جلد جہانگیر ترین کو اندازہ ہو گا کہ وہ ہر لحاظ سے غلط تھے ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جہانگیر ترین کو جس نے بھی یہ مشورہ دیا کہ وہ عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لئے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کریں، وہ اُن کا دوست ہر گز نہیں ہو سکتا۔ کیا اس طرح سے وہ اپنے کیسز ختم کرا سکیں گے،

کیا یہ ازخود ایسا عمل نہیں جو وزیراعظم عمران خان کو امتحان میں ڈالنے کے مترادف ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اس دباؤ میں آ کر عمران خان اپنا سارا بیانیہ چھوڑ دیں اور جہانگیر ترین کو ریلیف دلوانے کے لئے میدان میں آئیں۔ جہانگیر ترین کے پاس وسائل کی کمی نہیں، وہ چوٹی کے وکلاء کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں، جو اُن کا مقدمہ عدالتوں میں لڑیں اور انہیں ایسی کسی زیادتی اور ظلم سے بچائیں، جس کا جہانگیر ترین آج کل اظہار کر رہے ہیں،جو کچھ جہانگیر ترین چاہتے ہیں وہ تو سب کے سامنے آ چکا ہے، مگر وہ پورا کیسے ہو گا؟ اس بارے میں جہانگیر ترین کو کچھ پتہ ہے اور نہ شاید اُن کی حمایت میں آنے والے ارکانِ اسمبلی کو۔ اب وزیراعظم عمران خان انہیں کوئی ر یلیف دینا بھی چاہیں تو نہیں دے سکتے۔ اب اگر ذرا سی بھی انہیں حکومتی حمایت ملی تو یہی سمجھا جائے گا کہ وزیراعظم عمران خان جہانگیر ترین کے سیاسی دباؤ میں آ گئے ہیں یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان دباؤ میں آ کر کوئی کام نہیں کرتے۔ جہانگیر ترین کے ارکانِ اسمبلی کو استعمال کرنے کا انہیں کتنا فائدہ ہوا ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایئے کہ جس دن وہ یہ سب کر رہے تھے، اُسی دن ایف آئی اے نے اُن کی فیملی کے36اکاؤنٹس منجمد کر دیئے۔ اُسی دن لاہور کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انصاف کے معاملے میں دہرے معیار کی وجہ سے معیشت تباہ ہوئی ہے۔وہ یہ کام نہیں ہونے دیں گے اور سب کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ظاہر ہے یہ بات انہوں نے جہانگیر ترین کے لئے ہی کہی،جو یہ دعوے کر رہے ہیں کہ وہ تو دوست ہیں، انہیں دشمن کیوں بنایا جا رہا ہے۔یہ بھی شاید اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے کہ ایک حکومتی پارٹی کا رہنما اپنے خلاف ہونے والی قانونی کارروائیوں پر ڈٹ کر قانون کا سامنا کرنے کی بجائے اپنی ہی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔یہ تو خود حکومت کو امتحان میں ڈالنے کے مترادف ہے، اس سے پہلے تحریک انصاف کے جن وزراء پر نیب کے مقدمات بنے، تحقیقات ہوئیں، انہیں گرفتار کیا گیا، انہوں نے یہی موقف اختیا کیا کہ ہاتھ صاف ہیں، سرخرو ہو کر واپس آئیں گے۔انہوں نے اپنی ہی حکومت کی جانب توپوں کا رخ نہیں کیا، علیم خان، سبطین رضوی اور دیگر کی مثالیں سامنے ہیں۔ جہانگیر ترین یہ الزام لگاتے ہیں کہ عمران خان کے اردگرد کچھ ایسے لوگ ہیں جو ان کے کان بھرتے ہیں، مگر اس کا توڑ کرنے کے لئے انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ تو انہیں عمران خان سے مزید دور کر دے گا۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی حمایت شو کر کے جہانگیر ترین ان کیسوں سے کیسے بچ سکتے ہیں، جو ایف آئی اے اُن کے خلاف درج کر چکی ہے۔ اُن سے بچنے کا تو ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنی بے گناہی کے ثبوت دیں۔ جو وہ کر رہے ہیں اس کی وجہ سے تو خود عمران خان کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اگر وہ اس بنیاد پر ان کی مدد کرتے ہیں کہ حکومتی ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد اُن کے ساتھ ہے،

کیا جہانگیر ترین کو معلوم نہیں کہ اپوزیشن اس سارے عمل پر نظریں جمائے بیٹھی ہے، کپتان نے ذرا سی بھی نرمی دکھائی تو ہر طرف سے یہی آواز اٹھے گی کہ اپوزیشن کو انتقام کا نشانہ بنانے والا، این آر او نہ دینے کے دعوے اور کسی کو نہ چھوڑنے کی وارننگز دینے والا، اپنے ہی پرانے دوست کے ہاتھوں پریشرائز ہو گیا۔ دوسری طرف عمران خان ہیں، ان کے دل میں شاید آج بھی اپنے دوست جہانگیر ترین کے لئے نرم گوشہ ہو، لیکن جہانگیر ترین نے انہیں حالیہ چند دِنوں میں جس ڈیڈ لاک کی نذر کر دیا ہے، اس میں شاید وہ خود کو ان کے معاملے میں بالکل بے بس پاتے ہوں۔ غور کیا جائے تو جہانگیر ترین درحقیقت کپتان سے وہ کچھ مانگ رہے ہیں، جو اگر وہ انہیں دے دیں تو پھر ان کے پاس حکومت کرنے کا کوئی جواز نہیں بچتا۔ شروع دن سے عمران خان کا ایجنڈا یہ ہے کہ ملک کو لوٹنے والوں کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کرنی چاہے حکومت ہی کیوں نہ چلی جائے اور اس پر انہوں نے عمل کرکے بھی دکھایا ہے۔ اب یہی کام اگر وہ جہانگیر ترین کے لئے کر دیتے ہیں تو پھر ان کی حکومت کا کیا اخلاقی جواز باقی رہ جاتا ہے۔ حیرت ہے جہانگیر ترین کو عمران خان کے قریب رہنے کے باوجود اتنی سی بات سمجھ نہیں آ رہی۔اگر وہ تھوڑا سا ٹھنڈے دِل کے ساتھ غور کریں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ اپنی سیاسی طاقت شو کرنے کا انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ سیاسی تو ہو سکتا ہے، مگر اخلاقی جواز سے عاری ہے۔

جہانگیر ترین اگر یہ کہیں کہ وہ وزیراعظم کے دست راست رہے ہیں، آج بھی انہیں اپنا دوست سمجھتے ہیں، پھر ان کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے، وزیراعظم اسے رکواتے کیوں نہیں؟ تو ان کی اس خواہش کو بچگانہ ہی کہا جائے گا۔ اب تک ان کے جو معاملات سامنے آئے ہیں، وہ خاصے اُلجھے ہوئے ہیں،ان پر لگنے والے الزامات کے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں، جنہیں صرف اس صورت میں غلط ثابت کیا جا سکتا ہے،جب ان کے برعکس ثبوت فراہم کئے جائیں۔ غالباً یہ راستہ بہت کٹھن ہے، اسی لئے جہانگیر ترین اس آسان راستے کے متلاشی ہیں،جو حکومتی حمایت سے انہیں اس سارے بحران سے نکالے، حالانکہ یہ راستہ ان کی نظر میں آسان ہو سکتا ہے، وزیراعظم عمران خان کے لئے اس سے زیادہ مشکل راستہ کوئی نہیں۔کسی اصولی موقف پر ارکانِ اسمبلی اکٹھے ہوں تو حکومت کے لئے مشکل پیدا ہوتی ہے۔ یہاں جہانگیر ترین کی حمایت کرنے والوں کا اصول موقف بہت کمزور ہے۔ ہاں وہ یہ مطالبہ تو کر سکتے ہیں کہ جہانگیر ترین کے خلاف تفتیش میرٹ پر کی جائے، یہ نہیں کہہ سکتے کہ سرے سے مقدمات ہی ختم کر دیئے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ارکانِ اسمبلی کی وجہ سے حکومت کسی اضطراب میں نظر نہیں آ رہی۔ خود یہ ارکان اسمبلی بھی وضاحتیں دے رہے ہیں کہ اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں، صرف جہانگیر ترین سے ناانصافی کا ازالہ چاہتے ہیں۔ جلد یا بدیر جہانگیر ترین کو اندازہ ہو جائے گا کہ انہوں نے جو راستہ اختیار کیا، وہ دانشمندانہ اور سیاسی نہیں تھا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *