جرمنی کی اگلی ممکنہ نوجوان خاتون چانسلر کی خوبصورت تصاویر

میونخ (ویب ڈیسک) اپنی چار دہائیوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جرمنی کی ’گرینز‘ کہلانے والی ماحولیات دوست سیاسی جماعت گرین پارٹی نے چانسلر کے عہدے کے لیے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کیا ہے۔اس طرح یہ بھی ایک تاریخی پیشرفت ہے کہ گرینز اس برس ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں

ایک مرکزی کردار اد کرے گی۔پیر کو گرین پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ چالیس برس کی اینالینا بئربوک ستمبر کے انتخابات میں موجودہ چانسلر اینگلا مرکل کے متبادل کے طور پر انتخابات میں حصہ لیں گی۔توقع ہے کہ چانسلر کے عہدے کے مقابلے کی اگلی دوڑ میں بئربوک واحد خاتون امیدوار ہوں گی۔گرینز جو کبھی ’ہِپیوں‘ جیسی لمبی لمبی داڑھیاں رکھنے والے بے ڈھّبی سی جوتیاں پہنے والے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے تھے، اب ممکن ہے کہ وہ آئندہ حکومت میں حصے دار ہوں۔ایک ایسے پس منظر میں جب دائیں بازو کی قدامت پسند اس وقت امیدوار پر عدم اتفاق کی وجہ سے افراتفری کا شکار ہیں، گرین پارٹی نئے اتحاد میں ایک سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر سکتی ہے۔اس پیشرفت کا مطلب یہ ہو گا کہ اینالینا بئربوک جرمنی کی اگلی چانسلر ہوں گی اور اُن کا ابھی سے ہی نیوزی لینڈ اور فِن لینڈ کی جوان وزرائے اعظم سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔بئربوک سنہ 1980 میں پیدا ہوئی تھیں، یہ وہی سال ہے جب ان کی جماعت کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ اُن کے والدین جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں انھیں اپنے ہمراہ لے جاتے تھے۔ وہ اپنے بچپن میں مظاہرین پر پانی کی طاقتور دھار سے انھیں منتشر کرنے کے واقعات کو یاد کرتی ہیں اور پھر گھر پہنچ کر انھیں کھانے کو کیک ملتا تھا۔یہ ایک قسم کا اُس زمانے کے ایک متمول اور آسودہ متوسط طبقے کا انقلابی انداز پیش کرتا ہے جو بالآخر گرین پارٹی کی صورت اختیار کرتا ہے اور آج کے دور میں اس کی عوامی مقبولیت کی وجہ بیان کرتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *