جنرل بپن راوت کی موت کے بعد بھارت میں ایسا کیا ہوا کہ ایک مشہور مسلمان شخصیت نے دین اسلام ترک کر دیا

ممبئی (ویب ڈیسک) انڈین ریاست کیرالہ کے فلمساز علی اکبر نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا نیا نام رام سمہن ہوگا۔ علی اکبر کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں جنرل راوت کی موت پر کچھ لوگوں کے ردعمل سے دکھی ہو کر ہندو مذہب قبول کیا ہے۔

علی اکبر نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل راوت کی موت کے بعد ’بہت سے لوگوں نے ہنستے ہوئے ایموجی لگائے، یہ بہت بُری بات تھی۔ آپ سوشل میڈیا پر ایسے لوگوں کے نام دیکھ سکتے ہیں۔ یہ سب مسلمان ہیں۔‘انکا کہنا تھا کہ ’ہم صرف اپنے مذہب کو سب سے اوپر رکھ کر کیسے جی سکتے ہیں میری نظر میں مذہب تیسرے نمبر پر آتا ہے، پہلے نمبر پر میرا ملک ہے، دوسرے نمبر پر بھی میرا ملک ہے اور پھر تیسرے نمبر پر مذہب ہے۔‘علی اکبر کا خیال ہے کہ جنرل راوت کی موت پر ایسا ردعمل اس لیے آیا کیونکہ انھوں نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔59 سالہ علی اکبر کا کہنا تھا کہ ‘کسی بھی مسلم رہنما نے ایسے لوگوں کے خلاف منہ نہیں کھولا اور انہیں ایسی پوسٹس لگانے سے نہیں روکا۔ کیرالہ میں اسلامی تحریک اب اسلامی نہیں رہی۔ اب وہ کیرالہ کو اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ کچھ لیڈروں نے تو یہ کھلے عام کہا ہے’۔اکبر ان پہلے فلم سازوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے پہلی بار فلم ‘1021—فرام ریور ٹو ریور’بنانے کا اعلان کیا تھا۔ وہ اپنی فلم کے ذریعے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اس وقت مالابار کے علاقے میں برطانوی راج کے خلاف بغاوت دراصل ایک فرقہ وارانہ فساد تھا جس میں مسلمانوں نے ہندوؤں کو نقصان پہنچایا تھا’۔’وہ (مسلم رہنما) گزشتہ ایک سال سے میرے پیچھے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ معاشرہ اس حقیقت کو جانے۔ میں نے یہ فلم ابھی مکمل کر لی ہے اور میں اسے اگلے ماہ ریلیز کرنے جا رہا ہوں۔‘