جناب والا اقتدار سدا نہیں رہتا ۔۔۔۔ مجیب الرحمان شامی کا عمران اینڈ کمپنی کو زبردست مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان کو ایک بار پھر اس کھیل میں دھکیلنے کی کوشش ہو رہی ہے،جو یہاں بار بار کھیلا گیا ہے،اور جس کے نتیجے میں پاکستان اور اہل ِ پاکستان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا۔ ہارنے والوں نے تو

خیر کچھ نہ کچھ کھونا ہی تھا،جیتنے والوں کو بھی خالی ہاتھ دیکھا،اور ہاتھ ملتے پایا گیا ہے۔ اپوزیشن سڑکوں پر نکل رہی ہے، پی ڈی ایم کی جماعتیں جگہ جگہ دھرنے دے رہی ہیں۔پیپلزپارٹی اور اے این پی، پی ڈی ایم سے نکل چکی ہیں، لیکن احتجاجی سیاست سے نہیں نکل پا رہیں،اپنے اپنے وجود کا ثبوت دینے کے لیے الگ الگ احتجاجی اجتماعات کا انعقاد کر رہی ہیں۔ایک کالعدم تحریک کے کارکن بھی اسلام آباد کی طرف مارچ پر بضد ہیں۔ لاہور میں ان کی پولیس سے شدید جھڑپیں ہوئی ہیں،جن میں فریقین کو جانی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔لاہور شہر کا ایک بڑا حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے ان کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، اُس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔اب وہ اپنا حق بزورِ بازو وصول کرنا یا منوانا چاہتے ہیں۔جماعت اسلامی بھی اپنے طور پر احتجاج کے راستے پر گامزن ہے، اور بے روزگار نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اسلام آباد میں جمع کرنے کے در پے ہے۔ دیکھا دیکھی مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے بھی حوصلہ پکڑ رہے ہیں اور احتجاجی گنگا میں اشنان کرنے کے ارادے کر رہے ہیں۔ کوئی بعید نہیں کہ تاجر، ڈاکٹر، کلرک،میڈیا ورکرز اور دوسرے ناراض عناصر بھی اپنا اپنا جھنڈا اٹھا کر نکل کھڑے ہوں کہ ”بازارِ احتجاج“ میں ان کی دکان نہ سہی چھابڑی تو نظر آئے۔ حکومت وہی کچھ کر رہی ہے،جو پاکستانی حکومتیں کرتی چلی آئی ہیں۔ طاقت کےسرور میں سرشار ہوتی ہیں تو کسی سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں،

خمار اترنے لگتا ہے تو مقابل شیر ہو چکے ہوتے ہیں۔ مذاکرات کے کسی اشارے کو کمزوری سمجھنے لگتے ہیں،اور گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو کے نعرے لگاتے ہوئے سر پر کفن باندھ لیتے ہیں۔ملکی معیشت ہے کہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے، ڈالر قابومیں نہیں ہے۔روپے کی قدرگرتی جا رہی ہے۔ درآمدات کا حجم کم ہونے میں نہیں آ رہا۔پٹرول تو درآمد کرنا مجبوری ہے،لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے تو اشیائے خوردنی بھی باہر سے منگوائی جا رہی ہیں،اور تو اور دالوں تک میں ہم خود کفیل نہیں ہیں۔ گندم اور چینی کی قیمتیں بھی بس میں نہیں ہیں۔آئی ایم ایف سے مذاکرات رک رک کر چلتے اور چل چل کر رک جاتے ہیں۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ منہ کھولے کھڑا ہے، اور بہت کچھ نگلتا جا رہا ہے۔ اور کسر جو باقی تھی ، آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری پر نئی الجھنیں پیدا ہو گئیں۔مطلوبہ نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں ہوا،بتایا جا رہا ہے کہ یہ شبھ گھڑی کسی بھی لمحے آ سکتی ہے،لیکن جو نقصان ہو چکا، اور اعتماد کو جو ٹھیس لگ چکی،اس کا ازالہ یا مداوا کیسے ہو گا۔ دیکھنے والوں کو تو کچھ صاف نظر نہیں آ رہا، نہ دیکھنے والوں کا معاملہ البتہ مختلف ہے، ان کے اندھیروں نے تو جوں کا توں ہی رہنا ہے۔حکومتی اتحادی طرح طرح کی آوازیں نکالنے لگے ہیں۔ایم کیو ایم کو بھی عوام کی مشکلات کا احساس ہو رہا ہے، اور سینیٹر کامل علی آغا کو بھی اپنے دانشمندانہ مشوروں پر کان نہ دھرنے کی شکایات پیدا ہو رہی ہیں۔

نفسیاتی طور پر حکومت کچھ کپکپا رہی ہے، قبولیت کا گراف گرتا جا رہا ہے۔سبز باغ دیکھنے والے کالا باغ میں پڑے سسک رہے ہیں۔حکومتی زعما کی طرف سے بین الاقوامی منڈی کے اعداد و شمار دیے جا رہے ہیں کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں ہر جگہ ہے۔ لوگوں کو کھانا کم کھانے کے مشورے بھی دیے جا رہے ہیں،اور گورنر سٹیٹ بنک نے تو اوورسیز پاکستانیوں کو یہ کہہ کر بہلانے کی کوشش کی ہے کہ ڈی ویلیو ایشن میں آپ کا بڑا فائدہ ہے۔آپ کے بھیجے ہوئے ڈالروں کے عوض پاکستان میں رہنے والے آپ کے عزیز و اقارب کو روپے زیادہ ملیں گے،لیکن روپے کی قوتِ خرید کم ہونے کی وجہ سے یہ تسلی کسی کام نہیں آ رہی۔ پہلے جو چیز دس روپے میں آتی تھی،اب پندرہ میں ملنے لگی ہے،تو دس کی جگہ بارہ روپے مل جائیں تو بھی کس کام کے؟پاکستان میں رہنے والے چیخ رہے کہ جناب پچاس لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کو دلاسہ دیتے دیتے،ساڑھے اکیس کروڑ اندرون ملک مقیم لوگوں کے دِل پر آپ نے آرا چلا دیا ہے۔دوسرے ممالک کی فی کس آمدن سے بھی موازنہ کیا جا رہا ہے۔پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش سے پیچھے رہ گیا ہے،وہاں کے لوگوں کی فی کس آمدنی پاکستانیوں سے بڑھتی جا رہی ہے۔ہماری سکڑتی معیشت اور بڑھتی آبادی ہر شخص کی آمدنی میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔بنگلہ دیش جو قیام کے وقت پاکستان سے زیادہ پُرہجوم تھا،اب کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔پاکستانی چھ، سات کروڑ کی تعداد میں آگے نکل چکے ہیں اس طرح

اوسط فی کس آمدن کم سے کم تر ہو گئی ہے۔جو کچھ ہو رہا ہے،اُس کے نتیجے میں حکومت لڑکھڑائے،گر جائے، یا کھڑی ہونے میں کامیاب رہے،سُکھ کا سانس کسی کو نہیں ملنے والا، سڑکوں پر آنے سے، نعرے لگانے سے، دھرنے دینے سے، مارچ کرنے سے مہنگائی کم ہوتی نظر آ رہی ہے، نہ معیشت ترقی کرتی نظر آ سکتی ہے۔سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گا، تو سٹاک ایکسچینج اور گرے گی، ڈالر اور مہنگا ہو گا، سرمایہ کار تو پہلے ہی نہیں آ رہا، اندرونی سرمایہ کار بھی اپنے آپ کو سمیٹ لے گا، نتیجتاً ؎ناکامیئ عشق یا کامیابی۔۔۔دونوں کا حاصل، خانہ خرابی۔۔حفیظ جالندھری کا یہ شعر ایسے مواقع پر بے ساختہ یاد آ جاتا ہے، نئے واقعات اور حادثات میں کچھ بھی نیا نہیں ہے تو نتیجہ کیسے نیا نکلے گا؟ایٹمی قوت کہلانے والا پاکستان ابھی تک کشکول نہیں توڑ سکا۔وہ سب سیاسی جماعتیں جو حزبِ اقتدار میں ہیں، یا اختلاف میں،اور وہ ادارے جو حساس ہیں،یا وہ عناصر جو احساس سے عاری ہیں،آنکھیں کھول کر دیکھیں تو سہی کہ ہمارے آگے کیا ہے؟ ہم موٹروے پر سفر کر رہے ہیں، کسی کھائی کے قریب پہنچ چکے ہیں، یا کوئی گڑھا شدت سے ہمارا منتظر ہے۔ایک دوسرے کو دھکا دینے کی خواہش،اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کے عزائم،ایک دوسرے کے سر سے آسمان اور پاؤں سے زمین کھینچ لینے کی کوشش ہمیں کہاں لے آئی ہے،اور کہاں سے جائے گی؟ آپا دھاپی، اور نفسا نفسی کا جو تندور ہم سب مل کر گرم کر رہے ہیں، وہ سب کو جھلسا کر رکھ دے گا۔وزیراعظم

ہوں یا یا قائدین حزبِ اختلاف یا دوسرے معتبر یا مقتدر کہلانے اور سمجھے جانے والے سب دوسروں کے گریبان سے کھیلنے کے بجائے اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں، اپنی اپنی غلطیوں کا حساب کریں۔اپنے اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کریں۔ ایک دوسرے کو تسلیم کریں، ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھیں، مسائل پر غور کریں، آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کریں۔پاکستانی تاریخ سے کتنے حوالے دیے جائیں، ایوب خان کو یاد کیا جائے، یا یحییٰ خان کو، ذوالفقار علی بھٹوکو یا تو ان کے بعد آنے والوں، پرویز مشرف کو یا ان کے ساتھ قوالی کرنے والوں کو، بروقت فیصلہ نہ کرنے کا نتیجہ کسی فیصلہ ساز کے حق میں بھی اچھا نہیں نکلا۔ پاکستان میں کسی جماعت یا عنصر کو ویٹو حاصل نہیں ہے۔پاکستانی تحریک انصاف اور اُس کے مخالفین کے ووٹوں میں انیس بیس کا فرق ہے،ایک اور سو کا نہیں۔احتساب کے نام پر جو کچھ گذشتہ تین سال سے ہوتا رہا، جس کی بھی شہ پر ہوتا رہا، اب وہ اپنے انجام کو پہنچ چکا۔احتساب کرنے والوں کے دانت کھٹے ہو چکے،اور ہلّہ شیری دینے والوں کے بھی ثابت نہیں رہے۔کسی کو راستے سے ہٹانا ممکن نہیں رہا۔بند راستوں کو ہجوم کھولنے میں لگ جائیں تو پھر اقتدار بے چارہ تنہا ہو کر رہ جاتا ہے۔فوری انتخابات اگر مسئلے کا حل ہیں تو ان پر اتفاق کر لیں،ان کے ضوابط طے کر لیں،اگر صبر ممکن ہے تو کچھ عرصہ صبر کر لیں۔ جن مشکلات میں سب نے مل کر اپنے آپ کو ڈالا ہے،سب مل کر ہی ان سے اپنے آپ کو باہر نکال سکیں گے۔ جو بھی سننے والا ہے، وہ سن لے، وگرنہ کان کھول کر سن لے،کان پکڑنے والے پکڑائی نہیں دیں گے۔