جواب میں سنتا سنگھ نے کیا کہا ؟ ایک دلچسپ سیاسی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلیں جی پیپلز پارٹی کو گالاں کاڈنے کا وقت آگیا ہے،بابا بوٹا یا جیتتا ہے یا گالاں کاڈتا ہے،اسے شکست قبول نہیں اور ویسے بھی بابا بوٹا کے سامنے پورا پاکستانی نظام ”کانا“ہے۔ اسے پتہ ہے کہ دل ول کیسے لیا جاتا ہے

اور وہ ترکیب ورکیب سب جانتا ہے۔این اے 249میں پی ٹی آئی کے ساتھ جو ہوا میرا یقین ہے کہ اس سے پی ٹی آئی کوئی سبق نہیں سیکھے گی۔سبق سیکھنے کے لئے آپ کے پاس کوئی قاعدہ،کوئی کتاب کا ہوناضروری ہے۔جبکہ پی ٹی آئی کسی قاعدہ،کتاب کے بغیر انہے واہ چلے جا رہی ہے۔وہ تو کپتان کی قسمت اتنی زبردست ہے کہ ہر داغ ”برائیٹ“ رائیٹ کر دیتا ہے۔کراچی الیکشن میں عبرتناک شکست کے باوجود کپتان خوش ہے۔لیکن میں کہے دیتا ہوں آپ عمران خان کو اتنا ایزی نہ لیں وہ تو سادہ مان نہیں غصے میں تو اس کو پکڑنا ویسے ہی مشکل ہو جائے گا۔یہ بھی کہے دیتا ہوں کہ وہ ٹرک پے بیٹھا زرداری اور نواز شریف سے زیادہ خطرناک ہو گا۔لہٰذا مسافر اپنے سامان کی خود حفاظت کرے ساڈا ذمہ ”توش پوش“پی پی اور ن لیگ کی سیاسی سوچ تقریباً 1990 ء کے بوڑہ تھلے آ کھڑی ہو چکی ہے۔بی بی کا بیٹا اور میاں کی بیٹی آستین چڑھا چکے،لفظوں کی بارش کے بعد بس”ٹکرو ٹکر ی“ہونے والے ہیں۔سنتا سنگھ بیوی کی تازہ قبر پر بیٹھا پنکھا جھل رہا تھا،کسی نے پوچھا تو بولا مرنے والی کہہ گئی تھی کہ دوسری شادی کرنے کے لئے میری قبر کی مٹی خشک ضرور ہو لینے دینا،ہن میں پکھے نال قبر خشک کر رہا ہوں۔ہائے ہائے مریم بی بی اور بلاول بابے نے تو پی ڈی ایم کی قبر کی مٹی بھی خشک ہونے کا انتظار نہیں کیا۔افسوس بلکہ صد افسوس گدی نشین،اعلیٰ حضرت فضل الرحمن بھی کچھ نہ کر سکے۔

سنتا سنگھ سگریٹ پی رہاتھا گاؤں کے پیر صاحب نے غصے سے کہا تمہارے روزے نہیں ہوتے،سنتا سنگھ ہاتھ جوڑ کر بولا مولا خوش رکھے روزے تو آپ کے ہوتے ہیں ساڈیاں تے بس قبراں ہوندیاں نیں۔چلیں غریب آدمی کا کیا ہے وہ جیئے یا چل بسے ،یہ ملک،یہ دھرتی،یہ نظام سیاسی مزاروں کے گدی نشینوں اور مجاوروں کا ہے۔بقول جسٹس قاسم صاحب کے اگر سی سی پی او اور آئی جی پنجاب کے پانی ہے تو عدالت میں حاضر ہوں۔میں تو کہتا ہوں ملک کے تمام اداروں کے ذمہ داروں کا ”پانی“چیک کر لینا چاہیے یہ ”واٹر فنڈا“ایک بار ہو ہی جائے۔اس واٹر فنڈا میں انصاف کی عمارتوں سے لیکر پنڈی،اسلام آباد کی بلڈنگوں میں بیٹھنے والے کسی فرد کو نہ بخشا جائے۔فیصلہ کرنے والوں سے لے کر فیصلہ سننے والوں سب کا پانی چیک کیا جائے۔میرا یقین ہے کہ اگر ایسا کبھی ہوا تو بہت سوں کی شلواریں گیلی نظر آئیں گی۔بنتا سنگھ اپنی بیگم کے ساتھ بس میں جا رہا تھا،کنڈیکٹر نے مینار پاکستان سے زرا آگے آکر آواز لگائی گندے نالے والے اتر جائیں،بنتا جلدی سے اتر گیا،بیگم نے کہا پر ہم نے تو آگے جانا تھا۔بنتا بولا،پہلے یہ بتا کنڈیکٹر کو کیسے پتہ چلا میرا نالہ گندہ ہے؟۔بنتا سنگھ بھیا آپ غلط سمجھے وہ گندہ نالہ (مینار پاکستان کے قریب بہنے والا) کہہ رہا تھا۔آپ کا ناڑہ گندہ ہو یا صاف اسے اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔اب ایسی قوم جس کا مزاج ہی گندے ناڑے پہننا ہو بھلا ”ایم ٹی جے“کے ساڑھے پانچ سو والے ناڑے کی فضیلت کیا سمجھے گی۔تقوی،سادگی اور کم منافع کے فلسفے کے دھاگے سے بنے ساڑھے پانچ سو کے ناڑا پہننے کے ثواب کو آپ دو ٹکے کے لوگ کیا جانیں۔آپ کیا جانیں کہ یہ ناڑا گنہگار شلواروں اور پاجاموں کے ایسے جپھا ڈالتا ہے جیسے ماں اپنے شرارتی بچوں کو۔لہذٰا میری پیاری قوم اپنی پاٹی پرانی شلواروں میں رسیوں،سیبوں کے ناڑے پانے والی قو م،بچے کے نیکر سے بچنے والے الاسٹک کو ناڑے کی جگہ استعمال کرنے والے لوگوں آپ بس ٹی وی پر تقوی کے بھاشنوں کو انجوائے کرو باقی دڑ وٹ جاؤ۔پوری یونین نے پاکستان کے خلاف قرار داد منظور کر لی ہے جس میں جی ایس پی پلس پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔چلو جی انہیں ایک پیغام بھیجو کہ یا قرار داد واپس لو ورنہ ”آیا جے غوری“جاؤ دوڑ جاؤ“۔چلو بھیجو ہم نے نہیں دینے تمہارے پیسے،ہمیں نہیں چاہئے تمہارا جی ایس پی پلس۔ہمارے پاس ہمارے اپنے ایس پی،ڈی ایس پی اور ایس ایس پی ہیں۔وہ تمہیں جب چاہیں لمیاں پا لیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *