جنگل کے بادشاہ شیر نے دونوں کا جھگڑا کیسے ختم کیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ایک پرانا واقعہ ملاحظہ کیجیے ۔۔ گھوڑے نے کہا کہ۔۔ برخوردار آسمان نیلے رنگ کا ہوتاہے،گدھے کا اصرار تھا کہ آسمان کالا ہوتا ہے۔۔ گھوڑے نے دانت پیستے ہوئے غصے سے کہا کہ۔۔نیلے رنگ کا ہوتا ہے،

کسی سے بھی جاکر تصدیق کرلو۔۔گدھا کہاں ماننے والا تھا۔۔ دونوں میں کافی بحث ہوئی۔۔آخرکار گھوڑے نے کہا کہ چلو جنگل کے بادشاہ شیر سے پوچھتے ہیں،اس کی بات فائنل ہو گی۔۔بادشاہ سلامت نے دونوں کی بات سُنی اور حکم دیا کہ گھوڑے کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا جائے، گھوڑے نے کہا کہ بادشاہ سلامت میں نے کوئی غلط بات تو نہیں کی،آسمان تو نیلا ہی ہوتا ہے۔۔بادشاہ سلامت نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا۔۔ بات یہ نہیں ہے کہ آسمان نیلا ہوتا ہے یا کالا؟؟ تمہار اجرم یہ ہے کہ تم ایک گدھے کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہو۔۔واقعہ کی دُم: یہ واقعہ سو فیصدغیر سیاسی ہے ،مہنگائی کو تسلیم نہ کرنے اور آٹا چینی، گھی،مرغی، دودھ، دوائیں اور ہر چیز مہنگی ہونے، بدعنوانی اور غربت میں اضافے کے باوجود خوشی سے ڈوھلکیاں بجانے کو محض اتفاق سمجھا جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.