جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا حیران کن بیان سامنے آگیا

لاہور (ویب ڈیسک )سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سمیت کسی کو صوابدیدی اختیار سے کسی کو پلاٹ الاٹ کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔نجی نیوز چینل کے مطابق ہاوسنگ سوسائٹی کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اضافی نوٹ لکھا اور کہا کہ پلاٹ دینے کیلئے مخصوص قانون بنانا ہوگا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ کوئی قانون اجازت نہیں دیتا کہ چیف جسٹسز اور جج صاحبان زمین لینے کے حق دار ہیں، جج صاحبان کو پلاٹ دینا انہیں نوازنے کے برابر ہے۔ جسٹس قاضی فائز نے مزید لکھا کہ کوئی وکیل یا سرکاری ملازم ایک سے زیادہ پلاٹ کا حق دار نہیں،کم آمدنی والے سرکاری ملازمین اور جونیئر افسران کو کم قیمت پلاٹ ملنے چاہیں۔اضافی نوٹ کے مطابق عوامی فلاح کے لیے زمین حاصل کرنے کے سوال پر آئین خاموش ہے ، ملک کی زمین اشرافیہ میں تقسیم کرنا قرآن کے اصول کی نفی ہے۔سپریم کورٹ کی جج نے قانونی نقطہ نگاہ کو مد نظر رکھتے ہوئے پلاٹ الاٹ کرنے کے معاملے پر وزیراعظم کے اختیارات کو واضح کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے سرکاری اداروں اور محکموں تک عام لوگوں کی رسائی مزید آسان بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا سرکاری اداروں کو عوام کی خدمت کیلئے ہر صورت پابند بنایا جائے، تحریک انصاف کی حکومت کا منشور عوام کی عملی خدمت کرنا ہے، اس لیے سرکاری اداروں کو خدمت کیلئے ہر صورت پابند بنایا جائے، بہتر حکومتی کارکردگی عوام،اداروں میں بہتر راوبط سے مشروط ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم آفس نے ملک بھر کے 8864سے زائد سرکاری دفاتر کو اس حوالے سے مراسلہ جاری کردیا ہے، جس میں سرکاری افسران کو ڈیش بورڈز سیکمزاورطبقے کی شکایات درج کرنے کا حکم دیا۔جاری مراسلے میں سرکاری افسران کوبزرگ، بیوہ، معذور افراد کی سہولت کیلئے خصوصی ہدایات کردیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *