جاوید چوہدری کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ ایسی لیڈر شپ کا فقدان ہے‘ پوری دنیا میں لیڈروں کا تعلق عموماً بڑے گھرانوں سے ہوتا ہے‘ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں‘ان کا گلوبل ایکسپوژر بھی ہوتا ہے

اور یہ اندر سے رجے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ جب سیاست میں آتے ہیں تو یہ سادگی اور غریب پروری کا تحفہ ساتھ لے کر آتے ہیں‘ یہ عام آدمی کی صرف باتیں نہیں کرتے یہ عام آدمی نظر بھی آتے ہیں مگر ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے‘ ہم ’’ڈرٹی پالیٹکس‘‘ کے ایک خوف ناک جوہڑ میں غوطے کھا رہے ہیں۔ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں غریبوں کی باتیں ضرور کرتی ہیں لیکن ان کے لیڈروں کا لائف اسٹائل اور ان کی شخصیت ان باتوں سے میچ نہیں کرتی‘یہ پارٹیاں سیاسی پارٹیوں کی طرح نہیں‘ یہ سیاسی خاندانوں اور پولیٹیکل کارپوریشنز کی طرح چل رہی ہیں‘ میرا خیال تھا یہ صورت حال وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گی‘ پارٹیوں کا ارتقاء ہو جائے گا اور ان میں سے بھی کوئی جواہر لال نہرو یا اندرا گاندھی نکل آئے گی مگر افسوس ایسا نہیں ہو سکا اور ملک خوف ناک سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن ماضی میں کیا کرتی رہیں؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں‘ ان دونوں پارٹیوں نے اقتدار تک پہنچنے اور اقتدار میں رہنے کے لیے کیا کیا نہیں کیا؟ یہ سب جانتے ہیں اور یہ اسٹیبلشمنٹ کا کون کون سا کندھا استعمال نہیں کرتے رہے‘ یہ بھی پوری دنیا جانتی ہے لیکن جب بلاول بھٹو اور مریم نواز آئے تو میرا خیال تھا یہ دونوں جماعتیں ماضی سے بہت کچھ سیکھ چکی ہیں‘ یہ اب ایک دوسرے کو سیاسی دھوکا نہیں دیں گی۔یہ صاف ستھری اور بااصول سیاست کریں گی اور ان کی نئی نسل ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائے گی لیکن بدقسمتی سے ماضی کی غلطیاں زیادہ قوت

کے ساتھ واپس آئیں اور انھوں نے سیاسی جوہڑ میں تعفن بھی پیدا کر دیا‘ اس بار دونوں پارٹیوں کے بزرگوں نے اپنی اپنی گنیں نوجوان قائدین کے کندھوں پر رکھ کر چلائیں اور ان دونوں نئے لیڈروں کی کریڈیبلٹی بھی تباہ کر دی‘ میدان میں مریم نواز اور بلاول بھٹو لڑتے رہے‘ یہ استعفوں استعفوں کی گردان کرتے رہے اور دوسری طرف آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف مذاکرات مذاکرات کھیلتے رہے۔کیا یہ وہ اصولی اور نظریاتی سیاست تھی جس کے لیے آپ عوام کے سمندر کو سڑکوں پر دیکھنا چاہتے ہیں؟ ہمیں یہ ماننا ہوگا دونوں جماعتوں کے بزرگ قائدین نے نئی نسل کا سیاسی کیریئر تباہ کر دیا‘ آج اگر پی ڈی ایم کام یاب نہیں ہوتی‘ آج اگر دونوں جماعتوں کے ارکان استعفے نہیں دیتے اور آج اگر یہ گورنمنٹ نہیں جاتی تو بلاول بھٹو اور مریم نواز دونوں کی کریڈیبلٹی ختم ہو جائے گی اور یہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے‘ اسٹیبلشمنٹ اور تینوں سیاسی جماعتوں کا ایشو بہت کلیئر ہے‘ اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے آپ اگر ہماری مدد سے اقتدار میں آتے ہیں تو پھر ہمیں تسلیم کریں۔ہماری جڑیں کاٹنے کی کوشش نہ کریں‘یہ کہتے ہیں ہم آپ کی تعیناتی کرتے ہیں‘ ہم بڑے ہیں‘ ایشو صرف یہ ہے اور ملک کا بیڑا غرق ہو رہا ہے‘ ن لیگ کو مسلسل پیغام دیا جا رہا ہے پارٹی شریفوں کو سائیڈ پر کر دے‘ نواز شریف اور مریم نواز دونوں کسی قیمت پر قبول نہیں ہیں‘ پارٹی شریف خاندان کے علاوہ کسی کو بھی وزیراعظم نامزد کر دے‘ کوئی اعتراض نہیں کیا

جائے گا‘ میاں نواز شریف ایک وقت پر اس آپشن پر راضی ہو گئے تھے لیکن پھر پارٹی کے اندر پانچ وزیراعظم پیدا ہو گئے اور ان میں سے ہر ’’وزیراعظم‘‘ نے ’’مین گرڈ‘‘ سے ڈائریکٹ کنڈا لگا لیا‘ یہ اپنے لیے ووٹ بھی جمع کرنے لگ گئے۔یہ کوشش میاں نواز شریف کو بری لگی چناں چہ انھوں نے پانچوں سے ہاتھ کھینچ لیا‘ میاں شہباز شریف پر بھی سمجھوتہ ہو گیا تھا لیکن عمران خان دیوار بن کر کھڑے ہو گئے‘یہ مہرہ یا دوٹیموں کا بلا بننے کے لیے تیار نہیں تھے‘ ہمیں آج عمران خان کو داد دینی ہو گی‘ یہ اس صورت حال کے سب سے بڑی بینی فیشری بن گئے ہیں‘ عمران خان کو جو لوگ سیاسی اناڑی کہتے تھے میرا خیال ہے اب ان لوگوں کو اپنی اصلاح کر لینی چاہیے‘ خان اب تک آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ٹھیک ٹھاک انگیج رکھنے میں کام یاب رہے ہیں۔یہ بلاول بھٹو اور مریم نواز دونوں کو اپنا مہرہ بنا کر کھیل رہے ہیں‘ بلاول بھٹو پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے تھے‘ مریم نواز بھی اپنے انکلز کی بیساکھیوں سے نکل کر بھائیوں پر انحصار کر رہی تھیں‘ یہ اپنی ٹیم بنا رہی تھیں‘ ان میں عوامی اپیل بھی ہے اور یہ کراؤڈ کو بھی پُل کر رہی ہیں چناں چہ یہ دونوں مستقبل کے قائد تھے لیکن عمران خان نے دونوں پارٹیوں کے استعفوں کے موقف اور ’’حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے‘‘ کے دعوؤں سے ہوا نکال کر دونوں نئے قائدین کا سیاسی کیریئر داؤ پر لگا دیا‘

حکومت مریم نواز کو گورباچوف کہتی ہے۔یہ لوگ سمجھتے ہیں مریم نواز اگر اسی طرح چلتی رہیں تو یہ سال دو سال میں پوری پارٹی تباہ کر دیں گی‘ آپ دیکھ لیں پاکستان مسلم لیگ ن کے سارے انکل جانتے تھے پاکستان پیپلز پارٹی استعفے نہیں دے گی‘ مریم نواز نے اس ایشو پر انکلز کی رائے مسترد کر کے ایکسٹریم پوزیشن لے لی اور اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ بلاول بھٹو بھی اپنے استعفوں کو اٹامک استعفے کہتے رہے مگر اس بڑھک کا کیا نتیجہ نکلا؟ زرداری فیکٹر جیت گیا اور بلاول بھٹو کی سوچ ہار گئی۔مولانا فضل الرحمن سے دوسری بار بھی دھوکا ہو گیا‘ پہلی بار ن لیگ نے فائدہ اٹھا لیا تھا‘ میاں نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے تھے اور اس بار پاکستان پیپلز پارٹی نے ’’سندھ حکومت پانچ سال پورے کرے گی اور گورنر راج نہیں لگے گا‘‘ کا وعدہ لیا اور پیچھے ہٹ گئی اور یہ ہے سیاست‘ ہمارے ملک کی ڈرٹی پالیٹکس۔ملک کی دونوں سیاسی جماعتیں واقعی اپنی نئی قیادت کو قائد بنانا چاہتی ہیں تو پھر انھیں دو کام کرنا ہوں گے‘ یہ ان سے اپنے گندے کپڑے نہ دھلائیں‘ یہ اگر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو کریں اور اگر نہیں کرنا چاہتے تو پھر صاف انکار کریں‘ اپنی نئی نسل کو دھوکا نہ دیں‘عوام کے سامنے ان سے وہ وعدے نہ کرائیں جن سے آپ نے یوٹرن لے لینا ہے اور دوسرا دنیا اب بدل چکی ہے‘ ہم ساٹھ اور ستر کی دہائی میں نہیں ہیں‘ یہ لوگ اب ہیلی کاپٹروں اور جہازوں سے اتر کر اور بارہ بارہ لاکھ روپے کے بیگ اور جوتے پہن کر میرے بھائیو اور میری بہنوں کے دعوؤں سے لوگوں کو دھوکا نہیں دے سکیں گے۔ اور آخری مشورہ‘ آپ یہ بھی فیصلہ کر لیں آپ کی پارٹیاں آخر چلانی کس نے ہیں؟ آپ کے گھروں میں اٹھارہ اٹھارہ لیڈر ہیں‘ یہ سب بھٹو اور نواز شریف ہیں اور پارٹی اور عوام ان سب کو حیرت سے دیکھ رہے ہیں‘ ان کو سمجھ نہیں آ رہی یہ کس بھٹو اور کس نواز شریف پر یقین کریں!۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *