جس امیدوار نے سب سے زیادہ لیڈ سے جیت اپنے نام کی اس کا تعلق کس سیاسی جماعت سے ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو گزشتہ کالم میں بتا دیا تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پی ٹی آئی کامیابی حاصل کرکے حکومت بنا لے گی، یہ بھی بتا دیا تھا کہ اس الیکشن میں دوسری جماعتوں کو بھی حصہ ملے گا

مگر تحریک انصاف سے کم ہوگا۔44حلقوں کے نتائج کے مطابق پی ٹی آئی 25نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جس حلقے کا رزلٹ روکا گیا ہے اور الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ اس حلقے یعنی باغ شرقی کے چار پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ ہو گی، یہ سیٹ بھی پی ٹی آئی کے حصے میں آئے گی کیونکہ یہاں سے تحریک انصاف کے سردار میر اکبر خان نے 23ہزار ووٹ حاصل کر رکھے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے سردار قمر زمان نے 21ہزار ووٹ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ اب جب پی ٹی آئی کی حکومت بھی بن چکی ہو گی تو یہ چار پولنگ اسٹیشن خودبخود تحریک انصاف کی جھولی میں آگریں گے۔گزشتہ کالم کے آخر میں بڑے دکھ کے ساتھ لکھا تھا کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران اخلاقیات کو مدنظر نہیں رکھا۔ آزاد کشمیر کے لوگوں کی عادات ذرا مختلف ہیں، ان کے رہن سہن میں مغلطات کا کلچر بہت کم ہے۔ انتخابی مہم کو چند پارٹیوں نے ہائی جیک کر رکھا تھا، میڈیا نے بھی خالصتاً ریاست کشمیر کی جماعتوں کو نظر انداز کیا۔ اگرچہ جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی الگ شناخت ہے مگر کشمیر کی واحد ریاستی جماعت صرف اور صرف مسلم کانفرنس ہے۔ اس الیکشن میں ناقابلِ شکست سمجھے جانے والے مسلم کانفرنس کے ملک نواز بھی ہار گئے، ملک نواز آزاد کشمیر کے واحد سیاستدان ہیں جو گزشتہ 35 سال سے مسلسل جیت رہے تھے ،سات الیکشن جیتنے کے بعد آٹھویں بار قسمت ان سے روٹھ گئی۔آزاد کشمیر کے لوگوں نے اس مرتبہ دل کھول کر صرف ایک ہی حلقے

میں ووٹ دیے، وہ حلقہ مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان کا ہے۔ پورے الیکشن میں جس شخص کی سب سے بڑی لیڈ یعنی 17 ہزار ہے، وہ سردار عتیق احمد خان ہیں، وہ اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ ان کے حلقے کے لوگ ان سے محبت کرتے ہیں ورنہ ان کے حلقے کے بڑے شہر دھیر کوٹ میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا تھا ’’نواز شریف کو مائنس کرنے والو! آئو دیکھو، دھیر کوٹ والوں نے نواز شریف کو پلس، پلس، پلس کر دیا ہے۔‘‘یہ الفاظ انہوں نے شدت جذبات میں کہے ہوں گے۔ اب حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ دھیر کوٹ والوں نے نواز شریف کو نہیں بلکہ مجاہد اول کے صاحبزادے سردار عتیق احمد خان کو پلس، پلس، پلس کیا ہے۔اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے سب کو حیران کیا حالانکہ ان کی الیکشن مہم درمیان میں بالکل ٹھنڈی پڑ گئی تھی کیونکہ بلاول بھٹو زرداری امریکہ چلے گئے تھے۔ عام تاثر یہ تھا کہ پیپلز پارٹی سات آٹھ نشستیں حاصل کرے گی مگر پیپلز پارٹی کے تین امیدواروں نے خاص طور پر سب کو حیران کر دیا۔ ان میں مظفر آباد سے سردار جاوید ایوب اور سید بازل علی نقوی کے علاوہ کوٹلی کے قریبی حلقہ نکیال سے جاوید اقبال بڈھانوی شامل ہیں۔ یہ حلقہ مدتوں سے سردار سکندر حیات کا ہے، اس مرتبہ ان کے بھائی الیکشن لڑ رہے تھے مگر ہار گئے۔ پیپلز پارٹی نے گیارہ نشستیں حاصل کر کے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔

Comments are closed.