جن صاحب نے ساری زندگی چائے کا ایک کپ اپنی جیب سے خرید کر نہیں پیا وہ مہنگائی میں پستے عوام کا کیا احساس کریں گے ۔۔۔؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورے کے کینسل ہونے کے بعد جو کچھ ہورہا ہے ہمارے سامنے ہے۔ جیسے پہلے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کیلئے Punching Bagبن چکے ہیں۔ دونوں جب بھی کسی ناکامی یا ایشو سے نبردآزما ہوتے ہیں

تو ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے ہیں اور عوام اور میڈیا بھی بھیڑ بکریوں کی طرح اسی سمت چل پڑتے ہیں۔ اب پاکستان کہہ رہا ہے کہ نیوزی لینڈ کے دورے کی معطلی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جہاں سے ایک جعلی ای میل کی گئی۔ اندازہ کریں کہ پورے پاکستان اور ہماری حکومت کی اتنی ساکھ ہے کہ ایک جعلی ای میل اس پر بھاری نکلی؟ ہم کابل کی فتح پر اتنے پرجوش تھے کہ ہمیں پتہ ہی نہ چلا کہ کب دنیا نے ہمیں بھی کابل اور کابل کے حکمرانوں کے مقام پر لاکھڑا کیا۔ جتنی ساکھ اس وقت کابل کی ہے اتنی ہی ہماری رہ گئی ہے۔ جیسے دنیا افغانستان جا کر کرکٹ کھیلنے کو تیار نہیں ویسے ہی وہ پاکستان آکر کھیلنے کو بھی تیار نہیں۔ نیوزی لینڈ‘ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیمیں انکاری ہو گئیں۔ ہم نے سوچ لیا ہے کہ ہم پوری دنیا کو چھوڑ سکتے ہیں لیکن افغانستان کو اپنے قریب تر رکھنے کے جنون سے پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے اس کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ اب اس وقت افغانستان گندم‘ آٹا‘ چینی‘ سب کچھ پاکستان سے جارہا ہے اور پاکستان خود اربوں ڈالرز لگا کر گندم اور چینی باہر سے خرید رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ پاکستان کے پاس ڈالرز تیزی سے کم ہوئے ہیں اور ڈالر ایک سو ستر روپے تک پہنچ گیا ہے۔ خرچے پورے کرنے کیلئے بجلی‘ گیس اور پٹرول کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد بڑھائی جارہی ہیں۔ اس وقت گیس

‘ بجلی‘ پٹرول اور ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔اب ایسے حکمرانوں کو عوام کا کیا احساس ہوسکتا ہے جنہوں نے عمر بھر چائے کا ایک کپ اپنی جیب سے پیسے دے کر نہ پیا ہو ‘ گھر کا کچن چلانے کیلئے خریداری کرنا تو دور کی بات ہے۔ ایک قابلِ احترام سرکاری افسر بتانے لگے کہ دو سال پہلے تک ان کے والدہ کی ادویات پانچ ہزار روپے میں آتی تھیں اب پندرہ ہزار میں آتی ہیں اور ان کی اماں کہتی ہیں پتر تیری وزیراعظم تک کوئی رسائی نہیں کہ اسے سمجھائو کہ عوام کی کیا حالت ہوگئی ہے؟ عوام بجلی‘ گیس‘ پٹرول اور ادویات کی قیمتیں پوری کرتے کرتے بے حال ہوچکے ہیں۔ہم اپنی عالمی ساکھ کے بگڑنے سے نہ پریشان ہیں‘ نہ ڈالر کا ریٹ ہمیں تنگ کررہا ہے‘ نہ پٹرول کی قیمتیں نہ بجلی گیس کے بلز ہماری ترجیحات ہیں۔ خوشی بس یہ ہے کہ افغانستان کو ہم نے بالآخر پانچواں صوبہ بنا کر ہی دم لیا۔مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کس کی بدقسمتی ہے کہ افغانستان‘ بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں اور ہمسائے بھی ایسے جن کے سینگ چوبیس گھنٹے ایک دوسرے کے ساتھ پھنسے رہتے ہیں۔اس خطے کی نسلوں کی قسمت میں ایک دوسرے کے خلاف دن رات نفرت کا پرچار‘ ٹی وی چینلز پرایک دوسرے پر چیخنا چلانا‘ خود کو نیک اور دوسرے کو شیطان ثابت کرنا‘ جنون کو ہوا دینا اور سوشل میڈیا پر مغلطات اپ لوڈ کرنا ہے۔

Comments are closed.