جاوید چوہدری کے دلائل آپ کو بھی سوچ میں ڈال دیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاؤں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاؤں کے چوہدری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ دو خاندان لڑ رہے تھے اور میرے دوست کے تایا حقہ لے کر درمیان میں بیٹھے تھے‘ وہ پہلے ایک فریق کی بات سنتے تھے اور پھر دوسرے فریق کی۔دونوں فریق ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے اور تایا اطمینان سے حقہ پی رہے تھے‘ پنچایت شام تک چلتی رہی اور میں کھڑکی سے یہ سارا منظر دیکھتا رہا‘ تایا جان درمیان میں لنچ کے لیے گھر چلے گئے‘ یہ لنچ کر کے ایک آدھا گھنٹہ سستا کر دوبارہ آ گئے جب کہ فریقین اس دوران بھی ایک دوسرے کو گالیاں اور کوسنے دیتے رہے‘ تایا جان واپس آئے اور دوبارہ عدالت کی عنان سنبھال لی۔شام کے وقت اعلان ہوا چوہدری صاحب کل فیصلہ کریں گے‘ آپ لوگ اب واپس چلے جائیں‘ دونوں فریق ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہوئے رخصت ہو گئے‘ میں نے رات کے کھانے پر اپنے دوست سے پوچھا ’’یہ سارا دن یہاں کیا ہوتا رہا‘‘ میرے دوست نے قہقہہ لگایا اور بولا ’’یہ چودھراہٹ ہو رہی تھی‘‘ میں حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ بولا ’’میرے تایا علاقے کے چوہدری ہیں‘ رشتوں سے لے کر تدفین تک سارے فیصلے یہ کرتے ہیں۔آج کے دونوں فریقین ایک دوسرے کے رشتے دار ہیں‘ ایک خاندان کی لڑکی دوسرے خاندان میں بیاہی ہوئی ہے‘ یہ شادی کے دوسرے دن سے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں اور یہ باقی زندگی بھی لڑتے رہیں گے‘‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولا ’’

یہ دونوں تگڑے خاندان ہیں‘ بچی بی اے پاس ہے جب کہ لڑکا ان پڑھ اور بدتمیز ہے‘ یہ رشتہ ہمارے تایا جان نے کرایا تھا‘ یہ جب رشتہ کرا رہے تھے تو میں نے ان سے کہا تھا‘ تایا جی آپ یہ ظلم کیوں کر رہے ہیں۔لڑکی اور لڑکے کا کوئی جوڑ نہیں‘ یہ زیادتی ہو گی‘ تایا جی نے اس وقت ہنس کر کہا تھا’’ یہ دونوں تگڑے ہیں‘ یہ اگر ایک ہو گئے تو یہ ہمیں علاقے میں چودھراہٹ نہیں کرنے دیں گے چناں چہ میں ان کا بے جوڑ رشتہ کرا رہا ہوں۔یہ دونوں رشتے کے بعد آپس میں لڑتے رہیں گے اور یوں ہماری چودھراہٹ قائم رہے گی‘‘ میں یہ سن کر سکتے میں آگیا اور میں نے حیرت سے پوچھا ’’یہ لوگ اگر ایک دوسرے سے اتنے تنگ ہیں تو یہ طلاق کیوں نہیں لیتے‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’ہمارے علاقے میں طلاق جان لینے سے بڑا جرم ہوتی ہے‘ اگر کسی نے طلاق مانگ لی یا دے دی تو پھر یہ لڑائی میں تبدیل ہو جائے گی‘ دوسرا اگر طلاق ناگزیر ہوئی تو یہ فیصلہ بھی تایا جی کریں گے اور تایاجی اپنی زندگی میں یہ فیصلہ نہیں کریں گے کیوں کہ دونوں خاندانوں کے درمیان سیٹل منٹ کا تایاجی کی چودھراہٹ کو نقصان ہو گا اور یہ مر جائیں گے مگر اپنا نقصان نہیں ہونے دیں گے‘‘۔آپ یہ منطق سن کر یقینا حیران ہوں گے لیکن یہ منطق نہ صرف اس ملک میں چل رہی ہے بلکہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے اور اس المیے کی جڑ پنجاب ہے‘ پنجاب پاکستان کا 60 فیصد ہے‘

یہ 12کروڑ لوگوں کا صوبہ ہے چناں چہ آپ جس طرف بھی نکل جائیں آپ کو وہاں پنجابی سوچ کا غلبہ ملے گا اور ہم پنجابیوں کی سوچ یہ ہے‘ اول ہم خود کچھ کرتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کو کرنے دیتے ہیں‘ دوسرا ہم مر جائیں گے مگر اپنے ہاتھ سے اپنی چودھراہٹ نہیں نکلنے دیں گے اور تیسرا ہم دوسروں کو اکٹھا نہیں ہونے دیتے‘ ہم ’’لڑائیں اور مزے کریں‘‘ کے حامی ہیں‘ میں دوبارہ سی سی پی او عمر شیخ کی مثال دوں گا۔یہ کیا ہیں؟ یہ پنجاب کے اصلی مرد بچے ہیں‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا ہم پنجابیوں کی اکثریت ایسا نہیں سوچتی‘ کیا خواتین کے بارے میں ہماری رائے عمر شیخ کے خیالات سے نہیں ملتی؟ لہٰذا جب ہمارا کلچر‘ ہماری تہذیب اور ہماری زبان عورت کو عزت نہیں دیتی تو پھر پنجابی افسروں میں شائستگی اور تہذیب کہاں سے آئے گی‘یہ عمر شیخ کیوں ثابت نہیں ہوں گے؟مجھے یقین ہے میں ایک اور غیر مقبول کالم لکھ رہا ہوں‘ ملک کی ساٹھ فیصد اکثریت اور 12 کروڑ چوہدریوں کے خلاف بات کرنا اور انسان خود بھی ان میں سے ایک ہو یہ کہاں کی عقل مندی‘ یہ کہاں کی سمجھ داری ہے لیکن ہم نے اگر یہ ملک چلانا ہے تو پھر ہمیں اپنے ڈی این اے کو سمجھنا ہو گا‘ ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہوگا ‘ ہمیں ماننا ہوگا ہمارے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہم پنجابیوں کی سوچ ہے۔ہم خود کچھ کر رہے ہیں اور نہ کسی دوسرے کو کرنے دے رہے ہیں‘

ہم نے اس ملک میں ایک متحارب سوچ بھی پیدا کر دی ہے‘ لڑو‘ لڑو اور بس لڑو‘ آپ دیکھ لیں ہمارے ہیروز کون ہیں؟ اس خطے میں لڑنے والا ہر شخص ہمارا ہیرو ہے‘ پوری دنیا میں پروفیسر‘ سائنس دان‘ موجد‘ موسیقار‘ گلوکار‘ مصور‘ آرکی ٹیکٹ‘ ادیب‘ شاعر اور عبدالستار ایدھی جیسے لوگ ہیرو ہوتے ہیں لیکن ہمارے ملک میںیہ لوگ آج بھی کمی کمین سمجھے جاتے ہیں۔کیوں؟ کیوں کہ ہم پنجابی ہزاروں سال سے ہاتھ سے کام کرنے والوں کو کمی اور دوسروں کے ہاتھوں کی کمائی کھانے والوں کو چوہدری سمجھتے آ رہے ہیں‘ ہمارے ملک میں کیوں کہ پنجابی سوچ کا غلبہ ہے چناں چہ ہمارے ملک میں جو بھی شخص ہاتھ سے کام کرے گا وہ کمی ہو گا خواہ وہ شاعر ہو‘ ادیب ہو‘ موسیقار ہو‘ مصور ہو یا پھر سائنس دان ہو اور ہم اسے اس وقت تک کمی سمجھتے رہیں گے جب تک وہ ہاتھ اور عقل ہلانا بند نہیں کر دیتا اور یہ بھی حقیقت ہے ہمارے پنجاب میں ہر کمی چند ہفتوں بعد کمین بھی ہو جاتا ہے۔ملک میں جب بھی کوئی غیر اخلاقی کیس سامنے آتا ہے‘ وہ خواہ پپو ہو‘ زینب کا ایشو ہو یا پھر موٹروے جیسا سانحہ ہو پورے ملک سے سرعام سزا کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں‘ ہم بڑے فخر سے ایران اور سعودی کی مثالیں بھی دیتے ہیں‘یہ آوازیں کہاں سے آتی ہیں؟ یہ بھی خالص پنجابی سوچ ہے‘ ہم پنجابی کاٹ دیں‘ لٹکا دیں اور جلا دیں کے قائل ہیں‘ ہم پنجابی صرف مجرم کو سزا نہیں دیتے ہم اس کے خاندان کو بھی سزا دیتے ہیں مجرم کی بچیاں ونی ہوتی ہیں‘

مردوں کے جرم پر ان کے گھروں کی عورتوں کو عریاں کر کے بازار میں پھرایا جاتا ہے اور پنجاب پولیس ہمیشہ چور‘ مجرم کے خاندان کے افراد کو پکڑ کر تھانے بٹھا دیتی ہے‘ آپ 1947ء کے بٹوارے کے دوران بھی پنجاب کی صورت حال دیکھ لیجیے‘ یہ ہمارے پنجابی کلچر کے بدصورت دھبے ہیں‘ہم اذیت دے کر خوش ہوتے ہیں‘ ہم سزاؤں کو خاندانوں اور برادریوں تک پھیلاتے ہیں‘ آپ سوچ ملاحظہ کیجیے۔سانحہ موٹروے کے بعد وزیراعظم نے بھی فرما دیا‘ ہمیں زیادتی کے مجرموں کو صلاحیت سے محروم کر دینا چاہیے‘ آپ کر دیں لیکن سوال یہ ہے مجرم اگر شادی شدہ ہے تو یہ سزا اسے نہیں اس کی بیوی کو ملے گی‘ بیوی کا اس میں کیا قصور ہے اور مجرم شوہر اگر ’’سزا‘‘ کے بعد بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو اس کے بچوں کی پرورش کون کرے گا؟ کیا وہ کل کو لٹیرے نہیں بن جائیں گے! دوسرا ہم اگر مجرموں کو سرعام سزا دینا شروع کر دیتے ہیں تو اس سے مجرموں کو کیا نقصان ہو گا؟ آپ تختہ دار کے مجرم کو قید خانے کی دیواروں میں لٹکائیں یا سرعام وہ تو مر جائے گا‘ اس کے لیے دونوں برابر ہوں گی لیکن یہ سر عام عام آدمی دیکھے گا تو اس کے ذہن پر کیا اثر پڑے گا۔آپ نے یہ سوچا؟ آج سے سو سال پہلے تک دنیا میں سرعام تختہ دار کی سزائیں ہوتی تھیں لیکن پھر انسان نے تاریخ سے سیکھا یہ وحشت اور بربریت ہے اور ریاست کو کبھی وحشی نہیں ہونا چاہیے چناں چہ مجرموں کو دیواروں کے پیچھے سزا دی جانے لگی‘دنیا میں آج صرف سعودی عرب اور ایران دو ملک ہیں جہاں سرعام سر سزا دی جاتی ہے اور یہ ملک بھی اس پر نظرثانی کر رہے ہیں۔دنیا میں اگر سرعام سزا سے جرم رک سکتے تو ایران اور سعودی عرب میں رک گئے ہوتے‘ وہاں یہ آج تک موجود ہیں جب کہ دنیا کے 20 کرائم فری ملکوں میںکسی کو لٹکایا جاتا ہے اور نہ کاٹا جاتا ہے لیکن وہاں بیس بیس سال سے موٹروے جیسی کوئی واردات نہیں ہوئی‘ کیوں؟ کیوں کہ ان ملکوں نے سزا پر توجہ نہیں دی‘ جرائم کنٹرول پر فوکس کیا جب کہ ہم معاشرے کو 21 ویں صدی سے واپس 15ویں صدی میں لے جانا چاہتے ہیں‘ ہم اپنی پنجابی سوچ کے ذریعے ملک کو مزید برباد کرنا چاہتے ہیں۔آپ سانحہ موٹروے کے ذمے داروں کو بے شک سزائے موت دیں لیکن انھیں سرعام سزا دے کر پورے ملک کو بیمار نہ کریں ‘ انسان کو مرتے ہوئے دیکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے‘انسان جب یہ دیکھتا ہے تو یہ اس کے بعد بیلنس نہیں رہ سکتا لہٰذا اس بیمار معاشرے پر مہربانی فرمائیں‘ اسے مزید بیمار نہ کریں‘ لوگ پاگل ہو جائیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.