جنرل ملک کو جنرل ضیاء نے انعام و اکرام سے نوازنے کے لیے بلایا تو انہوں نے کیا شاندار جملہ کہا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بھٹو کی آخری رسومات کی نگرانی جنرل ملک کے ذریعے کرانے کے بعد جنرل ضیا نے انہیں ڈائریکٹر جنرل ڈیفنس پروکیورمنٹ مقرر کر دیا تھا۔ وہ اب دوبارہ راولپنڈی تعینات کر دیے گئے تھے۔ جب جنرل ملک اپنی نئی پوسٹنگ

کے لیے راولپنڈی پہنچے تو بریگیڈیئر محمود سے بھی ملے تاکہ صورتحال کا نئے سرے سے جائزہ لیا جائے۔ بریگیڈیئر محمود نے جنرل ملک کو بتایا کہ پیغام بڑا واضح ہے کہ ان کا اب آرمی میں کوئی مستقبل نہیں رہا۔ جنرل ضیا نے آپ کو ایک چوائس دی ہے کہ پیسہ بنائو اور مزے کرو‘ لہٰذا اب آپ کی مرضی ہے کہ پیسہ بنانا ہے یا اس پوزیشن کو مسترد کرنا ہے۔ جنرل ملک نے بریگیڈیئر محمود کی اس بات سے اتفاق کیا۔ ڈی جی پروکیورمنٹ لگنے کے بعد جنرل ملک نے جنرل ضیا سے ملنے کا وقت مانگا۔ جنرل ضیا نے جنرل ملک کے لیے بڑی محبت کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ وہ بہت جلد ان سے ملاقات کریں گے۔ چند دن بعد آرمی چیف اور صدر پاکستان جنرل ضیا نے میجر جنرل عبداللہ خان ملک کو بلایا اور باتوں باتوں میں کہا کہ کسی بھی ملک کا نام بتائیں جہاں وہ سفیر کے طور پر جانا پسند کریں گے۔ یہ پیشکش سن کر اس دفعہ جنرل ملک کسی کنفیوژن کا شکار نہ ہوئے۔ ان کا ملٹری کیریئر ختم ہو چکا تھا۔ جنرل ضیا نے انہیں پروموشن دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا۔ ان سے بھٹو سے ملاقات اور مارشل لاء کی مخالفت کا ایک طرح سے انتقام لینا تھا‘ وہ لے لیا تھا۔ جنرل ملک نے اس بار فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی‘ صاف انکار کر دیا اور کہا: میں مزید آپ یا آپ کی حکومت کا نمائندہ بن کر کہیں نہیں جا سکتا۔ یوں جنرل ملک کو ریٹائر کر دیا گیا۔

جنرل ضیا نے بھٹو کی سزا کے بعد اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔ جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد بھی جنرل ضیا کی برادری کے ہی تھے جو دونوں کی ایک دوسرے سے رفاقت اور تعاون کا ایک اور مضبوط حوالہ بھی تھا۔ بریگیڈیئر محمود لکھتے ہیں کہ میاں طفیل محمد نے اپنی مرضی کا ایئرچیف تک لگوا لیا تھا۔ ان کے بقول ایئر مارشل ذوالفقار نے ریٹائر ہونا تھا۔ ایئر وائس مارشل میاں صدرالدین پروفیشنل اور سینئر افسر تھے لیکن ان کے خلاف ایک مہم شروع کروا دی گئی۔ بریگیڈیئر محمود جانتے تھے کہ مہم جس حوالے سے چلائی گئی‘ وہ سب جھوٹ تھا۔ ایک دن اس بات کو کلیئر کرنے وہ ڈی جی آئی ایس آئی میجر جنرل محمد ریاض خان کے پاس گئے اور انہیں ساری بات بتائی۔ وہاں موجود جنرل اکرم نے کہا: بالکل ٹھیک ہے وہ چیک کرتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد جنرل اکرم نے بریگیڈیئر محمود کو اپنے گھر بلایا اور کہا کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں‘ لہٰذا وہ ان کا نام نئے ایئرچیف کے لیے ریکمنڈ کر رہے ہیں تاہم چند دن بعد بریگیڈیئر محمود نے اخبار میں پڑھا کہ شمیم احمد کو نیا ایئرچیف بنا دیا گیا ہے۔بعد میں بریگیڈیئر محمود نے جنرل اکرم سے پوچھا کہ یہ سب کیسے ہوا؟ جنرل اکرم نے بریگیڈیئر صاحب کو کہا کہ انہیں الزام نہ دیں‘ انہوں نے صدرالدین کا نام کلیئر کر دیا تھا لیکن میاں طفیل محمد نے جنرل ضیا پر دبائو ڈال کر اپنا بندہ ایئرچیف لگوا لیا۔ بریگیڈیئر محمود لکھتے ہیں کہ یہ جنرل ضیا کا مخصوص انداز تھا کہ

انہوں نے اپنے ڈی جی آئی ایس آئی کی رپورٹ یا نام کو اہمیت نہیں دی بلکہ جو نام انہیں دوسرے حوالے سے دیا گیا اسے ایئر چیف بنا دیا تاکہ جماعت ان کے اقتدار کو سپورٹ کرتی رہے۔انہی دنوں بریگیڈیئر محمود نے اخبار میں پڑھا کہ اتفاق فاؤنڈری‘ جسے بھٹو نے قومیا لیا تھا‘ شریف خاندان کو واپس کر دی گئی ہے۔ اس وقت کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ صرف ایک انڈسٹری شریف خاندان ہی کو کیوں واپس کی گئی ہے‘ اگر کوئی پالیسی بنائی گئی ہے تو سب کو ان کی فیکٹریاں واپس ملنی چاہئے تھیں‘ صرف ایک خاندان کے لیے کیوں یہ پالیسی بنی تھی؟جلد ہی بریگیڈیئر محمود کو اس کا جواب بھی مل گیا۔ ایک دن بریگیڈیئر محمود کے سسر اپنے فرسٹ کزن سی ایم لطیف صاحب کے ہمراہ آئے اور کہا: اگر ممکن ہو تو ان کی کچھ مدد کریں۔ وہ بٹالہ انجینئرنگ کمپنی کے مالک تھے جس کو بیکو کہا جاتا تھا‘ اور جسے بھٹو دور میں قومیا لیا گیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ بریگیڈیئر محمود لیفٹیننٹ جنرل سعید قادر کو کہیں کہ وہ انہیں بھی ان کی کمپنی اسی طرح واپس کر دیں جیسے انہوں نے اتفاق فاؤنڈری واپس کر دی تھی۔ بریگیڈیئر محمود نے مدد کا وعدہ کر لیا۔ اگلے دن بریگیڈیئر محمود جنرل سعید قادر سے ملنے جی ایچ کیو گئے جو ان معاملات کو دیکھ رہے تھے اور ان سے درخواست کی۔ اس پر جنرل قادر نے کہا کہ بیکو کے خلاف 40 کروڑ روپے کے نقصانات واجب الادا تھے‘ وہ ان کی ذمہ داری اٹھا لیں اور ساتھ میں دو ہزار ورکرز بھی ہیں۔

کمپنی انہیں نوکری سے نہیں نکالے گی۔ اگر بیکو کی انتظامیہ ان شرائط پر تیار ہو جائے تو وہ فیکٹری کو پرائیویٹ کر دیں گے۔ اس پر بریگیڈیئر محمود نے لطیف صاحب کو فون کیا اور انہیں پوری بات بتائی۔ یہ سن کر لطیف صاحب نے قہقہہ لگایا اور کہا: جنرل سعید قادر نے آپ کو بیوقوف بنایا ہے۔ یہ سن کر بریگیڈیئرمحمود اَپ سیٹ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی اس بات کا کیا مقصد ہے؟ اس پر لطیف صاحب نے کہا: آپ کو علم ہے کہ کن شرائط پر اتفاق فاؤنڈری کو دوبارہ شریف خاندان حوالے کیا گیا ہے؟ اس پر بریگیڈیئر محمود نے جواب دیا کہ نہیں‘ مجھے علم نہیں ہے۔ اس پر لطیف صاحب نے کہا: اچھا میں آپ کو بتاتا ہوں‘ اتفاق فاؤنڈری پر بھی چالیس کروڑ روپے کے نقصانات واجب الادا تھے اور ان کے پاس بھی دو ہزار ورک فورس تھی۔ ان کے کیس میں جنرل ضیا کی حکومت نے چالیس کروڑ روپے بھی معاف کر دیے تھے‘ دو ہزار ملازمین بھی نوکری سے برطرف کر دیے گئے اور شریف خاندان کو فیکٹری کلیئر کر کے دی گئی بلکہ الٹا اتفاق فاؤنڈری کو حکومت کی طرف سے چالیس کروڑ روپے کی گرانٹ بھی دی گئی۔یہ سن کر بریگیڈیئر محمود حیران ہوئے اور اگلے دن وہ جنرل سعید قادر سے دوبارہ ملنے گئے اور ان کے دفتر میں ان سے شدید احتجاج کیا کہ انہوں نے بیکو کمپنی کے معاملے پر کیوں دُہرا معیار اپنایا؟ ایک پالیسی ایک فیکٹری کے لیے اور دوسری پالیسی دوسری فیکٹری کے لیے کیوں؟ یہ سن کر جنرل سعید قادر بولے: مجھ سے آپ کیوں ناراض ہو رہے ہیں‘ آپ ایک کام کریں‘ آپ جن کی سفارش کر رہے ہیں‘ لطیف صاحب کی‘ انہیں کہیں کہ وہ اپنے داماد وحید صاحب کو کہیں جو پاکستانی سفیر ہیں کہ وہ جا کر جنرل ضیا سے مل لیں۔ جنرل سعید قادر نے کہا: وحید صاحب دراصل جنرل ضیا اور ان کی بیگم صاحبہ کے فرسٹ کزن ہیں‘ انہیں کہیں کہ وہ جنرل ضیا سے انہیں فون کرا دیں یا ہدایات دلوا دیں تو وہ فوراً وہی ڈیل انہیں بھی دے دیں گے جو انہوں نے اتفاق فاؤنڈری کو دی۔ جنرل صاحب نے کہا: آپ کیا سمجھتے ہیں جو غیر معمولی رعایتیں میں نے اتفاق فاؤنڈری کو دی ہیں وہ میں نے خود دی ہیں؟ جنرل سعید قادر نے شریف خاندان اور جنرل ضیا کے مابین اس انڈرسٹینڈنگ کی مزید تفصیلات بتانا شروع کیں تو بریگیڈیئر محمود کی آنکھیں حیرانی سے کھلتی چلی گئیں۔