جموریت کا لولی پوپ ہمارے منہ میں اور ریاست مدینہ کا وظیفہ ہماری زبان پر ،

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ پاکستان ہنوز اس نصاب سے کوسوں دور ہے۔ اس کو تو سیاسی نصاب سے ہی فرصت نہیں اور نہ ہی معاشی نصاب کے گورکھ دھندے سے نکلنے کا کوئی راستہ اس کے سامنے ہے۔

خیال رکھئے کہ ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگانے سے نوجوان پاکستانی نسل گمراہ ہو سکتی ہے۔ وہ یہ نعرہ سن کر خلا میں گھورنے لگتی ہے کہ عربوں کے پاس کون سی ”گِدڑ سِنگھی“ تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایران سے شام تک اور سندھ سے مراکش تک جا پہنچے تھے۔ علم و دانش کے مکاتب، مدرسے اور جامعات تو عربوں نے سالہا سال بعد میں جا کر بنائیں۔ خلافتِ راشدہ کا سارا سوادِ اعظم اور اموی خلفاء کا سارا معاشرہ کیا مدرسوں میں بیٹھا یکساں نصابی کتابیں حفظ کر رہا تھا؟…… آج جنابِ وزیراعظم کو ان کے کسی وزیر، امیر، سفیر اور مشیر سے مشورہ کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اور یہ ہمارے محترم و مکرم وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود صاحب کیا کر رہے ہیں؟وہ ایک جہاں دیدہ دانشور بھی ہیں۔ مختلف ادوار میں مختلف حکومتی محکموں سے منسلک رہ چکے ہیں۔ ان کو کیا معلوم نہیں کہ پاکستان کی طاقت یکساں نظام تعلیم میں نہیں ہے؟…… آپ بھلے یہ کام کرتے رہیں لیکن ریاستِ مدینہ کی وہ شان و شوکت، وہ عظمت و سطوت اور وہ قدر و منزلت جو دورِ نبویؐ میں تھی اور پھر دورِ خلافتِ راشدہ اور پھر دور امیہ کی مرہون منت تھی اس کا بنیادی پتھر کیا تھا اس کی بھی کوئی کھوج لگا لیں …… کسی ممتاز ماہرِ تعلیم کو یہ فریضہ سونپ دیں کہ وہ یہ سراغ لگائے کہ 632ء سے لے کر کہ جب آنحضورؐ کا وصال ہوا، 8ویں صدی عیسوی کے آغاز تک کہ جب خلافتِ عباسیہ کا آغاز ہوا، مسلمانوں کا شعبہء

تعلیم و تدریس کس کیف و کم کا تھا۔ سکولوں اور یونیورسٹیوں کا نصاب کیا تھا اور کیا وہاں سے تعلیم پا کر مسلم نوجوان عساکرِ اسلام کا رخ کیا کرتے تھے؟…… حضرتِ عمرؓ کے دور میں جس عسکری مدرسے کا ذکر مولانا شبلی نے الفاروق میں کیا ہے اس کی ترویج و اشاعت کا اہتمام جناب عمرؓ کی وفات کے بعد کہاں تک پھیلا؟ ممالکِ محروسہ میں کتنی واراکیڈیمیاں تھیں، کتنے ملٹری سکول تھے اور کتنی عسکری جامعات تھیں؟ریاستِ مدینہ کی شان و شوکت جن اسباب کی مرہونِ احسان ہے وہ عربوں کا یکساں نظامِ تعلیم نہیں تھا بلکہ ان کی شمشیرِ آبدار تھی جو ایرانی آتش پرستوں کو آگ میں بھسم کر گئی اور رومی صلیبیوں کو صلیبوں پر لٹکا گئی؟مجھے اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ عمران خان، حضورؐ کے دس سالہ مدنی دور کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟ اصل میں تو وہی ریاستِ مدینہ تھی۔ حضرت محمد رسول اکرمﷺ کے 10سالہ آخری دور میں مسلمانوں نے تبلیغ کو بیک برنر پر رکھ کر تلوار کو ہراول کا حصہ بنا دیا۔ بدر سے تبوک تک کے غزوات کا مطالعہ کریں۔ دنیا کی تمام جدید ترقی یافتہ اقوام آنحضرتؐ کے اسی اسوہ کی تقلید کرتی ہیں اور ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بنتی ہیں۔ ہم نجانے کیوں ایسا کہنے اور کرنے سے گھبراتے ہیں۔ جمہوریت کا ”لولی پاپ“ ہمارے منہ میں ہے اور ریاستِ مدینہ کا وظیفہ لب پر ہے لیکن ریاست مدینہ کے حکمرانِ اول کی زندگیء مبارکہ کی تقلید کو جب تک مشعل راہ نہیں بنائیں گے تب تک پاکستان کی نوجوان نسل، سکندر کو مسلمان ہی سمجھتی رہے گی۔

Comments are closed.