جب تیسرے دن بھی انہوں نے چھلکا دروازے کے سامنے پڑا دیکھا تو بولے ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جب بینظیر بھٹو اور نوازشریف نے 2006 ء میں چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کر کے پوری قوم کو خوشخبری سنائی کہ اب دونوں لیڈر ملک کی تقدیر بدل دیں گے تو لوگ ان کے چکر میں آگئے‘

مگر وہ جونہی پاکستان لوٹے تو کام وہیں سے شروع کیا جہاں چھوڑ کر گئے تھے۔ چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف کی جنرل کیانی سے خفیہ ملاقاتیں بھی شروع ہوگئیں ‘حالانکہ یہ معاہدہ تھاکہ اب ا یسا نہیں ہو گا۔اگر یہ لوگ سیانے ہوتے تو انہیں 2008 ء میں بہترین موقع ملا تھا۔یہ ملک کی تقدیر بدل دیتے‘ گورننس کی مدد سے ہمیشہ کیلئے ایسے راستوں کا تعین کرتے کہ پھر خواجہ آصف کو سپہ سالار کوفون کر کے اپنی سیٹ بچانے کی منت نہ کرنا پڑتی۔ ان سیاسی شکاریوں کا اعتماد دیکھیں کہ عوام اور میڈیا کو پھانسنے کیلئے جال بھی پرانا لاتے ہیں ۔ وہی گھسٹی پٹی باتیں‘ وہی ماضی سے سیکھنے کی قسمیں‘ وہی نئی شروعات کی باتیں‘ وہی میٖڈیا کو دہائی اور وہی قسمیں اور وعدے ۔ان سیاستدانوں کے ہاتھوں بار بار استعمال ہونے کے بعد پاکستانی میڈیا اور عوام کا وہی حال ہوچکا جو ایک سردار کا ہوا تھا جوگھر سے نکلا تو دروازے پر پڑے کیلے کے چھلکے سے پھسل کر گر گیا ۔ اگلے دن بھی چھلکا دروازے کے سامنے پڑا تھا اور پھر پھسل کر گر پڑا۔ تیسرے دن نکلا تو وہیں پڑے کیلے کا چھلکا دیکھ کر رکا اورگہری سانس لے کر بولا: ہائے ربا اج فیر گرنا پؤ گا۔