جب کبھی اس ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہو گی ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایس اے زاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وفاقی حکومت نے گزشتہ روز نیب کے حوالے سے بعض اہم فیصلے کئے ہیں۔ جن میں چیئرمین نیب کی تعیناتی، توسیع اور نیب قوانین میں بعض ترامیم شامل ہیں۔ حکومت کی یہ عجیب منطق ہے کہ بہت سا وقت ضائع کرنے

کے بعد اچانک یہ فیصلے اور ترامیم کی گئیں اور ان کے لئے حسبِ سابق آرڈی نینس کا سہارا لیا گیا۔ یہ ایک سوال ہے کہ حکومت موجودہ چیئرمین کو ہی برقرار رکھنے پر کیوں بضد ہے؟موجودہ چیئرمین کی تعیناتی جب اس وقت کی حکومت اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے کی گئی تھی جس کی موجودہ حکومت مثال بھی پیش کرتی رہی کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی بطور چیئرمین نیب تعیناتی ہم نے نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ہی کی تھی تو اب ان کو شکایت اور اعتراض نہیں کرنا چاہئے اور اس معاملے میں اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کر کے چیئرمین کی تعیناتی اور قومی اسمبلی و سینٹ کی اکثریتی رائے سے نیب قوانین میں متفقہ طور پر تبدیلی کی جائےتو اس میں کیا امر مانع ہے؟ حکومت کو سوچنا چاہئے کہ جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی باہمی مشاورت سے جس شخصیت کو چیئرمین نیب تعینات کیا گیا تھا اور اب تک یہ دونوں جماعتیں ان ہی چیئرمین سے شاکی اور نالاں ہیں تو آج اگر موجودہ حکومت ایک نئی اینٹ لگا کر پوری بنیاد ہی کو ہلا دے گی اور خود ہی موجودہ چیئرمین نیب کو توسیع دیتی ہے یا بعدمیں ’’شاید ‘‘اپوزیشن لیڈر سے برائے نام مشاورت کر کے اپنی ہی مرضی سے موجودہ یا کسی اور کو نیب کا چیئرمین تعینات کر دےگی تو اپوزیشن کے نعرے ’’نیب نیازی گٹھ جوڑ‘‘ کو تقویت ملے گی بلکہ وہ کھل کر متنازعہ بنے رہیں گے۔ اس طرح کے اقدام کا ایک اور پہلو یہ ہے

کہ اگر اپوزیشن جیسا کہ عندیہ بھی دیا گیا ہے، اس توسیع اور تعیناتی کو آئینی ضوابط کی خلاف ورزی کی بنیاد پر عدالت میں چیلنج کر دے تو ممکن ہے کہ حکومت کی ایسی تمام کوششیں ناکام اور غیر موثر ہو جائیں تو پھر حکومتی ساکھ کا کیا بنے گا؟اس کا ایک اور اہم تیسرا پہلو یہ بھی ہے کہ کل جب پی ٹی آئی کی حکومت نہیں رہے گی اور ان کی ہی مرضی سے تعینات ہونے والا چیئرمین نیب (وہ موجودہ ہو یا کوئی اور) پی ٹی آئی والوں کی فائلیں کھولیں گے تو پھر یہ لوگ کس کو دوش دیں گے۔ اور یہ صورتحال پی ٹی آئی کے لئے مزید نقصان دہ ہو جائے گی۔ اس لئے حکومت اب ضد ترک کردے اور ان معاملات کو آپس میں بیٹھ کر افہام و تفہیم سے طے کرے۔حکومت کا یہ موقف بھی عجیب ہے کہ اپوزیشن لیڈر پر چونکہ الزامات ہیں اس لئے ان سے مشاورت نہیں ہونی چاہئے تو شہباز شریف ملزم ہیں مجرم نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پنڈورا پیپرز میں پی ٹی آئی کے جن وزیروں، مشیروں اور قریبی افراد کے نام ہیں۔ گندم اور چینی اسکینڈلز وغیرہ میں جن پر الزامات ہیں تو ان کو بھی حکومت سے الگ کر دیا جائے کیوںکہ وہ کس طرح حکومتی مشاورت اور فیصلوں میں شامل ہو سکتے ہیں؟ اس طرح یکطرفہ ٹریفک تو چلتی ہے مگر حکومت نہیںچل سکتی۔ اس طرح کے مشورے دینے والوں کو بھی ایسے فیصلوں کی غیر مقبولیت اور سیاسی نقصانات کو مدنظر رکھنا چاہئے۔

Comments are closed.