جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے صاف صاف کہہ دیا

کراچی (ویب ڈیسک) جسٹس وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ مجھے نہیں انہیں ثابت کرنے کی ضرورت ہے،کوئی شخص مقدمہ شروع ہونے سے پہلے اپنے ثبوت ڈسکس نہیں کرتا، ہتک عزت کا جو قانون ہے وہ عام قوانین سے مختلف ہے اور لیکن کچھ چیزیں قدر مشترک بھی ہیں بنیادی چیز کریمنل پروسیڈنگ میں یہ ہے

کہ اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ فائل ہوتا ہے تو ثبوت لانے کی ذمہ داری پراسکیویشن پر ہوتا ہے مجھے کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے انہیں ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔میں نے جو بات کی ہے اس سے بہت زیادہ باتیں لوگ کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کس بنیاد پر یہ باتیں کی گئی ہیں یہ ثبوت کے معاملات ہیں وہ آپ سے ڈسکس نہیں کرسکتا۔میری سطح کا شخص جو قانون جانتا ہے وہ بلاوجہ تو کوئی بات نہیں کرے گا۔آپ کے پاس ثبوت ہیں کہ وہ پچاس لاکھ یا تیس لاکھ لیتے تھے اس سوال کے جواب میں جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ میں میڈیا پر کیوں ثبوت ڈسکس کروں کوئی شخص مقدمہ شروع ہونے سے پہلے اپنے ثبوت ڈسکس نہیں کرتا کبھی ایسا ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔

Comments are closed.