جن سرکاری افسروں نے شہباز شریف کے سال کئی سال کام کیا ، آج وہ انکے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ن سے ش تو نہیں نکلی جس کی شیخ رشید صاحب کو بہت امید تھی اور جس کے لئے سر توڑ کوشش بھی گئی لیکن حمزہ شہباز کوئی دو سال قید میں گزارنے کے بعد ضمانت پر رہا ہو گئے۔

شہباز شریف جنہیں نیب نے تیسری مرتبہ قید میں بھیجا، جس کی بظاہر وجہ تو چوری مالی بدعنوانی کے کیس رہے لیکن اصل وجہ وہی ہے جس کی شیخ رشید بارہا گوائی دے چکے۔اگر مسلم لیگ کی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی ن سے ش نکل جاتی تو شہباز شریف کو کسی مقدمے کا سامنا کرنا پڑتا اور نہ ہی اُن کو بار بار نیب کے ذریعے قید میں بھیجا جاتا۔ 2018 کے الیکشن سے پہلے شہباز شریف کی ایک اہم شخصیت کے ساتھ میٹنگ ہوئی جس میں شہباز شریف کی مفاہمت کی پالیسی کی تعریف کی گئی جس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اُن کا اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے اداروں کے ساتھ اختلاف کی صورت میں روا رکھے جانے والے رویے پر اصولی اختلاف ہے جسے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں بھائی Good Cop, Bad Cop کھیل رہے ہیں۔اس پر شہباز شریف سے کہا گیا کہ وہ اپنے بڑے بھائی کو چھوڑ دیں جس پر اُنہوں نے کہا یہ کام میں نہیں کر سکتا۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد ہی شہباز شریف کو پہلی بار نیب نے ایک مقدمہ میں گرفتار کر لیا اور یہ سلسلہ اُن کی تیسری بار گرفتاری تک جاری رہا۔ شہباز شریف اب بھی قید میں ہیں لیکن ن سے ش کے نکلنے کا خواب ابھی تک پورا نہیں ہوا۔جو مقدمات اُن کے خلاف بنائے گئے، اُن کے متعلق جو کچھ لاہور ہائی کورٹ نے اُن کی یا شریک ملزمان کی ضماتیں لیتے ہوئے کہا، اُس سے یہ ظاہر ہوتا ہے

کہ ہمیشہ کی طرح نیب نے یہ کیس کچھ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے بنائے ورنہ بڑے بڑے الزام لگائے گئے، کبھی کہا گیا کہ لاہور، پنڈی اور ملتان میٹرو میں اربوں کھا گئے، اورنج لائن تو بنائی ہی اربوں کے کمیشن کے لئے گئی، آشیانہ ہائوسنگ اسکیم، صاف پانی اسکیموں میں بھی اربوں کھا گئے لیکن کسی ایک کیس میں بھی نیب کوئی ثبوت نہ لا سکا اور لاہور ہائی کورٹ نے چند ایک کیسوں میں یہاں تک کہہ دیا کہ بادی النظر میں نیب نے وہ کیس بدنیتی میں بنائے۔میری ذاتی معلومات اور تحقیق کے مطابق نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف اگر کوئی کیس بنتا ہے تو وہ منی لانڈرنگ کا ہے لیکن یہ بنیادی طور پر ٹیکس اور ایف بی آر کا معاملہ ہے جہاں بڑے بڑے کاروباری افراد کی طرح شریف فیملی نے بھی اپنے کاروبار سے پیسہ بہت کمایا لیکن ٹیکس کم دیا جس کے لئے ٹی ٹی، حوالہ اور ہنڈی کے ساتھ ساتھ باہر سے Remittancesکے ذرائع استعال کرکے بلیک منی کو وائٹ کیا جاتا ہے۔تقریباً ہر حکومت نے بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لئے قانونی طریقے بھی نکالے اور اب بھی تعمیراتی انڈسٹری کو جو ایمنسٹی دی گئی ہے، اُس کا مقصد بلیک اکانومی کو وائٹ کرنا ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں اب شہباز شریف کے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے؟اس بارے میں تو بعد میں ہی پتا چلے گا لیکن نیب کے دائرہ کار میں وہ منی لانڈرنگ کے کیس آتے ہیں جن میں نیب کے پاس یہ ثبوت

موجود ہو کہ منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کیا گیا پیسہ غیر قانونی ذرائع سے کمایا گیا تھا یعنی کمیشن اور کک بیکس کے ذریعے کمایا گیا پیسہ لانڈر کیا گیا۔ ابھی تک نیب کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کر سکی کہ شہباز شریف نے کسی بھی حکومتی ٹھیکے سے کوئی کمیشن یا کک بیکس لئے۔اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے کاروباری افراد کی طرح کسی حکمران کو جس کا اپنا کوئی کاروبار ہو، کو اپنی بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لئے قانونی ذرائع بھی استعمال نہیں کرنے چاہئیں بلکہ حکمرانوں کی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سب ٹیکس دیں لیکن اس کے باوجود اس قسم کی منی لانڈرنگ کا معاملہ ایف بی آر کے دائرہ کار میں آتا ہے۔جن سرکاری افسروں نے شہباز شریف کے قریب کام کیا، اُن میں سے کچھ کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ اُن افسروں کا کہنا ہے کہ کمیشن، کک بیکس اور بدعنوانی کا کوئی الزام شہباز شریف کے معاملہ میں اُن کی نظر میں درست نہیں۔ سب اس بات پر متفق ہیں کہ شہباز شریف جتنا محنتی ایڈمنسٹریٹر اُنہوں نے کبھی نہیں دیکھا لیکن ن سے ش نکالنے والوں کو کون سمجھائے کہ سیاسی جماعتوں میں سے نئی سیاسی جماعتیں نکالنے کا عمل بارہا دہرایا گیا مگر کامیاب نہیں ہوا۔وقتی طور پر کنگز پارٹیاں بھی بنا دی جاتی ہیں اور پی پی پی سے پیٹریاٹ کو بھی جنم دلوا دیا جاتا ہے لیکن ایسے پیدا ہونے والی سیاسی جماعتیں کچھ ہی عرصہ میں ہوا میں تحلیل ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.