جنوبی پنجاب والوں نے بلاول کے بعد حمزہ شہباز کو بھی ٹھینگا دکھا دیا ،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بلاول بھٹو زرداری کے بعد حمزہ شہباز ملتان آئے تو یہ راز کھل گیا ملتان ابھی اوپن شہر ہے حمزہ شہباز کو بھی اندازہ ہو گیا ہوگا حالات اب پہلے جیسے ساز گار نہیں، سینکڑوں خالی کرسیوں سے خطاب کرتے ہوئے

ان کے ذہن میں شاید پہلے والے جلسے ضرور آئے ہوں گے جب کارکن اور عوام جوق در جوق چلے آتے تھے۔ تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی تھی، کل ملتان میں بلاول بھٹو زرداری کی بے قدری دیکھی گئی اور آج حمزہ شہباز بھی چند سو لوگوں کا شور ہی دیکھ سکے۔ ارے بھائی سیاست کے حالات بدل گئے ہیں اب کوئی سیاسی جماعت بھی عوام کو متاثر کرنے کے قابل نہیں رہ گئی، دھوکے پر دھوکہ دیئے جاؤ گے تو ایسا ہی ہوگا۔ حمزہ شہباز چار روزہ دورے پر جنوبی پنجاب آئے ہوئے ہیں۔ پہلا پڑاؤ خانیوال میں کیا پھر ملتان آ گئے جہاں ورکرز کنونشن رکھا گیا تھا۔ منتظمین کو امید تھی سڑک پر لگایا گیا پنڈال بھر جائے گا، کرسیاں کچھ زیادہ ہی لگا دیں۔ تاکہ اسٹیج سے تو نظر آئے دور تک قمقموں کی روشنیاں ہیں، مگر سب نے دیکھا اسٹیج پر لوگ زیادہ تھے۔ پنڈال خالی خالی نظر آ رہا تھا۔ ہاں یہ بات دوسری ہے اگر مریم نواز ملتان آئی ہوتیں تو یہ پنڈال ضرور کھچا کھچ بھر گیا ہوتا، تو کیا مسلم لیگ (ن) کے اندر واقعی کوئی ایسی کشمکش موجود ہے جو ایک دوسرے کو آگے نہیں آنے دے رہی اور نقصان پارٹی کا ہور ہا ہے۔ باتیں تو حمزہ شہباز نے بھی نوازشریف کا نام لے کر بہت کیں مگر ان میں وہ دم نہیں تھا جو مریم نواز کی باتوں میں ہوتا ہے۔ بیانیہ اب ایک ہی ہے جو نوازشریف دے چکے ہیں اس بیانیئے کے بغیر کی جانے والی باتیں اب خود مسلم لیگی کارکنوں کو بھی پھسپھسی لگتی ہیں۔

سوال یہ ہے حمزہ شہباز کو جنوبی پنجاب کے دورے پر کیوں آنا پڑا ہے۔ سیدھا سا جواب یہ ہے بلاول بھٹو کے سات روزہ دورے پر مسلم لیگ (ن) کے کسی رہنما کا دورہ تو بنتا ہی تھا جو اب تو یہ تھا کہ مریم نواز دورے پر آتیں، مگر شاید کسی مفاہمت کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا حمزہ شہباز کو دورے پر بھیجا جائے، حمزہ شہباز بلاول بھٹو زرداری کے ہم پلہ سیاستدان نہیں ہیں۔ بلاول اپنی پارٹی کے چیئرمین ہیں جبکہ حمزہ شہباز صرف پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ہیں، وہ شہباز شریف کے بیٹے ہیں جو پارٹی کے صدر ہیں مگر سب جانتے ہیں سکہ اب بھی مسلم لیگ (ن) پر نوازشریف کا چلتا ہے اور انہی کی بدولت یہ سکہ مریم نواز استعمال کر رہی ہیں۔ شاید حمزہ شہباز یہ جاننے کے لئے جنوبی پنجاب آئے ہیں کہ پارٹی میں پہلے والا دم خم موجود ہے یا نہیں تو اس کا اندازہ انہیں ملتان کے دورے سے ہو گیا ہوگا۔ ملتان کے وہ پارٹی رہنما جو پچھلے تین برسوں سے سوئے ہوئے تھے اور انہوں نے عوامی مسائل پر عوام کے ساتھ کبھی اظہار یکجہتی نہیں کیا تھا، حمزہ شہباز کو شکل دکھانے کے لئے ایک دوسرے کو دھکے دیتے رہے۔ ایسے لوگوں سے پارٹی کے تن بے جان میں جان نہیں ڈالی جا سکتی۔ حمزہ شہباز نے بلا شبہ ورکرز کنونشن سے ایک جوشیلا خطاب کیا، مگر اس میں صرف ایک ہی نکتہ تھا عمران نیازی کو اٹھا کے باہر پھینکنا ہے۔ کیسے پھینکنا ہے، اگر حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کرنی ہے

تو اسے پھینکنے کی بات کیسے کی جا سکتی ہے۔ اس کا فیصلہ تو آئندہ الیکشن میں ہوگا۔ حمزہ شہباز تو اپنی باتوں سے حکومت کو پورا وقت دیتے نظر آئے۔ اُدھر مریم نواز تو یہ نہیں کہتیں، وہ تو حکومت کو ایک دن دینے کے لئے تیار نہیں اور کارکنوں کو بار بار کہتی ہیں الیکشن کی تیاری کریں کسی وقت بھی انتخابات ہو سکتے ہیں۔یہ بات تو پہلے بھی کہی جا چکی ہے اگلا سیاسی الیکشن درحقیقت جنوبی پنجاب کے میدان میں لڑا جائے گا۔ یہی وہ خطہ ہے جس نے ابھی فیصلے کرنے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اسے اپنے حق میں رام کرنے کی کوششیں کر کے جا چکے ہیں، ابھی اس کا موڈ بتا رہا ہے کسی کے پلڑے میں وزن ڈالنے کو تیار نہیں، اب حمزہ شہباز آئے ہیں جس طرح بلاول بھٹو کے آنے سے پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں تھوڑی سی زندگی کی رمق پیدا ہوئی تھی اسی طرح حمزہ شہباز کے آنے سے مسلم لیگ (ن) کی گرد جھڑی ہے، پچھلے تین برسوں کا جمود ٹوٹا ہے پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کے لئے مریم نواز ملتان آئی تھیں تو ایک وقتی ہلچل ضرور مچی تھی۔ مگر پیچھے کوئی ایسا سلسلہ نہیں تھا جو پارٹی کو متحرک رکھتا، میں نے انہی کالموں میں کہا تھا، مسلم لیگ (ن) جنوبی پنجاب کو تین برسوں سے نظر انداز کئے ہوئے ہے۔ شہباز شریف نے کبھی اس عرصے میں یہاں کا دورہ نہیں کیا۔ حالانکہ پارٹی کارکنوں کو بے دلی سے بچانے اور لہو گرمانے کے لئے ایسے دورے ضروری ہوتے ہیں

لیکن جس طرح سیاسی جماعتیں انتخابات کے بعد عوام کو بھلا دیتی ہیں، اسی طرح اپنے کارکنوں کو بھی یاد نہیں رکھتیں۔ مسلم لیگ (ن) نے اچھا کیا اس جمود کو توڑا اور حمزہ شہباز کو چار روزہ دورے پر بھیجا۔ اس سے پہلے شہباز شریف مختلف ڈویژنوں کے تنظیمی اجلاسوں سے خطاب کر چکے ہیں اور انہوں نے اکثر ڈویژنوں کے عہدیداروں اور ارکانِ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر مایوسی کا اظہار بھی کیا کہ پارٹی کو متحرک نہیں رکھا جا رہا اور عوام سے رابطے منقطع کئے ہوئے ہیں۔یہ حقیقت بھی مسلمہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے مقبولیت کم ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ خود مسلم لیگی قیادت کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے جو ہر جگہ اپنی بے گناہی کے دعوے کرتے ہیں اور یہ جملہ ضرور کہتے ہیں ہم پر ایک پیسے کی چوری ثابت نہیں ہو سکی۔ نوازشریف اگر جم کر پاکستان میں بیٹھتے اور مقدمات کا سامنا کرتے تو مسلم لیگ (ن) کی سیاسی و اخلاقی حیثیت کچھ اور ہوتی۔ وہ علاج کے بہانے لندن گئے تو پھر واپس نہیں آئے۔ انہیں اپنی بے گناہی بالآخر عدالتوں ہی میں ثابت کرنی ہے یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ کوئی غیبی امداد انہیں نا اہل سے اہل کرا دے اور سزا بھی ختم ہو جائے۔ ایسے معجزے کم از کم فی الوقت تو دور دور تک نظر نہیں آتے۔ ہاں وہ اس کا توڑ اپنے بیانیئے سے نکالنے کی کوشش ضرور کر رہے ہیں۔ تاہم اس بیانیئے کی وجہ سے پاکستان میں ان کی جماعت کو دباؤ کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے اس میں دھڑے بندی بھی موجود ہے۔ حمزہ شہباز نے ملتان میں جو باتیں کیں ان سے واضع ہو گیا کہ وہ کم از کم اس بیانیئے کے ساتھ نہیں جس کا نام نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو رکھا ہوا ہے۔ وہ ”ہمیں اقتدار دو“ والے بیانیئے کے حامی ہیں اور اس کے لئے کسی پتلی گلی کی تلاش میں ہیں۔

Comments are closed.