جواب میں جگت باز فیصل آبادیے نے کیا جواب دیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔تیس سال قبل جب پہلی بار فیصل آباد جانا ہوا تھا تو ہمیں اس شہر کے بارے میں ککھ بھی معلومات نہیں تھی،لیکن اب ہمیں اس شہر سے متعلق تازہ بہ تازہ اپ ڈیٹس ملتی رہتی ہیں،

اس شہر کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہاں ہر بندہ جگت باز ہے۔ ہمارے ایک دوست پچھلے دنوں فیصل آباد کا چکر لگاکے آئے تو واپسی پر ہمیں سفر کی دلچسپ روداد بھی سنائی، جو واقعات ہمارے ذہن میں رہ گئے وہ آپ سے شیئر کرلیتے ہیں۔۔ دوست کہنے لگا۔۔فیصل آباد میں گھنٹہ گھر کے قریب جہاں سے آٹھ بازاروں کی جانب راستہ نکلتا ہے، ہم نے ایک رکشے والے سے کہا، گھنٹہ گھر جانے کا کتنا کرایہ ہے؟ اس نے ڈھائی سو روپے بتائے، ہم نے کہا، بھائی یہ سامنے تو گھنٹہ گھر کھڑا ہے، رکشے والا کہنے لگا، ویرے دھیان سے ،کہیں ہاتھ ہی نہ لگ جائے۔۔خیر میں رکشے میں بیٹھ گیا، رکشہ میں ایک آدمی بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا میں نے کہا ،بھائی یہ مجھے دے دو تم نیا لگا لو،وہ بولا، کیوں؟ اینوں سال ہوگیا؟؟۔۔پھر سارا سفر خاموشی میں گزرا۔۔ میزبان کے گھر پہنچے،فریش ہونے کیلئے باتھ روم کی طرف گئے اور میزبان سے پوچھا بھائی پانی گرم ہے؟اس نے جواب میں کہا، کیوں ویرے انڈے ابالنے ہیں؟؟ شادی کی تقریب میں شرکت کی۔۔کھانا شروع ہوا،دلہا نے پلیٹ میں ٹشوپیپر دیکھ کر سوچا،شاید یہ بھی کوئی کھانے کی چیز ہوگی،اس نے جیسے ہی ایک ٹشو اٹھا کر منہ میں رکھنے کی کوشش کی، اس کے سارے دوست بیک وقت چلائے۔۔اوئے چٹنی لاکے کھاویں، پھکا ای۔۔جب واپس آناتھا تو سوچا ہسپتال میں اپنے ڈاکٹر دوست سے ملتے جائیں، اتفاق سے پھر اک رکشہ والا ملا ،اس سے پوچھا بھائی الائیڈ ہسپتال جانا ہے۔۔وہ بولا۔۔ کسی ٹرک وچ وج آپے الایڈ چھوڑ آسن۔۔۔ریلوے سٹیشن جاناتھا، رکشے والوں کی جملے بازی سن کر لاری اڈے پہنچا ،کنڈیکٹر سے پوچھا،بس میں سیٹ ہے؟؟ وہ بولا، نہیں ویرے اندر دریاں وچھائیاں نے۔۔میں نے پھر پوچھا، جگہ ہے۔۔ کہنے لگا۔۔ جگہ بیچ کے تے گڈی لی آ۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔شادیوں کا سیزن ہے، شادیوں کی تقاریب صرف کنوارے ہی انجوائے کرتے ہیں، شادی شدہ بے چارے تو اس غبارے والے کو تلاش کرتے رہتے ہیں جن سے دوسروں کے بچے غبارے خریدخرید کرلارہے ہوتے ہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.