا گیا یہ ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے‘ آپ حکومت کی بائی پولرحرکات ملاحظہ کیجیے‘ یہ مہینے کے شروع میں حفیظ شیخ کو سینیٹر بنانے کے لیے ٹل کا زور لگا دیتی ہے اور پھر اسی مہینے کے آخر میں انھیں اچانک ہٹا دیتی ہے اور یہ اس عمل میں بجٹ تک کو فراموش کر دیتی ہے۔کیا یہ رویہ نارمل ہے؟ کیا ہم اسے عقل کی کسی کسوٹی پر جانچ سکتے ہیں؟ جی نہیں لہٰذا ہمیں اب یہ مان لینا چاہیے ہم نے نادانی میں ملک ایسے ہاتھوں میں دے دیا ہے جو بڑے بڑے نازک فیصلے اتنی آسانی سے کر گزرتے ہیں جس آسانی سے کوئی سگریٹ بھی نہیں بجھاتا چناں چہ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن ہم اس فیز میں داخل ہو چکے ہیں جس میں ہمیں اب ڈر جانا چاہیے۔آپ ملک میں گورننس کی حالت دیکھ لیجیے‘ ریاست 15 ماہ میں ملک میں کورونا ایس او پیز نافذ نہیں کرا سکی‘ پوری دنیا اپنے لوگوں کو دھڑادھڑ ویکسین لگا رہی ہے لیکن ہم نے اب تک ویکسین کی ایک خوراک بھی نہیں خریدی‘ ہمارے صدر اور وزیراعظم کو بھی امدادی ویکسین لگائی گئی ہے‘ پورے ملک میں کورونا پھیل رہا ہے۔ہم ’’ریڈ لائین‘‘ بھی کراس کر چکے ہیں لیکن حکومت نے ابھی تک پرائیویٹ ویکسین کی قیمت طے نہیں کی‘ ہم یہ مان لیتے ہیں کورونا ایک نیا عذاب ہے اور دنیا میں ابھی تک صرف چھ ملک کورونا ویکسین بنا رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے پولیو‘ ملیریا اور انفلوئنزا تو پرانا ایشو ہے‘ ہم نے آج تک ان کی ویکسین کیوں نہیں بنائی؟ ہم آج بھی پولیو کے ڈراپس درآمد کر رہے ہیں‘ ہمارے ملک میں ’’او آر ایس‘‘ تک نہیں بن رہا

جب کہ ہمارے مقابلے میں بھارت میں ایک ارب 39کروڑ لوگ رہتے ہیں‘ یہ غربت اور پولرائزیشن میں بھی ہم سے بہت آگے ہے لیکن یہ پوری دنیا کو 14 قسم کی ویکسین فراہم کر رہا ہے‘ یہ پولیو ویکسین تک بنا رہا ہے‘ یہ اس وقت بھی کورونا ویکسین کا دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے‘ یہ پوری دنیا کو ویکسین سپلائی کر رہا ہے‘ یہ اپنے 55 ملین شہریوں کو اپنی بنائی ویکسین بھی لگا چکا ہے جب کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم ویکسین کے لیے بھی در در بھیک مانگ رہے ہیں۔ہم نے 1965 میں بھارت سے پہلے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) بنایا تھا‘ یہ ادارہ بیماریوں کی ریسرچ اور ویکسین کی تیاری کے لیے بنایا گیا تھا‘ آپ نے کبھی اس کے چیئرمین کو بلا کر پوچھا ’’آپ لوگوں نے اب تک کیا کیا؟‘‘ آپ نے اب تک پولیو کی ویکسین کیوں نہیں بنائی‘ ہم نے کبھی ان سے پوچھا آپ نئی چیز ایجاد نہ کریں لیکن دنیا میں جو چیزیں ایجاد ہو چکی ہیں آپ کم از کم وہ ہی بنا لیتے‘ آپ کو اس سے کس نے روکا تھا؟ ہم نے آج تک پوچھا اور نہ ہی ہم پوچھیں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ ہم آپس کی لڑائی سے فارغ ہوں گے تو ویکسین کی باری آئے گی ناں اور ہم یہ موقع آنے نہیں دیں گے۔ہم امدادی سامان جمع کرتے کرتے پیدا ہوتے ہیں اور ہم خیرات اور امداد لیتے لیتے فوت ہو جائیں گے‘ ہم اسی طرح اپنے کُرتے ادھیڑتے اور سیتے رہیں گے‘ ہم اسی طرح چلتے جہاز کے کاک پٹ میں کبھی اسد عمر‘ کبھی حفیظ شیخ اور کبھی حماد اظہرکو بٹھاتے اور اٹھاتے رہیں گے‘ آپ یقین کریں مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے ہم خود اس ملک کو چلتا نہیں دیکھنا چاہتے چناں چہ یہ جوں ہی کسی ہموار اور پکی سڑک پر آتا ہے ہم اس گاڑی کو جان بوجھ کر دوبارہ کچے راستے پر اتار دیتے ہیں‘ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں دنیا کا بڑے سے بڑا سائنس دان بھی یہ اندازہ نہیں کر سکتا لیکن سوال یہ ہے یہ کب تک چلے گا؟ آخر کب تک!! ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *