جس روز میں آپ کو یہاں نہ ملوں اس روز اپنا ٹی وی آن رکھیے گا ۔۔۔۔!!

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی سید عزیز الرحمٰن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سچ یہ ہے کہ اس قدر پر مشقت اور حد درجے ذہنی کوفت پر مبنی زندگی ڈاکٹر عبدالقدیر جس سہولت سے جھیل گئے، وہ ان کے گہرے تعلق مع اللہ کے ذریعے ہی ممکن ہو سکا، اور اس زندگی کو بتانے اور ٹھکانے

لگانے کے لیے اس سے بہتر کوئی کلید ہمارے پاس کبھی بھی موجود نہیں تھی۔ڈاکٹر صاحب سے والہانہ وابستگی اور نہایت غیر معمولی گہری عقیدت پاکستان اور پاکستانیوں تک محدود نہیں تھی، ان کے اصل کارنامے کے سبب عالم اسلام میں، خصوصا عالم عرب میں ڈاکٹر صاحب انتہائی معروف اور انتہائی مخدوم شخصیت کی حیثیت رکھتے تھے ڈاکٹر صاحب نے خود بھی کئی بار اس نوعیت کے بہت سے واقعات بیان کیے، جب انڈیا نے اچانک ایٹمی تجربات کر دیے تو اسلام آباد میں آپ کے قریب ہی رہائش رکھنے والے ایک عرب ملک کے سفیر یا سفارت کار ڈاکٹر صاحب کو علی الصبح واک کرتے ہوئے ملے اور پوچھنے لگے کہ آپ کب جواب دے رہے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ جس روز مجھے آپ صبح میں یہاں نہ پائیں اس روز اپنا ٹی وی آن رکھیے گا، اس نے یہ بات گھر جا کر اپنی بیوی سے کہ دی، اور وہی ہوا، جس روز اس نے صبح ڈاکٹر صاحب کو وہاں نہیں پایا تو وہ گھر جا کر ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا، اور ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ سرکاری اعلان ہوتے ہی ہمارے ہاں مٹھائی کے ساتھ مبارک باد کے لیے آنے والی فیملی یہی تھی۔ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے ایک اور دل چسپ واقعہ بیان کیا، کہنے لگے کہ ایک بار ایک اہم وفد کے ساتھ سعودیہ عرب گئے، وہاں شاید وزیر داخلہ تھے، یا شاہی خاندان کے کوئی اور اہم فرد، ڈاکٹر صاحب سے سب ہی اپنی گہری عقیدت کا اظہار کر رہے تھے

۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارے لائق کوئی خدمت، حکم کیجیے۔ ڈاکٹر صاحب نے موقع دیکھ کر کہ لوہا گرم ہے کہ دیا کہ ہم دنیا بھر میں گھوم سکتے ہیں، لیکن سعودی عرب کے دروازے ہم پر بند ہیں، ہماری خواہش اور دل چسپی تو حرمین کی حاضری سے ہوتی ہے، آپ لوگ ایسا کچھ کیوں نہیں کرتے کہ زائرین سہولت سے حاضری دے سکیں۔ یہ سنتے ہی میزبان نے اپنے سیکریٹری کو بلایا اور کہا کہ ڈاکٹرصاحب کے ساتھ جتنے افراد ہیں سب کے پاسپورٹ لو اور فوری طور پر ابھی ان کی شہریت کی کارروائی مکمل کر کے سعودی پاسپورٹ انہیں پیش کرو۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے فوری طور پر منع کردیا، اور کہا کہ میں پاکستانی ہوں اور مجھے یہی حیثیت پسند ہے، پاکستان کے سوا کہیں کی شہریت مجھے مطلوب نہیں، میں صرف یہ چاہتا تھا کہ ایسا کچھ کردیا جائے کہ ہم جب عمرے کی غرض سے آنا چاہیں تو آ سکیں۔ اللہ اکبرڈاکٹر صاحب کا ایک اہم وصف ان کی زندہ دلی، لطافت اور برجستہ گوئی ہے، ان کے انتقال پر بہت سے کلپ شئر ہوئے، ان میں سے ایک میں ڈاکٹر صاحب خود بتاتے ہیں کہ ایک ٹی وی اینکر وسیم بادامی نے انہیں فون کیا اور کہا کہ سر میں بادامی بول رہا ہوں تو آپ فورا بولے کہ میں خوبانی بول رہا ہوں۔ اسی انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی شادی پسند کی ہے؟ بولے جی ہاں؟ کیسے شناسائی ہوئی، بولے جیسے جوانی میں ہوتا ہے،

پہلی نظر میں ہی محبت ہو گئی، اچھا تو انہوں نے بھی آپ کو پسند کر لیا؟ تو فورا بولے آپ نے ہمیں جوانی میں نہیں دیکھا۔اس نشست میں مرحوم جنید جمشید بھی موجود تھے، وہ بولے سر اس بار بھی آپ کے عید کے کپڑے میری جانب سے، ڈاکٹر صاحب فورا بولے کہ جی میرے گھر کا پتہ تو آپ کے پاس ہے نا؟ انہوں نے کہا جی ہاں، پھر بولے مردانے اور زنانے دونوں۔۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مخصوص مزاج کا انہیں جہاں بہت فائدہ ہوا، اور وہ اس کی وجہ سے مشکل ترین حالت جھیلنے میں کام یاب رہے، وہیں اس کی وجہ سے بعض اوقات انہیں مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ چند برس پیشتر عید قرباں کے موقع پر کسی اینکر نے عید کے حصے سے کوئی سوال کیا تو آپ نے اپنے مزاج کے مطابق تھوڑا تفریحی موڈ میں کچھ حالات کا ذکر کرتے ہوئے عمومی بات یہ کہ دی کہ اتنی مہنگائی ہے کہ کوئی کیا عید منائے، کچھ دوستوں نے گوشت بھیج دیا ہے وہ کھائیں گے، اسے سوشل میڈیا لے اڑا، اور اب تک اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا یہ حال ہو گیا ہے کہ وہ قربانی تک نہیں کر سکے۔ جب کہ اصل صورت حال یہ تھی کہ آپ نے خود ایک بار فرمایا کہ جب ہمارے بارے میں پوری تحقیق کے بعد حکومت کو یقین ہو گیا کہ انہوں نے کچھ پیسہ نہیں بنایا تو پھر انہوں نے ہماری پینشن میں اضافہ کردیا، جو اس سے قبل بہت کم تھی۔

Comments are closed.