جمشید چیمہ اور مسرت چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر حلقے کے پی ٹی آئی کے ووٹر دل سے خوش کیوں ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) مشہور خاتون صحافی میمونہ حسین اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔میں پچھلے چند دنوں سے تحقیق کر رہی تھی کہ آخر وہ کونسی وجہ بنی جس کی بنا پر پی ٹی آئی الیکشن سے آئوٹ ہو گئی ؟میری تحقیق کے دوران بہت سی اندر کی باتیں سامنے آئیں جن کی بنا پر میں یہ

کہنے پر مجبورہوں کہ جب میاں بیوی کے کاغذات الیکشن کمیشن سے مسترد ہوئے تو پی ٹی آئی کے اس حلقے کے پرانے اور نظریاتی کارکنوں کے اندر خوشی کی لہر ڈور گئی کیونکہ وہ اوپر سے تو ان کے ساتھ تھے مگر دل سے نہیں کیونکہ جس کو پی ٹی آئی نے ٹکٹ دیا اس کا تعلق اس حلقے سے نہیں تھا۔ اس سے پہلے یہی شخص 47ہزار ووٹوں کے فرق سے این اے 127سے ہار چکا تھا اتنی بڑی لیڈ سے ہارنے والے کو پھر سے این اے 133کا ٹکٹ دے دیا گیا اور وہ بھی بغیر کسی بورڈ اور کسی کمیٹی کے اور نہ ہی اس حلقے کے ورکرز سے مشاورت کی گئی۔نومبر میں پی ٹی آئی کی طرف سے چار اُمیدوار اس حلقے سے الیکشن لڑنا چاہتے تھے جن میں میاں محمود الرشید کا داماد اکرم عثمان ،اعجاز چوہدری کی طرف سے علی وڑائچ،عبدالکریم کلواڑ اور شبیر سیال شامل تھے۔ ان میں سے تین لوگ اس حلقے کو بہت اچھے سے جانتے تھے سوائے اکرم عثمان کے ،ان چاروں میں سے کچھ نے اس حلقے کے حوالے سے کمپین سوشل میڈیا پر شروع کر دی مگر وہ صرف سوشل میڈیا تک ہی تھے اور باقی لوگوں کے بارے میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔ پھر اچانک سے ان میاں بیوی کا نام سامنے آگیا۔ پارٹی کے بہت سے ورکرز اس فیصلے سے ناخوش تھے لیکن اس کے باوجود ان ورکرز نے عمران خان کے فیصلے کو تسلیم کیا ۔سب سے پہلے اس حلقے میں شبیر سیال نے

ان میاں بیوی کو ایک میلاد پر دعوت دی جس پراُس نے اپنی جیب سے کھانا بھی دیااس کے بعد عبدالکریم کلواڑ نے بھی ان کی کارنر میٹنگ اور باقی چیزوں کو ترتیب دینا شروع کر دیا۔اسی دوران پی ٹی آئی کے ایک دیرینہ کارکن سید عدنان کو اس حلقے کے حوالے سے اہم ذمہ داری بھی سونپی گئی اور اس نے لوگوں کو اس حلقے میں کردار ادا کرنے کیلئے رابطے شروع کر دیئے ۔20نومبر کو عمران خان لاہور تشریف لاتے ہیں اور اس حلقے کے بارے میں میٹنگ کرتے ہیں لیکن اس میٹنگ میں شبیر سیال سمیت بہت سے اہم لوگوں کو اس میٹنگ میں آنے اور اپنی رائے دینے کی دعوت نہیں دی جاتی۔اس پر وہ لوگ کافی آگ بگولہ ہوگئے لیکن اس حلقے کے امیدوار ان میاں بیوی نے ان کو بہت اچھے سے ہینڈل کیااور اس کے ساتھ اپنے مراسم اچھے کرنے کی کوشش کی اس میں یہ دونوں میاں بیوی کامیاب بھی ہوگئے۔ پھر ان لوگوں نے حلقے کے لوگوں سے کہا کہ وہ کچھ لوگ کے شناختی کارڈ دیں ۔ 21نومبر کو شبیر سیال نے بھی دو لوگوں کے شناختی کارڈ دے دیئے ۔ ان میاں بیوی کے پاس 25لوگوں کے شناختی کارڈز موجود تھے مگر ان میاں بیوی نے وہی دو لوگ اپنے تجویز کنندہ جن کے نام بلال اور مرتضیٰ تھے رکھ لئے جو نام ان کو شبیر سیال نے دئیے تھے۔25تار یخ کو ان میاں بیوی نے اپنے پیپرز جمع کرا دئیے اور اپنی کمپین تیز کر دی 26تاریخ کو ملک فقیر حسین جوکہ کونسلرز

کا ہیڈ بھی ہے اُس کے گھر 500سے زیادہ خواتین کی ایک میٹنگ ہوئی اس میٹنگ کا اہتمام بھی شبیر سیال نے کیاتھا۔پی ٹی آئی کے امیدوار کی بیوی وہاں آتی ہے اور ان خواتین سے خطاب کرتی ہے اور چلی جاتی ہے۔چند دن بعد ہی الیکشن کمیشن ان دونوں میاں بیوی کے کاغذات مسترد کر دیتا ہے کہ تجویز کنندہ کا تعلق اس حلقے سے نہیں ہے۔ یہ بہت ہی عجیب اور حیرت کی بات ہے کہ ان میاں بیوی نے صرف بلال اور مرتضیٰ کا ووٹ کیوں الیکشن کمیشن سے چیک نہیں کرایا؟ ان دونوں نے ایک جیسے تجویز کنندہ ہی کیوں رکھے ؟ان کی بیوی نے اپنے تجویز کنندہ کیوں نہیں تبدیل کئے؟بلال اور مرتضیٰ کو ہی تجویز کنندہ کیوں بنانا مناسب سمجھا؟اس طرح کے کئی سوالات پیدا ہونا شروع ہو گئے لیکن اب کیا ہوئے جب چڑیا چگ گئی کھیت۔ان میاں بیوی نے یہ جان بوجھ کر کیا یا پھر جلد بازی میں ان سے ہو گیا؟ سب اہم بات کہ کسی اور نے ان میاں بیوی کے علاوہ کیوں اپنے کاغذات جمع نہیں کرائے یا پھر جمع کرانے سے روک دیا گیا؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے کاغذات اس لئے جمع نہیں کرائے کہ پارٹی فیصلہ کرچکی تھی اور پارٹی کے فیصلے کے آگے ہم لوگوں نے اپنے کاغذات جمع کرانا مناسب نہیں سمجھا۔سوشل میڈیا پر بھی لوگوں نے ان دونوں میاں بیوی پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں کہ شکر ہے سیاسی بٹیروں سے جان چھٹی۔اور ایک نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ

شکر ہے خدا کا کہ ان تکبر والے میاں بیوی کے کاغذات مسترد ہوگئے۔اب اس سارے عمل میں کسی کا کوئی قصور نہیں اگر کوئی قصور وار ہے تو وہ یہ دونوں میاں بیوی ہیں۔ اب تو ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے بھی ان دونوں میاں بیوی کے کیس کو سننے سے انکار کر دیا ہے اب تین رکنی بنچ اس کی سماعت کرے گا۔ یہ تو اب عدالت میں ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے لیکن ن لیگ اور پی پی پی اپنی اپنی کمپین جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس ساری کہانی سے ایک سبق ملتا ہے کہ اگر عمران خان کسی پرانے ورکر کو وہاں سے ٹکٹ دیتے تو وہ ورکرز کی آواز ہونا تھا وہ ورکر اس حلقے کواور لوگوں کو بھی اچھے سے جاننے والا ہونا تھا۔عمران خان نے کیوں کسی کو اس قابل نہیں سمجھا کہ ایک ورکر کو ٹکٹ مل جائے جو اسی حلقے کا ہو؟ کیوں ایک بڑی لیڈ سے ہارے ہوئے کو ٹکٹ دی؟پی ٹی آئی کو اس حلقے میں ورکرز کی کمی تھی؟ اس کا جواب تو صرف عمران خان ہی دے سکتے ہیں کوئی اور نہیں۔ اب مجھے یہ دکھائی دے رہا ہے جیسے یہ الیکشن پی ٹی آئی کے بغیر ہی ہو جائے گا۔ ابھی وقت ہے پی ٹی آئی اس حلقے کے کسی آزاد امیدوار کو اپنا امیدوار بنا لیں کیونکہ تمام امیدواروں کو انتخابی نشان مل چکے ہیں۔ اگر یہ عدالتی فیصلے کا انتظار کریں گے توتب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔(ش س م)

Comments are closed.