جا کر اپنے جنرل کو بتا دو پاکستان میں حکومت اب ہم بنائیں گے اور ہم ہی گرائیں گے ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔گزشتہ کالم میں ، میں نے چھوٹی چھوٹی باتوں، معمولی اختلافات پر اپنے سیاسی حکمرانوں کی عدم برداشت کے ایک دو واقعات اِس تناظر میں عرض کیے تھے کہ دو شنبے میں ایک بزنس کانفرنس میں ہمارے

محترم وزیراعظم خان صاحب معمولی سی تنقید برداشت نہ کرسکے، میں نے یہ عرض کیا تھا ہمارے کچھ سیاسی حکمرانوں کے مقابلے میں اصلی حکمرانوں یعنی فوجی حکمرانوں میں قوت برداشت زیادہ تھی، نواز شریف تو ’’تنقید‘‘ بھی اپنی مرضی کی کرواتے تھے، پھر اِس تنقید کا اپنی مرضی سے جواب دے کر اِس بات پر اپنی بلے بلے کرواتے کہ اُن میں بلاکی قوت برداشت ہے، مثلاً ایک بار ایک پریس کانفرنس میں اُن کے اپنے ایک صحافی نے اُن پر ’’سخت تنقید‘‘ یہ کی ’’سر آپ اپوزیشن کو لفٹ کیوں نہیں کرواتے؟‘‘۔وہ مسکرائے اور بولے میں قومی مسائل حل کرنے میں اتنا مصروف ہوتا ہوں میرے پاس اپوزیشن کو لفٹ کروانے کا وقت ہی نہیں بچتا‘‘… یہ سوال پوچھنے والے صحافی کو داد دی گئی کہ اتنا سخت سوال صرف تم ہی پوچھ سکتے تھے… جنرل ضیاء الحق (مرحوم) کے دور میں کچھ صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو جس انداز میں بدترین انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا، تاریخ اُن کی گواہ ہے، وہ بڑے ڈرامہ باز قسم کے جرنیل تھے، اُن کے سامنے کوئی اُن پر تنقید کرتا وہ مسکراکر یہ تاثر دیتے اِس تنقید کا اُنہوں نے ذرا بُرا نہیں منایا، بعد میں تنقید کرنے والے کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا اس کا شمارزندوں میں ہوتا نہ مردوں میں… ظلم کی کئی دستانیں جنرل ضیاء الحق کے دور میں رقم ہوئیں، پھر اُن کے ساتھ قدرت نے جو کچھ کیا میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، اُس کی تفصیل سب کو معلوم ہے،آج پتہ نہیں ان کے اہل خانہ کو بھی اُن کی قبر پر حاضری کی توفیق ہوتی ہے یا نہیں؟ ممکن ہے یہ سوچ کر وہ حاضری نہ دیتے ہوں اس قبر میں رکھا ہی کیا ہے؟۔…جنرل مشرف کا دور آزادی صحافت کے لیے اتنا بُرا نہیں تھا، اُن کے دور میں صحافیوں پر جھوٹے مقدمات نہیں بنے، صحافیوں کو بے تحاشا سخت سزائیں دی گئیں ، اُنہیں قید نہیں کیا گیا، اُن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی حدیں پار نہیں کی گئیں، جنرل مشرف میں بلاکی قوت برداشت تھی، اپنے اقتدار کے تقریباً آخری دنوں میں اُن کا ایک بڑے چینل کے ساتھ پھڈا عروج پر پہنچ گیا، اُن کے چندمخلص ساتھیوں نے اُن سے کہا وہ ایک وفد اُس چینل کے مالک کے پاس دبئی بھجوا ئیں اور اُن تک یہ پیغام پہنچائیں کچھ ذاتی و قومی معاملات کو اِس حدتک خراب نہ کریں سارے راستے سارے دروازے بندہو جائیں، وفد اُس چینل کے مالک سے جاکر ملا، چینل کے مالک اِس حد تک ’’تکبرے‘‘ ہوئے تھے، کہنے لگے ’’جاکر اپنے جنرل کو بتادو پاکستان میں حکومت اب ہم بنائیں گے اور ہم گرائیں گے‘‘… اُس کے بعد جنرل مشرف کی قوت برداشت جواب دے گئی، اور وہ جنرل مشرف جس نے نیوزیا ٹی وی چینلز کے جال بچھا دیئے تھے ایک چینل کو نقصان پہنچانے کی ضد میں خود سے جُڑے ہوئے اِس تاثر کو بہت حدتک زائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ وہ اظہار رائے کی آزادی یا تنقید پر یقین رکھتا ہے… (توفیق بٹ درس وتدریس کے شعبے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ نامور کالم نگار ہیں )

Comments are closed.