جنہوں نے مشرف حکومت گرائی تھی وہی عمران خان کو بھی رخصت کروائیں گے ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خلیل احمد نینی تال والا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جوں جوں وقت گزر رہا ہے عمران خان کے ستارے گردش میں آرہے ہیں اور یہ سب کچھ باہر سے نہیں، خود پی ٹی آئی کے ناعاقبت اندیش، جو مشرف حکومت کو گرانے کے ذمہ دار تھے،

وہی سیاسی غلطیاں عمران خان سے کروا رہے ہیں۔ خود تو ڈٹ کر کھا پی رہے ہیں مگر حامی اور کندھا دینے والے ان کو بُرے لگ رہے ہیں۔ ایک طرف لانے والوں کو نظر انداز کر رہے ہیں، ان کی مرضی کا خیال رکھنے کے بجائے ان سے دو دو ہاتھ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو دوسری جانب ق لیگ اور ایم کیو ایم سے بےرُخی برت رہے ہیں۔ جب ان کے ووٹوں کی ضرورت پڑتی ہے تو ان کو منا کر لے آتے ہیں مگر اس مرتبہ ان سب نے پی ٹی آئی کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اپوزیشن سے مل کر پی ٹی آئی کا دھڑن تختہ کرنے ہی والے تھے کہ آرڈر آگیا، خبردار ابھی وقت نہیں آیا ، جائو اور چپ چاپ حمایت میں ووٹ ڈال آئو ورنہ… آگے سب سمجھدار ہیں اور اس طرح این آر او نہ دینے والے عمران خان سے جبری این آر او دلوا دیا گیا۔ رہی سہی کسر نئی دریافت EVM نے پوری کردی، اس طرح گنتی پوری ہو گئی اور اپوزیشن منہ دیکھتی رہ گئی۔ایسا محسوس ہوا پی ٹی آئی کو آئندہ بھی جتوانے کا سائنٹفک طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔ یہ فی الحال واضح نہیں ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کس کس کو نتھی کیا جائے گا۔ فی الحال پی ڈی ایم میں دراڑیں تو ڈلوا دی گئیں ہیں، پی پی پی کے ورکنگ صدر آصف علی زرداری پی ڈی ایم کا مشروط ساتھ دینے کا وعدہ تو کر رہے ہیں

مگر مولانا فضل الرحمٰن ان کے ماضی کے رویوں سے خوش نہیں ہیں۔ مسلم لیگ ن میں دراڑیں ڈل چکی ہیں۔ سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کا بیان بھی گو کہ بقول اعترازاحسن مشکوک ہے کیونکہ موصوف میاں نواز شریف کی پارٹی کے نہ صرف عہدیدار رہ چکے ہیں بلکہ خود ان کے وکیل کی حیثیت سے بھی ان کے مقدمے لڑ چکے ہیں۔ دوسری طرف اگلے الیکشن کے ایسے مہرے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی بھی ایک کلپ وائرل ہوئی ہے جس میں الطاف حسین نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ خفیہ ہاتھ ان سے ملاقات کر کے گئے ہیں اور وہ اپنا معافی نامہ اردو انگریزی میں دے چکے ہیں کہ جو الفاظ انہوں نے پاکستان کے خلاف قوم کی مخدوش حالت دیکھ کر کہے تھے، اس پر وہ شرمندہ ہیں اور غیر مشروط معافی کے طلب گار ہیں جس سے ایم کیو ایم کے دھڑوں میں بھی بے چینی پھیل گئی ہے۔عوام مہنگائی کے ہاتھوں پر یشان ہیںاورپی ٹی آئی میں بھی دھڑے بازی شروع ہو چکی ہے ایک دھڑا پشاور، دوسرا ملتان تیسرا لاہور کا بنا ہوا ہے لیکن عمران خان ان دھڑوں کو یکجا کرنے کے بجائے اپوزیشن کے پیچھے گزشتہ ساڑھے 3سال سے پڑے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ ابھی تک کوئی نہیں نکلا نہ ہی کوئی ریکوری ہوئی اور نہ ہی کسی کو کوئی سزا۔ عوام پی ٹی آئی حکومت کی مدت ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری صاحب نے بھی اب توکہہ دیا ہے کہ یہ حکومت اب زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ قارئین جب سے موجودہ حکومت آئی ہے جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں اس کو 90فیصدمیں شکست ہوئی ہے۔ اب جو کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن ہو ئے ہیں یہ الیکشن حکومتی جماعت کیلئے لمحہ فکریہ ہیں اور مستقبل کا واضح تعین کرتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی تاویلیں اور جواز پیش کئے جائیں مگر سچ یہی ہے کہ تبدیلی سرکار جیت کا سہرا سجانے میں اتنی مگن رہی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ عوام نئے مسیحا کی تلاش میں بھٹک چکے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہو چکا ہے کہ جمہوریت کے نام پر وطن عزیز ایسے سیاستدانوں کے نرغے میں ہے جنہیں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔