جس چیز کا حل امریکی آئین کی کئی جلدوں میں نہ تھا وہ قران کی ایک آیت میں مل گیا :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سعد اختر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حقیقت میں قرآن ہی وہ واحد کتاب ہے جو قانونِ فطرت کا مکمل احاطہ کرتی ہے اور درسِ انسانیت دیتی ہے۔ لوگوں کی بھلائی اور رہنمائی کیلئے یہ کتاب اللہ نے اپنے پیارے محبوب آقا ئے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

پر اتاری، جس کا مقصد ہی انسانیت کی بھلائی تھا۔ بنی نوح انسان نے اس ’’کتاب ‘‘ سے کیا سیکھا، کیا حاصل کیا؟ مسلموں سے زیادہ غیر مسلموں میں اسکے شواہد ملتے ہیں۔ بہت کم پایا ہے کہ مسلموں نے اس سے کچھ زیادہ حاصل کیا ہو۔ ہماری یہی بدقسمتی رہی ہے کہ ہم اس مقدس کتاب سے کچھ زیادہ نہیں سیکھ پائے اور اسکی ساری حکمتیں غیر مسلموں نے لے لیں۔سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے ایک مشیر رابرٹ کرین تھے۔ جنہوں نے لاء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ بین الاقوامی سطح پر ’’ڈاکٹریٹ‘‘ کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ رابرٹ کرین ہارورڈ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء کے صدر رہے۔ بعد میں صدر نکسن کی حکومت میں خارجہ امور کے مشیر بھی بن گئے۔ رابرٹ کرین کو امریکہ میں سیاسی امور کا بہت ہی قابل اور اہم ترین ماہر تصور کیا جاتا تھا۔ وہ ریاست ہائے متحدہ میں تہذیب و ثقافت کے جدیدیت مرکز کے بانی بھی تھے۔ انہیں دنیا کی چھ زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا۔ وہ یہ زبانیں بڑی روانی سے بولتے تھے جیسے اُنکی مادری زبان ہوں۔اپنے دورِ حکومت میں صدر رچرڈ نکسن ’’اسلامی اصول و ضوابط‘‘ کے بارے میں پڑھنا چاہتے تھے۔ لہٰذا نہوں نے امریکی سی آئی اے سے کہا کہ وہ اس موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ تیار کرے۔ بالآخر یہ ذمہ داری ڈاکٹر رابرٹ کرین کو سونپی گئی۔ انہوں نے اپنے صدر کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ایک تحقیقی مقالہ لکھا، لیکن یہ بہت لمبا تھا۔ صدر نکسن نے اسکی طوالت کو دیکھتے ہوئے

رابرٹ کرین سے کہا کہ وہ اس مقالہ کو اختصار سے لکھ کر اُنکے سامنے پیش کریں۔ یوں ڈاکٹر رابرٹ کرین نے اس مقالے کا خلاصہ لکھا اور خلاصہ لکھتے ہوئے انہیں اسلام کے بارے میں اتنے راز و نیاز معلوم ہوئے کہ وہ اسکی تحقیق میں لگ گئے۔ چنانچہ اسلام کو سمجھنے اور اسے جاننے کیلئے انہوں نے بہت سے اسلامی سیمیناروں اور کانفرنسوں میں شرکت کی۔چونکہ عربی اور ترکی زبانوں سے بخوبی آشنا تھے، اس لیے ان سیمیناروں میں پڑھے جا نیوالے مقالات اور تقریروں کو سمجھنے میں انہیں کبھی کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔پھر وہ دن بھی آیا جب رابرٹ کرین نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اُنکے اسلام قبول کرنے کی بات پورے امریکہ میں پھیل گئی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد رابرٹ کرین نے اپنا اسلامی نام ’’فاروق‘‘ رکھا۔ اسلام قبول کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’قانون کے ایک طالب علم کی حیثیت سے مجھے اسلام کے وہ تمام قوانین مل گئے۔ جن کا میں نے اپنے کیرئیر کے دوران مطالعہ کیا تھا۔ میں نے تین سال تک ہارورڈ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی لیکن مجھے دورانِ تعلیم کہیں بھی ’’انصاف‘‘ کا لفظ نہیں ملا البتہ اسلام میں مجھے یہ لفظ کثرت سے ملا۔رابرٹ نے کہا ایک دفعہ ہم قانونی بحث کر رہے تھے۔ یہودی قانون کے ایک پروفیسر بھی ہمارے ساتھ تھے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکی آئین میں وراثت کا کیا قانون ہے؟ فرمایا ’’اسکی آٹھ سے زیادہ جلدیں ہیں۔

میں نے کہا اگر میں آپکے سامنے دینِ اسلام سے وراثت کا ایسا قانون لائوں جو دس سطروں سے زیادہ نہ ہو تو کیا آپ یقین کرینگے؟ یہودی پروفیسر نے کہا ’’یہ ممکن نہیں کہ وراثت کے اتنے لمبے چوڑے قانون کا خلاصہ ہو جائے، اور وہ بھی صرف دس لائنوں میں…‘‘ چنانچہ رابرٹ کرین نے قرآن مجید سے وراثت کی آیات لیں اور یہودی پروفیسر کے سامنے پیش کر دی۔کچھ دنوں بعد یہودی پروفیسرڈاکٹر رابرٹ کرین کے پاس آیا اور کہا ’’انسانی دماغ کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ قریبی رشتہ داروں سمیت سب کااس طرح احاطہ کرے کہ اس میں کوئی کسر نہ چھوڑے اور پھر کسی پر ظلم کئے بغیر وراثت کو ان میں تقسیم کر دے۔‘‘یہودی پروفیسر نے بھی جب یہ سنا تو اسلام کے ضابطۂ قانون سے اس قدر متاثر ہوا کہ خود بھی اپنا یہودی مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ڈاکٹر رابرٹ کرین( فاروق) ابھی زندہ ہیں۔ اب 91برس کے ہو گئے ہیں۔ امریکہ میں رہتے ہوئے اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔اس سارے قصے سے ایک سبق تو ملتا ہے کہ دنیا کے اربوں انسانوں میں ہم مسلمان کتنے خوش قسمت ہے کہ ہمارا جنم مسلمان گھرانوں میں ہوا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم نے اپنے دین سے رخ موڑ لیا اور ہمارے دین کی سب اچھی باتیں کافروں نے اپنا لیں۔ہم قرآن پاک تو پڑھتے ہیں لیکن ہم قطعی طور پر اسکے مفہوم سے ناآشنا رہتے ہیں۔ اگر ہمیں سمجھ آ جائے کہ قرآن کیا کہہ رہا ہے، کیا بتا اور سکھا رہا ہے تو ہماری زندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنے آپ کو اسکے پیغام سے محروم کر رکھا ہے اور ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قرآن پاک ہمیں کونسا سیدھا راستہ دکھا رہا ہے۔

Comments are closed.