جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں بڑی پیش رفت : معزز جج کی اہلیہ نے عدالت کے نام اہم زبانی پیغام بھجوا دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ میری اہلیہ ویڈیو لنک پر جائیدادوں کی وضاحت دینا چاہتی ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت جسٹس عمرعطا بندیال کی

سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ کر رہا ہے۔دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں حکومت کی پیروی کرنے والے فروغ نسیم نے عدالت کے ایک سوال پر جواب دیا کہ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیرِ اعظم عمران خان سے مشاورت کی ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ انہیں عدلیہ کا بڑا احترام ہے، ہمیں معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔فروغ نسیم نے مزید کہا کہ ایف بی آر 2 ماہ میں فیصلہ کر لے، ایف بی آر کے ساتھ درخواست گزار جج اور اہلیہ تعاون کریں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے جواب داخل کرایا ہے، جج نے جواب میں وزیرِ اعظم عمران خان کے نام لندن کی پراپرٹیز بتائی ہیں۔فروغ نسیم نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لندن میں میری ایک پراپرٹی بھی نکلے تو ضبط کر لیں اور پیسہ قومی خزانے میں ڈال دیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہم نے اس جواب کا جائزہ نہیں لیا۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ جج نے نہیں کہا کہ یہ جائیدادیں وزیرِ اعظم عمران خان کی ہیں، جواب میں ویب سائٹ کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پہنچ گئے۔جسٹس قاضی فائز نے فروغ نسیم کے دلائل کے دوران عدالت سے بات کرنے کی اجازت لی۔اس موقع پر جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جج صاحب آپ آئے ہیں تشریف رکھیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ مجھے میری اہلیہ نے ہمیشہ ماسک پہنے رکھنے کی تلقین کی ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ماسک کی وجہ سے ہم آپ کو ٹھیک سے سن نہیں پا رہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چہرے سے ماسک ہٹا دیا اور کہا کہ اپنی اہلیہ کی تلقین کی خلاف ورزی کر رہا ہوں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت کو بتایا کہ میری اہلیہ ویڈیو لنک پر جائیدادوں کی وضاحت دینا چاہتی ہیں، شہزاد اکبر نے گزشتہ روز ٹی وی پر آ کر زیرِ التواء مقدمے پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ کونسل میں ریفرنس سے بڑا جواب حکومت نے داخل کر دیا ہے، حکومتی وکیل نے کہا ہے کہ اہلیہ سلائی مشین چلاتی ہیں جس سے 5 یا 6 ملین پاؤنڈ آتے ہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے، جسٹس قاضی امین نے اس نقطے پر حکومتی وکیل کو روکا تھا، ہمارے لیے آپ کا بڑا احترام ہے لیکن آپ درخواست گزار ہیں، آپ کے وکیل مؤثر انداز میں یہ بات کر سکتے ہیں، آپ جذباتی ہو سکتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ میں جذباتی نہیں ہوں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جج صاحب کے بیان پر غور کیا ہے، جج صاحب نے اہلیہ کی جانب سے بیان دیا ہے، ان کی اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری ان سے درخواست ہے کہ وہ تحریری جواب داخل کر کے مؤقف دیں، تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری اہلیہ وکیل نہیں ہیں، اہلیہ کہتی ہیں کہ اکاؤنٹ بتانے پر حکومت اس میں پیسہ ڈال کر نیا ریفرنس نہ بنا دے۔انہوں نے کہا کہ اہلیہ تحریری جواب جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں، اہلیہ کا مؤقف سن کر جتنے مرضی چاہیں سوال کریں، انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ساتھی ججز نے درخواست تیار کرنے میں مدد کی۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ اس بات کو چھوڑ دیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استدعا کی کہ میں التجا کرتا ہوں کہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔اس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہم نے توہینِ عدالت کی کارروائی کی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت کو بتایا کہ میں آج اپنی اہلیہ کا اہم پیغام لایا ہوں، وہ جائیدادوں کے ذرائع بتانا چاہتی ہیں، اہلیہ کے والد کو کینسر کا عارضہ لاحق ہے۔انہوں نے کہا کہ اہلیہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر نے ان کی تذلیل کی ہے، اہلیہ ویڈیو لنک پر جائیداد سے متعلق بتانا چاہتی ہیں، عدالت میری اہلیہ کو ویڈیو لنک پر مؤقف دینے کا موقع دے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اپ کی اہلیہ ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں، یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔اس موقع پر فروغ نسیم نے کہا کہ جج صاحب سے میری کوئی دشمنی نہیں، اگر مناسب جواب دیتے ہیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا، میں جج صاحب اور ان کی اہلیہ کا بڑا احترام کرتا ہوں، میں نے کبھی معزز جج کے بارے میں منفی سوچ نہیں رکھی۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ جواب دیتی ہیں تو سارا عمل شفاف ہو جائے گا۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ میری اہلیہ کو ریفرنس کی وجہ سے بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے، میری اہلیہ کو عدالت کے سامنے مؤقف دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی اہلیہ کا وکیل نہیں، ان کا پیغام لے کر آیا ہوں، میں یہاں جج نہیں درخواست گزار ہوں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہم آپ کی پیش کش پر مناسب حکم جاری کریں گے، آپ کی اہلیہ کا پیغام ہم نے سن لیا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے درخواست کی کہ میری اہلیہ کی استدعا کو تبدیل نہ کریں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہم آپ کی اہلیہ کی زبانی مؤقف دینے کی پیش کش پر غور کریں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری اہلیہ کو کسی وکیل کی معاونت نہیں ہوگی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.