جواب میں شیطان نے کیا کہا ۔۔؟ انسانوں کے لیے بڑا سبق

لاہور(ویب ڈیسک) ایک حکایت ہے کہ شیطان کچھ خچروں پر کچھ سامان لادے جا رہا تھا کہ اس کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سامنا ہو گیا۔ پوچھا: کہاں جا رہے ہو اور ان خچروں پر کیا ہے؟ کچھ سامان ہے، بیچنے جا رہا ہوں، شیطان نے جواب دیا۔ پہلے خچر پر کیا ہے؟

شیطان بے جھجک بولا: اس میں ظلم ہے۔ پوچھا گیا: یہ کون خریدے گا؟ ”بادشاہ‘‘ شیطان نے جواب دیا۔ حضر ت عیسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: دوسرے خچر پر کیا ہے؟ اس پر دھوکا ہے اور اسے تاجر خریدیں گے۔ حضر ت عیسیٰ علیہ السلام پوچھتے رہے اورشیطان جواب دیتا رہا۔ تیسرے خچر پر تکبر ہے اور اس کے زیادہ تر خریدار زمیندار ہوتے ہیں۔ چوتھے خچر پر حسد رکھا ہے اور اس کو عالم اور پادری ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں… اس بات پر غور کریں کہ شیطان نے کیوں کہا کہ ظلم کے خریدار بادشاہ ہوتے ہیں؟ ظلم صرف یہ نہیں ہوتا کہ آپ ناحق کسی کی جان لے لیں، کسی یتیم کا مال ہتھیا لیں اور کسی بیوہ کی جائیداد پر قبضہ کر لیں۔ رعایا کی داد رسی نہ کرنا بھی ظلم ہے، روتے کے آنسو نہ پونچھنا بھی بے حسی ہے، وقت پر انصاف نہ کرنا بھی انسانیت کا خون ہے۔ وعدہ خلافی بھی حق تلفی کی سیڑھی پر پہلا قدم ہے۔ کمزور اور مظلوم سے ضد لگانا بھی سینہ زوری ہے۔ میتوں کی بے حرمتی بھی حاکمِ وقت کا جبر ہے۔ اپنے فرائض سے غافل ہونا بھی عوام کا استحصال ہے۔ تاریخِ انسانی کے مطالعے سے ایک بات عیاں ہے کہ مذکورہ بالا سارے کام بادشاہوں کے من پسند مشغلے رہے ہیں۔ ظلم انہیں تسکین دیتا ہے اور ناانصافی راحت بخشتی ہے۔ عوام کی چاہت وقتی ہوتی ہے اور انانیت مستقل۔ فنا کی ساعتیں انہیں بدل سکتی ہیں نہ ماؤں کی چیخ و پکار، بلکتے بچے نہ سسکتی بہنیں۔ بادشاہ رعایا کی زندگیاں قربان کر دیتے ہیں مگر اپنی عزتِ نفس نہیں۔ ظلم کو فوری گلے لگا لیتے ہیں مگر مظلوم کو نہیں۔ عوام دھرنے دیں یا لانگ مارچ کریں، جلسوں کا انعقاد کریں یا جلوسوں کا۔ بھوک ہڑتال کریں یا کچھ اور بادشاہ ہمیشہ اپنی مرضی کرتے ہیں وہ کبھی کسی سے پریشرائز نہیں ہوتے۔ وہ کبھی دہائی دیتے عوام کو دلاسا دینے میں پہل نہیں کرتے۔ 

Comments are closed.