جلد ملکی سیاسی منظر نامہ کیا بننے والا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) بلاول بھٹو کا گوجرانوالہ کے جلسے میں یہی کہنا تھا کہ ہم نواز شریف کی تقریر سے رہنمائی حاصل کریں گے ، پیپلز پارٹی کو خوب علم ہے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد ہی اسکی طاقت ہے ، اس وقت یا آنے والے وقت میں اپوزیشن اتحاد سے نکلنا

تو درکنار پی ڈی ایم کی کمزوری کا تاثر دینا بھی خود اپنے نقصان کے مترادف ہوگا ،نامور کالم نگار نوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف زرداری اس حوالے سابق ڈی جی آئی ایس آئی شجاع پاشا کے دور میں کافی سبق حاصل کر چکے ہیں ، جنرل شجاع پاشا کو ایوان صدر میں دوست کہہ کر بلایا جاتا ، مگر شجاع پاشا نے صدر زرداری اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا ،اس کے باوجود نیا پاکستان بنانے کے مشن میں ایک بار پھر مکمل طور پر مقتدر حلقوں کا ساتھ دینے کا تجربہ کیا گیا اور نتیجہ پہلے بھی خراب نکلا ، دعا دیں مولانا فضل الرحمن کو جن کے پہلے دھرنے سے اسٹیبلشمنٹ کو کچھ پیچھے ہٹنا پڑا اور اب یقیناً اس پر پہلے سے کہیں زیادہ دبائو ہے ورنہ اب تک سب کو عدالتوں سے نااہل قرار دلوا کر قید میں ڈال دینے کے سکرپٹ پر بھی عمل ہو جانا تھا ، ترجمان اعلیٰ شیخ رشید نے اوپر سے ملنے والی ہدایات پر یہ اعلان بھی کردیا تھا کہ بلاول کے خلاف بھی پکے ثبوت موجود ہیں ، ان کو بھی سیاست سے آئوٹ ہونا ہوگا ،جہاں تک رابطوں کی بات ہے تو سننے میں یہی آرہا ہے کہ سب کے ساتھ الگ الگ پیغام رسانی کی جارہی ہے ، پیپلز پارٹی کا ذکر تو ہوچکا ، مولانا فضل الرحمن کو بھی سینیٹ الیکشن میں اپنے بندے اکاموڈیٹ کرانے کا پیکیج پیش کیا گیا ہے ، ن لیگ کی قیادت کو بھی بعض تجاویز بھیجی گئی ہیں ، مگر کہیں سے بھی کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا ، ایسا نہیں کہ پی ڈی ایم میں شامل پارٹیوں کا ماضی بہت درخشاں اور اصولوں پر مبنی سیاست کا ہے ، یقیناً اس حوالے سے بہت تلخ یادیں وابستہ ہیں ، مگر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہر بار ڈاج کرائے جانے کے عمل نے ان سب کو بہت چوکنا کردیا ہے ، اسی لیے مختلف سیاسی نظریات رکھنے کے باوجود اس معاملے پر سب کا موقف ایک ہی ہے ۔۔۔ اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا۔۔ورنہ میں تیرا نہیں تھا اور تو میرا نہ تھا۔۔۔اب اسٹیبلشمنٹ کا امتحان ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے پی ڈی ایم کو توڑے تاکہ نواز شریف کے بیانیے کا زور ٹوٹ سکے ، دوسری جانب پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو یقین ہے کہ جو اس  اتحاد کو کمزور بنانے کی کوشش کرے گا اسے خود امتحان کا سامنا کرنا پڑے گا ، حالات اس قدر پیچیدہ ہوچکے ہیں کہ جہانگیر ترین کو بھی لندن سے طلب کرکے سیاسی رابطوں کی ڈیوٹی سونپ دی گئی ہے ، بظاہر اس بات کا امکان کم ہے کہ ہر طرح کی ریاستی سپورٹ ہونے کے باوجود ترین کوئی بڑا کام دکھا سکیں ، ایسے میں گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج متنازع ہوگئے تو محاذ آرائی کہیں سے کہیں جا پہنچے گی 

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *