جنت ماں کے قدموں میں سے عورت پاؤں کی جوتی تک کا سفر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کنفیوژن ہماری خوراک ہے بلکہ ہمارے لئے آکسیجن کا سا درجہ رکھتی ہے مثلاً ہم بچپن سے سنتے چلے آتے ہیں کہ ’’ماں کے پیروں تلے جنت ہے ‘‘ ذرا بڑے ہوتے ہیں تو کان میں سرپرائز پڑتا ہے ’’عورت پائوں کی جوتی ہے ‘‘

۔پڑھایا جاتا ہے ’’صفائی نصف ایمان ہے ‘‘ پھر دکھایا یہ جاتا ہے کہ پورا معاشرہ، ہر گلی کوچہ کوڑا دان اور کچرا دان ہے ۔ سنتے ہیں مسلمان بھائی بھائی ہیں لیکن آہستہ آہستہ حقیقت بے نقاب و بے حجاب ہوتی ہے کہ نہیں ہم جٹ، گجر، ارائیں، شیخ، بٹ وغیرہ ہیں بلکہ سنی ، وہائی، شیعہ، بریلوی وغیرہ بھی ہیں اور اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی سپییکنگ ہی نہیں بلکہ چودھری اور کمّی بھی ہیں تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ بربر طارق بن زیاد، عرب محمد بن قاسم، کرد صلاح الدین ایوبی، ترک امیر تیمور اور بابر بھی ہمارے کزن ہیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ بنو امیہ، بنو عباس وغیرہ کی خون ریزی کے بعد برادران نے بنگلہ دیش بنا کر علیحدگی اختیار کر لی وغیرہ وغیرہ ۔یہ تو ہو گئیں ہمارے ’’امور داخلہ ‘‘ کی صرف چند جھلکیاں۔اب چلتے ہیں ’’امور خارجہ‘‘ کی طرف کہ جن سے قرضے اٹھاتے رہے وہ تو بے راہروی ، ، بے حیائی ، بے شرمی وغیرہ کے گڑھ ہیں کہ مے ، شباب، بے حجاب، ہم جنس پرستی وغیرہ کے بدبودار گٹر ہیں تو حیرت ہوئی کہ اعلیٰ تعلیم کیلئے ہی نہیں روٹی روزی کیلئے بھی ہر کوئی ادھر ہی کیوں لپک رہا ہے ۔ آج تک سمجھ نہیں آ رہی کہ سچ کیا اور جھوٹ کیا ہے ۔ ایجادیں اور دریافتیں بھی ساری ان کی، مے نوشی کے اڈے ، شباب خانے، جوئے خانے بھی ان کے …… ہم پاک صاف 74سال بعد بھی لنگر خانے کھول کر بیٹھے ان پر فخر کر رہے ہیں ۔ جو بھی ہیں ہم خدا کی قسم لاجواب ہیں ۔

سب ٹھیک ہے لیکن کنفیوژن ہے کہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے کہ سارے شمس العلماء یعنی علم کے سورج تو ہمارے سب کے سب ’’ زُبدۃ الحکماء‘‘ یعنی ’’حکمت کے مکھن‘‘ تو ہمارے یعنی دنیا بھر کے ’’علم و حکمت‘‘ کے اجارہ دار تو ہم، لیکن ہر اچھی شے کی پیداوار مراکز کفر میں جس کی انتہا یہ ہے کہ پولٹری بہرحال انہوں نے ہی متعارف کرائی لیکن یہ کیا کیمرا ٹرک ہے کہ آپ یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا میں انڈہ فرائی کریں تو اس کی شکل و صورت ہماری پولٹری کے انڈے سے دور دور تک نہیں ملتی تو آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟ کہیں ’’فیڈ‘‘ میں تو برکت نہیں گھس گئی کہ جہاں انسانوں کی ’’فیڈ‘‘ میں ملاوٹیں اور آلائشیں ہوں، وہاں معصوم بے زبان مرغی کس کھاتے میں؟حیرت ہوتی ہے کہ جن معاشروں میں عریانی ، ، بےحیائی، سنگل مدرز وغیرہ عروج پر ہیں، وہی ورلڈ لیڈرز اور سپر پاورز میں مدتوں سے شامل ہیں تو آخر اس کی وجہ یا وجوہات کیا ہیں ؟ بے ستر ساحلوں سے لیکر بن بیاہے جوڑوں تک وہ کون سی خباثت ہے جو وہاں موجود نہیں لیکن کیسا عجب اتفاق کہ قیادت، عزت، دولت، انصاف، میرٹ، طاقت، تعمیر، ایجاد، اختراع وغیرہ بھی وہیں موجود ہیں ۔ ہم تو شاعری میں ہی ستاروں پر کمندیں ڈال کر اپنے حرام خور، کام چور اور چُوری کھانے والے رانجھے راضی کرتے رہے جبکہ امریکہ نے باقاعدہ ’’خلائی فورس‘‘ بھی لانچ کر دی ہے جس کا ’’لوگو‘‘ سٹار ٹریک سیریز فلموں کی فلیٹ کمانڈ کے ’’لوگو‘‘ سے مماثلت رکھتا ہے۔ 2018ء میں نان سیریس سے امریکن صدر ٹرمپ نے میرینز سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا،

’’ہم خلاء میں بڑے پیمانے پر کام کر رہے ہیں شاید ہمیں نئی فورس کی ضرورت پڑے جسے ہم خلائی فورس کا نام دیں گے‘‘ٹرمپ چلا گیا لیکن 2018ء میں کہی جانے والی اس کی بات 2021ء میں پوری ہو گئی اسے کہتے ہیں زندہ قوموں کی کنٹی نیوٹی جبکہ مے نوشی کے اڈوں ، جوا خانوں، قحبہ خانوں سے پاک پاکستان میں آئے دن اک نئی پالیسی، نئی حکمت عملی ،نہ سر نہ پیر، چلتے چلتے یہ بھی سن لیں اور یاد رکھیں اگلا الیکشن پھر ٹرمپ کا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہےکیا ۔فی الحال میرا ایک سوال ہے کہ ہم جو امریکہ کے زوال کا انتظار فرما رہے ہیں تو مجھے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا لیکن ایک لمحہ کیلئے یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ایسا ہوگیا، کوئی روس کوئی چین سپر پاور بن گیا تو بھلا ہمیں اس سے کیا ؟ ’’ہیلن آف ٹرائے، کوئی آئے کوئی جائے ‘‘ کمزوروں کے کشکول کا تو صرف رخ ہی تبدیل ہو گا اور اصل بات وی جو میراثی نے اپنے فرزند ارجمند کو سمجھائی تھی کہ ’’بیٹا ! سارا پنڈ بھی چل بسے تو پھر بھی تجھے چوہدراہٹ نہیں ملے گی ‘‘۔ ایویں خوامخواہ ’’ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ ‘‘ والی بات ہے اور اصل بات صرف اتنی ہے کہ خراٹوں اور خوابوں سے جان چھڑا کر دماغ پر زور ڈ الیں اور اس ملک کے شہہ دماغ فکری دیانتداری سے یہ سوچیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ عہد حاضر میں عروج و زوال کے پیمانے ہی اوپر نیچے ہو گئے ہوں کہ اس کی گواہی میں صدیاں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اصل مسئلہ ہے اپنے زوال کے حقیقی اسباب ڈھونڈ کر ان کا سدباب کرنا، باقی صرف دولتیاں ہیں !علم حاصل کرو چاہے چین بھی جانا پڑے ….تو بھائی ! جانا کیسا، چین تو خود تمہارے پاس چلا آیا ہے ۔اسے ’’اسامی ‘‘سمجھنے کی بجائے اس ’’ غیر برادر اسلامی ‘‘ سے انسپائریشن حاصل کرو کہ تمہارے بعد آزاد ہو کر کہاں پہنچ گیا اور ہم کہاں بیٹھے بلکہ لیٹے روٹی،روٹی کا ورد کر رہے ہیں ، مہنگائی، مہنگائی کی دہائی دے رہے ہیں۔

Comments are closed.