جب تلاش کیا گیا تو کہاں اور کس حال میں ملی ؟

اوکاڑہ( ویب ڈیسک)اوکاڑہ کے نواح میں مبینہ ”عاشق“ نے محبوبہ کو وحشیانہ طریقے سے زندگی سے محروم کر ڈالا ۔ اور واردات کے بعد سر تن سے جدا کرکے ساتھ لے گیا تاکہ شناخت نہ ہو سکے جس ”صافے“ سے ہاتھ پاؤں باندھے گئے ،اس نےبدقسمت شمیم اور ملزم شان کی شناخت تک پہنچا دیا

،تفصیلات کے مطابق کوٹ امین شاہ حجرہ کے ایک باغ سے32سالہ عورت کا ہاتھ پاؤں بندھا اور سر سے محروم جسم برآمد ہوا ،جسے وحشیانہ طور پر زندگی سے محروم کیا گیا تھا ، اس کی شناخت کے حوالے سے اعلانات کروائے گئے ، واردات اس وقت ٹریس ہوگئی جب اس کپڑے ”صافہ“ کی شناخت ہوئی جس کے ساتھ ہاتھ پاؤں باندھے گئےتھے،بتایا جاتا ہے کہ شمیم بی بی کے مبینہ طور پر ضلع خانیوال کے شان مقبول کے ساتھ غلط تعلقات تھے اور وہ خانیوال جاتی رہتی تھی،جس کا شمیم بی بی کی بوڑھی والدہ ذکراں بی بی کو بھی علم تھا،گزشتہ چھ روز سے شمیم بی بی گھر سے غائب تھی، ورثاء کو جب سر کے بغیر بے جان جسم دکھایا گیا تو انہوں نے اس کپڑے”صافہ“ کو شناخت کر لیا جو شان کے پاس اکثر ہوتا تھا،جس کے بعد اس کی شناخت شمیم بی بی کے نام سے ہو گئی جسے معائنے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا،پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کے قومی امکانات ہیں کہ ملزم شان کو اس بات کا شک گزرا ہو کہ شمیم بی بی کے کسی اور کے ساتھ بھی تعلقات ہیں،جس پر ملزم شان نے باغ میں لے جا کر شمیم کو دردناک انداز میں زندگی سے محروم کر ڈالا ۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے میں تربیت کے فقدان کے باعث ایسے گھناؤنے اور معاشرے میں ابتری پھیلانے والےجرائم میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ حکومت اور ہر مکتب فکر کو اس جانب توجہ کرنا ہوگی۔

Comments are closed.