جواب میں معروف شاعر نے صرف ایک جملہ کہا ، وہ کیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اب ایک نیا خطرناک ٹرینڈ پاکستان میں نظر آرہا ہے کہ جن بڑے لوگوں سے عوام نے تربیت لینا تھی اور جو عوام کیلئے رول ماڈلز تھے اُلٹا وہ عوام کی زبان اور مغلطات سے متاثر ہورہے ہیں۔

دنیا کے کسی بھی ملک کے لیڈرز یا حاکم اپنے عوام کے رول ماڈلز ہوتے ہیں وہ عوامی زبان ‘ عوامی ری ایکشن یا عوامی انداز میں گفتگو نہیں کرتے ‘ وہ بدترین حالات میں بھی اپنی شخصیت کو گرنے نہیں دیتے۔ یہ عام رویہ ہے کہ آپ کو کسی نے مغلطات دی تو آپ نے جواباً مغلطات دے دی‘ لیکن جب ملک کا سابق وزیراعظم قومی اسمبلی کے سپیکر کو کہہ دے کہ میں آپ کو جوتا رسید کروں گا تو سمجھ لیں وہ بندہ عام انسان تھا‘ اس قابل نہ تھا کہ بائیس کروڑ عوام میں سے چن کر سربراہ بنایا جاتا۔ وزارت عظمیٰ کے عہدے کا تقاضا کچھ اور تھا ۔بڑے لوگ بڑے مقام پر مشکل سے پہنچے ہوتے ہیں؛ چنانچہ نہ عام بندے کے لیول پر آتے ہیں اور نہ خود کو گراتے ہیں۔ کتنی دیر لگتی ہے بکواس کا جواب بکواس سے دینے میں؟ ہاں جواباً مغلطات نہ دی جائے‘ اس کیلئے بڑے ظرف اور صبر کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ عباسی صاحب برسوں پاور میں رہنے کے باوجود عام عوام کیلئے ایک رول ماڈل نہ بن سکے۔ وہ ان عام لوگوں کے ماڈل نہ بن پائے کہ عوام کو یہ لگتا کہ بندہ ظرف والا ہو تو شاہد خاقان عباسی جیسا ہو۔یاد آیا ایک دفعہ بھارتی شاعر راحت اندوری پر کسی مشاعرے میں کچھ لوگوں نے ہوٹنگ کی‘مغلطات وغیرہ بکیں۔ وہ چند لمحے سنتے رہے پھر مائیک پر ان سے کہا: جہاں میں کھڑا ہوں یہاں پہنچنے میں مجھے چالیس برس لگے ہیں اور جہاں آپ کھڑے ہیں وہاں پہنچنے میں چالیس سکینڈز لگتے ہیں۔ تو کیا مجھے اپنی چالیس برس کی محنت ضائع کر کے آپ کے لیول تک گر جانا چاہئے؟ اب یہ بات کسی کو کون سمجھا سکتا ہے کہ گرنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ مزہ تو تب ہے آپ اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑے رہیں۔شاہد خاقان عباسی کھڑے کیا رہتے الٹا گرے اور گرتے گرتے اپنے ساتھ ملک کے وزیراعظم کے عہدے کا وقار بھی لے بیٹھے ہیں۔

Sharing is caring!

One response to “جواب میں معروف شاعر نے صرف ایک جملہ کہا ، وہ کیا تھا ؟”

  1. Nisar Anjum says:

    یہ بے ہودہ کلچر گالی گلوچ جھوٹے الزامات ہءرہ کے پیدائش کی پارٹی کنجر خان نیازی نے متعارف کروایا ھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *