جب سلیکٹڈ خود کو الیکٹڈ سمجھنے لگے تو وہ ہوتا ہے جو اس وقت عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہمایوں سلیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تجزیہ نگار آجکل یہ پیشین گوئی کر رہے ہیں کہ عمران حکومت کا وقت رخصت آ چکا ہے۔ان میں وہ تمام تجزیہ کار شامل ہیں جو اس حکومت کے بڑے سپورٹر تھے آجکل ان میں سے بہت سے توڈوبتی کشتی سے نکلنے کی کوشش کر

رہے ہیں او ر موجودہ حکومت کی مخالفت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ نئی آنے والی بس کو قابو کر سکیں۔ یہی حال ان سیاستدانوں اور پارٹیوں کا ہے جو ہر آنے والے کو خوش آمدید اور جانے والے کو بائے بائے کہنے کو تیار ہوتے ہیں،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ابھی تک مسلم لیگ(ق)،ایم کیو ایم اور مسلم لیگ فنکشنل حکومت کو آنکھیں دکھا چکے ہیں انہی وجوہات کے باعث صدر پاکستان کا مشترکہ اجلاس سے خطاب مؤخر کیا جا چکا ہے،عمران خان کے ظہرانے کا بھی خاص فائدہ نہ ہو سکا انہوں نے بھی وہی تقریر کی جو وہ کئی سال سے کرتے آ رہے ہیں۔افواہوں کا بازار گرم ہو چکا ہے۔اتحادی جماعتیں ناراضگی کا اظہار کر تے ہوئے شکایت کر چکی ہیں کہ ان سے مشاورت نہیں کی جاتی۔دوسر ان کا کہنا ہے کہ حکومت سے عوام کو بہت امیدیں تھیں جو ٹوٹ چکی ہیں اب عوام ان سے سوال کرتے ہیں خاص کر اخلاقیات کی باتیں عمران خان بہت کرتے تھے لیکن کسی پر عمل نہ ہوا ، نہ ریلوے ایکسیڈنٹ پر استعفیٰ دیاگیا نہ دس ہزار بندہ باہر آنے پر استعفیٰ دیا گیا۔شیخ رشید کی عمران خان کے بارے میں گفتگو ٹی وی پر نا دانستگی میں آ چکی ہے قومی اسمبلی میں بہت سے حکومتی ایم این اے یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ عمران خان کسی سے مشورہ نہیں کرتے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت کی کشتی ڈگمگاتی نظر آ رہی ہے یقینا اس کی وجہ ایک ہی ہے کہ موجودہ حکومت عوام کو کسی طرح کا ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

ایک تو اس کے بس کا کام نہیں لگتا دوسرا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ریلیف دینا بھی نہیں چاہتے۔بلکہ الٹا عوام کی تذ لیل ایسے کرتے ہیں کہ جب بھی پٹرول،بجلی یا گیس کچھ بھی مہنگا کرتے ہیں بجائے شرمندہ ہونے کہ ٹی وی پہ آ کر فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اور اعدادوشمار دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ پاکستان میں فی کس آمدنی بہت کم ہے لیکن اس کا ذکر کوئی وزیر،مشیر نہیں کرتا بلکہ بہت سے معاملات میں تو یہ لگتا ہے کہ متعلقہ وزیر مشیر وزیر اعظم کو بھی غلط اعدادوشمار دے کر ان کی جگ ہنسائی کرواتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی غالبا ًان کے اعداد و شمار ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے یہ حکومت میں آنے سے پہلے کہتے تھے کہ پاکستان کے دو سو بلین ڈالر باہر رکھے ہیں جو عمران خان حکومت میں آنے کے دوسرے دن ہی واپس لے آئے گا عوام کے بار بار پوچھنے پر انہیں قبول کرنا پڑا کہ اعداد وشمار غلط تھے۔یہ تو ایک مثال ہے ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ابھی تک تو حکومت اس بات پر اتراتی رہی کہ پیج ایک ہے کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اس بنیاد پر عوام،اپوزیشن،میڈیا سمیت ہر کسی سے پنگا لینا ان کا معمول بن چکا تھا شاید انہیں علم نہ تھا کہ جس پیج کی وہ بات کر رہے ہیں بہت جلد پھٹ جاتا ہے ماضی میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں تازہ ترین پیج پھٹ جانے کی مثال نواز شریف کی موجودہے جس سے انہیں سبق سیکھنا چاہئے تھا

لیکن انہوں نے نہیں سیکھا۔تجزیہ نگار اب یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پیج پھٹ چکا ہے۔لیکن اگر نہیں بھی پھٹا تو ان کی حرکتوں کی وجہ سے پھٹنے کے قریب ضرور پہنچ چکا ہے اسکی واضح وجہ ماضی میں ہونے والے ایک دو واقعات سے ظاہر ہوتی ہے جس میں آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل فیض حمید کا تبادلہ اور ٹی ایل پی کا دھرنا ہیں میں ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ اس سلسلے میں بہت سی باتیں پہلے ہی منظر عام پر آ چکی ہیں اور آجکل تو مولانا فضل الرحمن بھی اسٹیبلشمنٹ کے حق میں باتیں کر رہے ہیں اور تعریف کر رہے ہیں ساتھ ہی پی ڈی ایم اے کو دوبارہ یکجا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اب عقلمندوں کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے۔
بد قسمتی سے ہمارے ہاں ہر دوسری حکومت اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور مرضی سے آتی ہے اور بعد ازاں سمجھتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے جو کرنا تھا کر دیا ہے اب جو کرنا ہے ہم کریں گے یہ کہتے کہتے بہت سی حکومتیں رخصت ہو گئیں اللہ نہ کرے کہ یہ تاریخ پھر دہرائی جائے اور پاکستان میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے۔لیکن اسکے لئے ہماری حکومتوں کو بھی آ بیل مجھے مارکی پالیسی ترک کرنا ہو گی۔اس وقت ہمارے فاضل وزراء میڈیا سے نالاں نظر آتے ہیں اور جگہ جکہ شکوے کرتے نظر آتے ہیں کہ میڈیا ان کے خلاف ہے سوال یہ ہے کہ میڈیا کو آپ نکالو مغلطات ،آپ کرو عرفان صدیقی جیسے سینئر صحافی کو ایک مقدمے میں اندر اور ہتھکڑیاں پہنا کر عدالت میں پیش،ابصار عالم،اسد طور اور بہت سے صحافیوں پر اگر اٹیک ہو تو اس سلسلے میں ان کے مجرموں تک نہ پہنچا جائے۔آپ کروان کے اشتہارات بند،اورہزاروں میڈیا ملازمیں کو کراؤ بے روزگار پھر بھی شکوہ میڈیا سے۔ایسا ہی شکوہ عوام سے بھی کیا جاتا ہے لیکن اور یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آئندہ پانچ سال بھی یہی حکومت کریں گے ایک تو موجودہ حالات جس سمت اشارہ کر رہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔جو ایک اچھا اشارہ نہیں ہے ابھی بھی حکومت کے پاس وقت ہے کہ عوامی مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دیں عوام کو ریلیف دینے کا سوچیں نہ کہ تکلیف دینے کا تازہ ترین ارشاد اس حکومت کے فاضل وزیر فرما چکے ہیں کہ ان سردیوں میں عوام کو سرف صبح،دوپہر اور شام کو کھانا پکانے کے لئے گیس ملے گی انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ پا کستان میں ایسا وقت اس لئے آیا کہ ان کی وجہ سے ایل این جی بروقت درآمد نہ ہو سکی۔ موجودہ حکومت جس طرح کام کر رہی ہے وہ وقت دہر نہیں لگتا جب ہر طرف سے یہ صدائیں آنا شروع ہو جائیں گی کہ ہماری پرانی چور حکومت واپس کرو۔

Comments are closed.